Tariq Mahmood Awan
پاکستان کے قیام کے بعد سے ریاستی حکمرانی کا ایک ہی کھیل بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔ حکمرانی کے مختلف ماڈل آزمائے گئے، مگر ریاستی نظام کبھی بھی اپنی حقیقی معنوں میں مؤثر، مستحکم اور آئینی بنیادوں پر استوار نہ ہو سکا۔ کبھی پارلیمانی جمہوریت کو اختیار کیا گیا، کبھی صدارتی نظام نافذ کیا گیا، کبھی مارشل لا نے اقتدار سنبھالا، کبھی جمہوری حکومتیں بحال ہوئیں اور کبھی ہائبرڈ طرزِ حکمرانی وجود میں آیا۔ ہر دور میں طاقت کا توازن تبدیل ہوتا رہا۔ کبھی اسٹیبلشمنٹ کا کردار غالب رہا، کبھی سیاست دان مرکزِ نگاہ بنے، کبھی عدلیہ نے غیر معمولی کردار ادا کیا اور کبھی پارلیمان کی حیثیت میں اتار چڑھاؤ آیا۔
تاہم ریاست کے تینوں آئینی ستونوں، یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ، کے درمیان ایک ایسا کردار موجود ہے جس کی حیثیت اور طاقت میں گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں کے دوران کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی، اور وہ کردار سول بیوروکریسی ہے۔ یہی ایک حقیقت اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ ریاستی طاقت کے اس پورے کھیل میں سول بیوروکریسی نے کس مہارت سے تمام دوسرے کرداروں کو اپنے گرد گھمایا ہے۔ پاکستان کی سول بیوروکریسی کا بنیادی ڈھانچہ سن انیس سو سینتالیس سے آج تک تقریباً جوں کا توں برقرار ہے۔
کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اس حقیقت پر غور کیا ہے؟
اگر اس پورے نظام کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اس ریاستی نظم میں شامل ہر مؤثر فریق، خواہ وہ سیاسی قیادت ہو، عسکری ادارے ہوں یا عدلیہ، حکومتی امور کی عملی انجام دہی کے لیے بالآخر سول بیوروکریسی پر انحصار کرتا ہے۔ خواہ ملک میں ہائبرڈ نظام ہو، منتخب سیاسی حکومت ہو، مکمل جمہوری انتظام ہو یا مارشل لا نافذ ہو، حکمرانی کی عملی کارکردگی، ریاستی پالیسیوں پر عمل درآمد اور عوامی خدمات کی فراہمی کا سارا بوجھ سول بیوروکریسی ہی اٹھاتی ہے، کیونکہ یہی ریاست کی عملی مشینری ہے۔ حکومت کی گاڑی کا اسٹیئرنگ خواہ کسی کے ہاتھ میں ہو، اس کے پہیے کو حرکت دینے والا ہاتھ بہرحال سول بیوروکریسی ہی ہوتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں سول بیوروکریسی کی اصل انتظامی حکمتِ عملی سامنے آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ریاستی نظام ناکام ہوتا ہے تو اس ناکامی میں بنیادی کردار بیوروکریسی کا ہوتا ہے، لیکن عوامی سطح پر اس کا الزام ہمیشہ سیاست دانوں یا اسٹیبلشمنٹ پر آتا ہے، کیونکہ یہی دونوں حکومت کا نمایاں اور نظر آنے والا چہرہ ہوتے ہیں، جبکہ بیوروکریسی پردے کے پیچھے رہ کر پورے نظام کو چلاتی ہے۔
سب سے زیادہ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آج بھی ایک ایسی نوآبادیاتی عمومی سول بیوروکریسی کے تحت چل رہا ہے جس کی مثال جدید دنیا میں تقریباً کہیں نہیں ملتی۔ یہی عمومی بیوروکریسی عملی طور پر ایک وفاقی ریاست کو وحدانی ریاست میں تبدیل کر دیتی ہے۔ مخصوص محفوظ آسامیوں کے نظام کے ذریعے یہ اپنے عمومی کیڈر کی بنیاد پر ریاستی نظام کے ہر درجے اور تقریباً ہر اہم ادارے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے۔ اس کی واضح ترین مثال یہ ہے کہ ملک کے اہم ترین اداروں کے سربراہ انہی عمومی کیڈرز سے منتخب کیے جاتے ہیں، خواہ ان کا اس ادارے کے شعبے، مہارت یا پیشہ ورانہ تخصص سے کوئی تعلق نہ ہو۔
اسی نوآبادیاتی عمومی بیوروکریسی کے باعث مقامی حکومتیں، صوبائی حکومتیں، مشترکہ مفادات کونسل اور وفاقی حکومت اپنی حقیقی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مسلسل کمزور ہوتی رہی ہیں۔ آئین کا تقاضا یہ تھا کہ حکومت کی ہر سطح اپنی الگ شناخت، الگ ذمہ داری، الگ احتساب اور اپنی منتخب مقننہ کے سامنے جواب دہی کے اصول پر قائم ہو۔ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ ہر سطح پر ایک عمومی افسر تعینات کر دیا جاتا ہے، ایسا افسر جو ہر شعبے کا دعوے دار تو ہوتا ہے مگر کسی ایک شعبے کا حقیقی ماہر نہیں ہوتا۔ اس کی وفاداری اس ادارے سے زیادہ اپنے کیڈر کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے، کیونکہ اسی کیڈر نے اسے وہاں بھیجا ہوتا ہے اور مستقبل میں وہیں واپس بھی بلایا جانا ہوتا ہے۔









