بھارت میں نوجوانوں کا بڑھتا ہوا اضطراب: جمہوریت، احتساب اور حکمرانی کے لیے ایک اہم آزمائش

[post-views]
[post-views]

Arshad Mahmood Awan

بھارت اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں عوامی بے چینی اور سیاسی اضطراب مسلسل نمایاں ہو رہے ہیں۔ اگرچہ حالیہ احتجاجوں کی ابتدا امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے سے ہوئی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ احتجاج محض تعلیمی مسائل تک محدود نہیں رہے۔ آج یہ تحریک نوجوانوں کی بے روزگاری، حکومتی جوابدہی، ادارہ جاتی کمزوری، مہنگائی اور جمہوری آزادیوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کی علامت بن چکی ہے۔ نئی دہلی سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوان نسل اپنے مستقبل سے متعلق خدشات کو مزید نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں۔

حالیہ بحران کی بنیاد متعدد مسابقتی امتحانات کے مبینہ طور پر سوالیہ پرچے لیک ہونے کے واقعات بنے، جن سے لاکھوں طلبہ کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل متاثر ہوا۔ بھارت میں سرکاری ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے ہونے والے امتحانات لاکھوں نوجوانوں کی امیدوں کا مرکز ہوتے ہیں۔ ایسے میں جب امتحانی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں تو برسوں کی محنت، مالی وسائل اور خواب ایک ہی لمحے میں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

اس صورتحال نے اس وقت مزید سنگین رخ اختیار کیا جب مختلف ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ امتحانی بے ضابطگیوں اور غیر یقینی صورتحال کے باعث متعدد طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، جبکہ کئی افسوسناک خودکشیوں کو بھی اس بحران سے جوڑا گیا۔ ان واقعات نے معاملے کو صرف انتظامی غفلت کا مسئلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک قومی اخلاقی اور سماجی بحران میں تبدیل کر دیا۔ والدین، اساتذہ، طلبہ اور سماجی تنظیموں نے امتحانی نظام کی شفافیت اور ذمہ دار حکام کے احتساب کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

اسی دوران معروف ماہر تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگ چک نے تعلیمی اصلاحات اور احتساب کے مطالبے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی، جس نے اس تحریک کو نئی قوت فراہم کی۔ ان کی پرامن جدوجہد نے ہزاروں نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، کیونکہ بہت سے افراد نے اسے کسی سیاسی جماعت کی مہم کے بجائے انصاف اور شفافیت کی ایک اخلاقی اپیل سمجھا۔ جیسے جیسے عوامی حمایت میں اضافہ ہوا، احتجاج کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔

اس تحریک کو مزید تقویت نوجوانوں کی قیادت میں قائم ہونے والی “کاکروچ جنتا پارٹی” نامی احتجاجی مہم سے ملی، جس نے مختصر وقت میں خود کو ایک نمایاں عوامی تحریک میں تبدیل کر لیا۔ اگرچہ اس نام نے ابتدا میں لوگوں کی توجہ ضرور حاصل کی، لیکن اس تحریک کی اصل طاقت مختلف علاقوں، طبقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک مشترکہ مقصد پر متحد کرنا تھی۔ سماجی ذرائع ابلاغ نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا، جہاں اطلاعات کی ترسیل، احتجاج کی تنظیم اور عوامی رابطوں نے تحریک کو مسلسل وسعت دی۔

احتجاج کے پھیلنے کے ساتھ ہی مظاہرین اور سکیورٹی اداروں کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔ مختلف مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔ متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ ان کارروائیوں کی ویڈیوز اور تصاویر نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی۔ بہت سے مبصرین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے عوامی شکایات کو سننے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی، جس سے عوامی ناراضی مزید بڑھ گئی۔

ان واقعات کے سیاسی اثرات بھی فوری طور پر سامنے آئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں کو احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد معاملہ صرف تعلیمی اصلاحات تک محدود نہ رہا بلکہ جمہوری آزادی، اظہارِ رائے، احتجاج کے حق اور سیاسی اختلاف کی گنجائش جیسے بنیادی سوالات بھی قومی بحث کا حصہ بن گئے۔

حالیہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے گزشتہ ایک دہائی کے بھارتی سیاسی ماحول کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی سیاست میں ہندوتوا قوم پرستی، مذہبی شناخت اور نظریاتی تقسیم زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طرز سیاست نے قومی اتحاد، ترقی اور ثقافتی شناخت کو مضبوط کیا ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس ماحول میں سماجی تقسیم میں اضافہ ہوا اور اہم معاشی و سماجی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔

بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی رجحانات مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے اس تصور سے مختلف ہیں جس میں تکثیریت، سماجی انصاف، اداروں کی خودمختاری اور اختلافِ رائے کے احترام کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ اگرچہ اس بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بھارت میں جمہوری آزادیوں اور ادارہ جاتی شفافیت پر بحث پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکی ہے۔

یہ بھی پہلی مرتبہ نہیں کہ حکومت کو وسیع عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ گزشتہ برسوں میں زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی طویل تحریک، خواتین پہلوانوں کے احتجاج اور شہریت سے متعلق قانون کے خلاف شاہین باغ کا دھرنا بھی قومی سیاست میں نمایاں رہے۔ ہر موقع پر حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے، جبکہ ناقدین نے انہیں اختلافِ رائے کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا۔

موجودہ احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ نوجوانوں کی بے چینی اب صرف امتحانی نظام تک محدود نہیں رہی۔ بے روزگاری، روزگار کے محدود مواقع، بڑھتی ہوئی مہنگائی، سخت معاشی مقابلہ اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نوجوان نسل کو مسلسل پریشان کر رہی ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جو ایک طرف معاشی ترقی کا بڑا موقع ہے، تو دوسری جانب حکومت کے لیے روزگار، تعلیم اور مساوی مواقع فراہم کرنے کا ایک بڑا امتحان بھی ہے۔

جب لاکھوں نوجوان سرکاری ملازمتوں کے لیے محدود نشستوں پر انحصار کرتے ہوں اور انہی امتحانات کی شفافیت مشکوک ہو جائے تو محنت اور قابلیت پر اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوانوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ صرف محنت ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی، بلکہ نظام کی کمزوریاں ان کے مستقبل پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

حکومت کی جانب سے تعلیمی اصلاحات کے وعدے اس بات کا اعتراف ہیں کہ عوامی خدشات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم صرف اصلاحات کے اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ امتحانی بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ دار افراد کا احتساب، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امتحانی نظام کا تحفظ، اور بھرتی کے عمل میں مکمل شفافیت جیسے اقدامات ہی عوام کا اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔

اس بحران نے حکمرانی کے ایک بنیادی اصول کو بھی اجاگر کیا ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ عوام کی مسلسل شمولیت، ان کی شکایات کو سننے اور بروقت جواب دینے کا عمل بھی ہے۔ پرامن احتجاج دنیا کی ہر جمہوری روایت کا حصہ رہا ہے۔ اگر حکومتیں اختلافِ رائے کو محض طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کریں تو وقتی طور پر احتجاج ختم ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔

بھارت ایک بڑی جمہوریت، فعال شہری معاشرے اور مضبوط سیاسی روایت کا حامل ملک ہے۔ یہی خصوصیات اسے موجودہ بحران سے مثبت انداز میں نکلنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ اگر حکومت عوامی بے چینی کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اصلاحات کا موقع تصور کرے تو یہ صورتحال ادارہ جاتی بہتری اور عوامی اعتماد کی بحالی کا سبب بن سکتی ہے۔

آخرکار بھارت کے نوجوان صرف امتحانات میں شفافیت نہیں چاہتے بلکہ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں انصاف، مساوی مواقع، مؤثر احتساب، بااعتماد ادارے اور جمہوری آزادیوں کا حقیقی احترام موجود ہو۔ اگر ان مطالبات کو سنجیدگی سے سنا گیا تو یہ بحران اصلاحات کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر عوامی آواز کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو موجودہ بے چینی مستقبل میں مزید گہرے سیاسی اور سماجی چیلنجز کو جنم دے سکتی ہے، جن کے اثرات صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے بھارتی معاشرے پر مرتب ہوں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]