ریپبلک پالیسی کی شائع شدہ کتاب ’’چار صوبوں سے آگے‘‘ کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو محض نئی انتظامی اکائیاں بنانے کی بحث نہیں سمجھا جاسکتا۔ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، اس لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ نئی اکائیاں وفاقی اکائیاں ہوں گی یا محض انتظامی اکائیاں۔
وفاقی اکائی اور انتظامی اکائی بنیادی طور پر دو مختلف تصورات ہیں۔ وفاقی ریاست میں ایک وفاقی اکائی کسی قوم، برادری یا سیاسی اکائی اور وفاق کے درمیان آئینی و سیاسی معاہدے کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے اور اس کی حیثیت کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
اس کے برعکس انتظامی اکائی کا بنیادی مقصد ریاستی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا، انتظامی امور کو منظم کرنا اور حکمرانی کو عوام کے قریب لانا ہے۔ اسی لیے انتظامی اکائی کا تصور بنیادی طور پر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی حکومت سے جڑا ہوا ہے۔
مقامی حکومت ضلع، ڈویژن، خطے یا کسی دوسری علاقائی سطح پر قائم کی جاسکتی ہے۔ اس لیے انتظامی اکائی کا بنیادی مقصد شناخت یا قومیت نہیں بلکہ مؤثر انتظامیہ، اختیارات کی منتقلی اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی ہے۔
وفاقی اور انتظامی اکائیوں کو ایک ہی تصور سمجھنا پاکستان کی وفاقی ساخت کو سمجھنے میں بنیادی غلطی ہوگی۔ پاکستان جیسے وفاق میں وفاقی اکائیوں کے اندر مختلف انتظامی اکائیاں اور مقامی حکومتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔
یہ نظام وحدانی ریاست کے انتظامی ماڈل سے مختلف ہے۔ مثال کے طور پر چین ایک وحدانی ریاست ہے، اس لیے وہاں صوبوں اور دوسری علاقائی اکائیوں کی تشکیل بنیادی طور پر انتظامی ضروریات کے تحت ہوتی ہے۔ پاکستان ایک وفاق ہے، لہٰذا یہاں وفاقی اور انتظامی اکائیوں کی آئینی حیثیت اور تشکیل کے اصول مختلف ہونے چاہئیں۔
کتاب کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کو وفاقی اکائیوں اور انتظامی اکائیوں دونوں کی ضرورت ہے، لیکن دونوں کو الگ آئینی اور انتظامی تصورات کے تحت سمجھنا ہوگا۔
وفاقی اکائیوں کا تعلق شناخت، سیاسی نمائندگی، قومیت، سیاسی نظم، بیوروکریٹک نظم اور مالیاتی انتظام سے ہے۔ وفاقی اکائی کسی مخصوص برادری کو وفاق کے اندر آئینی ضمانتوں کے ساتھ اپنی اجتماعی شناخت اور قومی مقاصد کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اس کے برعکس انتظامی اکائیوں کا تعلق علاقائی قربت، انتظامی کارکردگی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور حکمرانی کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے سے ہے۔ ان کی تشکیل میں آبادی، جغرافیہ، علاقائی قربت، یکسانیت اور انتظامی سہولت جیسے عوامل کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔
کتاب تجویز کرتی ہے کہ پاکستان پہلے ایک مضبوط، بااختیار اور مؤثر مقامی حکومت کا نظام قائم کرے، جس کے ذریعے ہر وفاقی اکائی کے اندر اختیارات، مالی وسائل اور انتظامی ذمہ داریاں نچلی سطح تک منتقل ہوں۔ یہ نظام ایک، دو یا تین سطحوں پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد وفاقی اکائیوں کے قیام پر زیادہ منظم، آئینی اور سیاسی بحث آگے بڑھائی جاسکتی ہے۔
لہٰذا ’’چار صوبوں سے آگے‘‘ کا مقصد محض پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دینا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ ملک کو وفاقی اور انتظامی دونوں طرح کی اکائیوں کی ضرورت ہے اور دونوں کے مقاصد، آئینی حیثیت اور تشکیل کا طریقۂ کار الگ ہونا چاہیے۔
یہ کتاب پاکستان کے وفاقی مستقبل کے لیے ایک آئینی، سیاسی اور انتظامی خاکہ پیش کرتی ہے۔ یہ ایک آئینی تجزیہ، تقابلی مطالعہ اور پاکستان کی وفاقی ساخت کو آگے بڑھانے کا لائحۂ عمل ہے، جس کا بنیادی فکری تناظر وفاقیت اور جمہوریہ پسندی ہے۔
ریپبلک پالیسی کی کتاب ’’چار صوبوں سے آگے‘‘ شائع ہوچکی ہے اور وینگارڈ بکس سمیت دیگر بڑے کتب خانوں پر دستیاب ہے۔









