Masood Khan
جنگوں کی ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی اپنے ابتدائی دائرے تک محدود رہتی ہیں۔ جو تنازع چند فریقوں کے درمیان شروع ہوتا ہے، وہ وقت گزرنے کے ساتھ نئے ممالک، نئی تنظیموں اور نئے مفادات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی بے شمار مثالیں پیش کرتی ہے کہ جنگ کا آغاز منصوبہ بندی کے مطابق ہو سکتا ہے، مگر اس کا انجام کبھی بھی منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہوتا۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر اسی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو ایسی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت قائم ہونے والے جنگ بندی کے انتظام سے الگ ہو کر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کا آغاز ایک نئے بحران کا نقطۂ آغاز بن چکا ہے۔ یہ اقدام صرف دو ریاستوں کے درمیان عسکری کشیدگی کا معاملہ نہیں بلکہ اس نے پورے خطے میں بے یقینی اور عدم استحکام کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ اس کے بعد یمن کے حوثیوں کی جانب سے باب المندب کی آبی گزرگاہ میں سعودی عرب سے وابستہ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور ان کی آمدورفت محدود کرنے کے اعلان نے واضح کر دیا ہے کہ یہ تنازع اب نئی سمت اختیار کر رہا ہے۔
باب المندب صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی تجارت کی شہ رگ ہے۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے ہوتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر عالمی تجارتی نظام، بحری نقل و حمل، توانائی کی رسد اور بین الاقوامی منڈیوں پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بین الاقوامی جہاز راں کمپنیاں اپنے راستے تبدیل کر رہی ہیں، انشورنس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مختلف ممالک اپنی بحری افواج کو تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے متحرک کر رہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ کے معاشی اثرات میدانِ جنگ سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔
یہی وہ صورتحال تھی جسے سفارت کاری کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کسی مثالی یا حتمی امن معاہدے کا نام نہیں تھی بلکہ اس کا بنیادی مقصد خونریزی روکنا، فوری جنگ بندی کو یقینی بنانا اور مذاکرات کے لیے ماحول پیدا کرنا تھا۔ اگرچہ اس معاہدے میں کئی خامیاں موجود تھیں، لیکن اس نے ایک نہایت اہم مقصد حاصل کیا تھا۔ اس نے جنگ کو عارضی طور پر روک دیا تھا اور فریقین کو سیاسی حل تلاش کرنے کا موقع دیا تھا۔ یہی کسی بھی سفارتی کوشش کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے جنگ بندی کے خاتمے نے وہ تمام دراڑیں دوبارہ کھول دی ہیں جنہیں وقتی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ عسکری کارروائیاں وقتی کامیابی تو دے سکتی ہیں، لیکن وہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ ہر نیا حملہ مخالف فریق میں مزید ردعمل پیدا کرتا ہے، انتہاپسند عناصر کو مضبوط کرتا ہے اور مذاکرات کی گنجائش کو محدود کر دیتا ہے۔ جب فیصلے میدانِ جنگ میں ہونے لگیں تو مذاکرات کی میز خالی ہو جاتی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں بحران مزید گہرا ہونے لگتا ہے۔
اس تنازع کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اب اس میں نئے علاقائی کردار شامل ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے اپنی اقتصادی تبدیلی، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام پر توجہ دے رہا تھا، مگر موجودہ حالات نے اس کی سلامتی کو براہِ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر بحیرہ احمر بھی ایران سے جاری کشیدگی کا مستقل محاذ بن جاتا ہے تو دیگر علاقائی ممالک بھی اس بحران میں غیر ارادی طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کسی ایک غلط اندازے، کسی حادثاتی تصادم یا کسی محدود فوجی کارروائی سے بھی ایک وسیع علاقائی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال معمول کی خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک نازک سفارتی امتحان ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی، اقتصادی اور تزویراتی تعلقات ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار حاصل کرتے ہیں اور ان کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، جس کے ساتھ تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور سرحدی روابط موجود ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کی ہے۔
یہی متوازن تعلقات پاکستان کو ایک منفرد سفارتی حیثیت عطا کرتے ہیں۔ دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد بہت کم ہے جو بیک وقت ایران، سعودی عرب، خلیجی ممالک، چین، امریکہ اور دیگر اہم قوتوں کے ساتھ قابلِ اعتماد روابط رکھتے ہوں۔ پاکستان ماضی میں بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کر چکا ہے۔ اس تجربے اور اعتماد کو موجودہ حالات میں دوبارہ استعمال کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو کسی ایک فریق کی صف بندی کے بجائے مصالحت کار، رابطہ کار اور امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ کردار صرف پاکستان کے قومی مفاد کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اگر پاکستان اپنے سفارتی روابط کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ ایسے مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے جو جنگ کو مزید پھیلنے سے روک سکیں۔ یہ کام آسان نہیں، مگر موجودہ حالات میں یہی سب سے زیادہ ذمہ دارانہ راستہ ہے۔
اقتصادی اعتبار سے بھی اس بحران کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب دنیا کی توانائی کی ترسیل کے دو اہم ترین راستے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک پر بھی طویل عرصے تک عدم استحکام برقرار رہتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ بحری نقل و حمل کے اخراجات بڑھیں گے، انشورنس مزید مہنگی ہوگی اور عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے گی۔ اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا، یورپ، افریقہ اور دیگر خطے بھی متاثر ہوں گے۔
پاکستان جیسے ممالک، جو درآمدی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔ تیل مہنگا ہوگا تو بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھیں گی۔ مہنگائی میں اضافہ ہوگا، تجارتی خسارہ وسیع ہوگا، زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور اقتصادی استحکام کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ تنازع صرف خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی سلامتی کا بھی سوال ہے۔
ان تمام پہلوؤں سے بڑھ کر انسانی المیہ سب سے اہم ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے اجڑے ہوئے شہر، بے گھر خاندان، زخمی بچے، تباہ شدہ اسپتال، بند اسکول اور مایوسی سے بھرپور مستقبل چھوڑ جاتی ہے۔ جدید جنگوں میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ سیاسی اور عسکری فیصلے کہیں اور کیے جاتے ہیں۔ امن کی قیمت مذاکرات سے کم اور جنگ کی قیمت ہمیشہ نسلوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
عالمی برادری کو اس نازک مرحلے پر فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، علاقائی طاقتوں اور ذمہ دار ریاستوں کو چاہیے کہ وہ فوری جنگ بندی، مسلسل مذاکرات، اعتماد سازی اور انسانی امداد کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ جب تک فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی، سیاسی حل کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔
پاکستان کو بھی اپنی متوازن خارجہ پالیسی، سفارتی تجربے اور علاقائی اعتماد کو بروئے کار لاتے ہوئے امن کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہی اس کی قومی ذمہ داری، علاقائی ضرورت اور عالمی مفاد کا تقاضا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور طویل جنگ کی نہیں بلکہ ایسے باوقار مذاکرات کی ضرورت ہے جو اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کریں۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ بندوقیں جنگ جیت سکتی ہیں، مگر پائیدار امن صرف سفارت کاری، انصاف اور باہمی اعتماد سے ہی قائم ہوتا ہے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتب، جن میں دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔









