امریکا اور ایران کے درمیان تازہ سفارت کاری ایک بنیادی مسئلے کو نمایاں کرتی ہے: تنازع ختم کرانے کی کوشش کرنے والے ممالک کے اپنے فوری معاشی اور تزویراتی مفادات بھی وابستہ ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ جنگ بندی کی طرف لانے کی تازہ کوشش نے قطر، پاکستان اور مصر کو ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم ثالثی میں ان ممالک کا بڑھتا ہوا کردار مذاکراتی عمل کی ایک بنیادی کمزوری بھی ظاہر کرتا ہے: ان میں سے کوئی بھی اس تنازع میں مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں۔
23 ستمبر کو اقوام متحدہ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی تو قطر، پاکستان اور مصر کے نمائندے بھی ثالثوں کے طور پر موجود تھے۔ دو روز کے اندر تہران نے تجویز پیش کی کہ امریکی ناکہ بندی کے خاتمے، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں رعایت اور لبنان کو بھی شامل کرنے والی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے اور سات روز کے اندر جوہری مذاکرات بحال کیے جائیں۔
26 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تجویز مسترد کر دی۔
یہ صورت حال اس لیے جانی پہچانی محسوس ہوئی کیونکہ ایران کی تازہ پیشکش بڑی حد تک چند ماہ قبل تیار کیے گئے سفارتی خاکے سے مشابہ تھی۔ جون کی مفاہمتی یادداشت، جس کی تیاری میں انہی میں سے کئی ثالث شامل تھے، جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں آزادانہ نقل و حرکت، ناکہ بندی میں نرمی اور تعمیرِ نو کے ایک بڑے منصوبے کا وعدہ کرتی تھی۔ تاہم چند ہی ہفتوں میں یہ انتظام ناکام ہو گیا۔
مسئلہ صرف واشنگٹن اور تہران کے رویوں میں نہیں، بلکہ ثالثی کے موجودہ ڈھانچے میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
غیر جانب دار میزبانوں سے مفادات رکھنے والے ثالثوں تک
امریکا اور ایران کے درمیان سفارت کاری طویل عرصے تک ایسے ممالک کے ذریعے آگے بڑھتی رہی جن کی بنیادی اہمیت یہ تھی کہ وہ خاموش اور قابلِ اعتماد رابطے کا ذریعہ فراہم کر سکتے تھے۔ عمان نے جوہری مذاکرات کی میزبانی کی، جبکہ سوئٹزرلینڈ طویل عرصے سے تہران میں امریکی مفادات کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔
موجودہ تنازع نے اس سفارتی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے۔
پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ قطر مختلف علاقائی حریفوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا ہوا ہے، جبکہ بحیرۂ احمر اور اس سے منسلک بحری راستوں میں عدم استحکام کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرات کے باعث مصر کا کردار بھی نمایاں ہوا ہے۔
ان ممالک کو روایتی غیر جانب دار میزبانوں کے مقابلے میں شاید زیادہ سیاسی رسائی حاصل ہو، لیکن ان کے اپنے مفادات بھی انہیں جلد کسی معاہدے تک پہنچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہ فرق اہم ہے۔
بعض حالات میں مفاد رکھنے والا ثالث غیر جانب دار ثالث سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ معاشی، عسکری یا سفارتی اثر و رسوخ رکھنے والی ریاستیں فریقین کو ایسی رعایتیں دینے پر آمادہ کر سکتی ہیں جو محض ایک غیر جانب دار سہولت کار کے لیے ممکن نہیں ہوتیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ثالث کے پاس فوری معاہدہ کرانے کی مضبوط وجہ تو موجود ہو، لیکن اس معاہدے پر طویل مدت تک عمل درآمد یقینی بنانے کی صلاحیت محدود ہو۔
موجودہ سفارتی عمل کی بنیادی کمزوری بھی یہی دکھائی دیتی ہے۔
قطر کے لیے آبنائے ہرمز کا کھلنا ضروری
قطر کے لیے موجودہ تنازع توانائی کے تحفظ سے براہِ راست منسلک ہے۔
اس کے معاشی مفادات بڑی حد تک آبنائے ہرمز کے ذریعے مائع قدرتی گیس کی ترسیل پر منحصر ہیں۔ اس بحری راستے میں خلل دوحہ پر فوری تجارتی اور معاشی دباؤ پیدا کرتا ہے۔
اسی لیے قطر کے پاس ایسے کسی بھی انتظام کی حمایت کرنے کی مضبوط وجہ موجود ہے جو بحری نقل و حرکت بحال کر سکے۔
تاہم ایل این جی ٹینکروں کی آمدورفت بحال کرنے والا معاہدہ لازماً اس سیاسی اور سلامتی کے تنازع کو حل نہیں کرتا جو موجودہ بحران کی اصل بنیاد ہے۔
دوحہ کی فوری ترجیح خلیج میں استحکام اور عالمی توانائی منڈیوں تک قابلِ اعتماد رسائی ہے۔ یہی فوری ضرورت ایک جامع اور دیرپا تصفیے کے بجائے عبوری انتظام کو زیادہ قابلِ قبول بنا سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے سفارتی اثر و رسوخ اہم
پاکستان اس بحران کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کے کردار نے پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ ایرانی حکام تک اسلام آباد کی رسائی اور واشنگٹن کے ساتھ اس کے نئے روابط نے اسے متحارب علاقائی فریقوں کے درمیان ایک منفرد مقام فراہم کیا ہے۔
تاہم پاکستان کے اپنے مفادات بھی اسے مکمل طور پر غیر جانب دار قرار دینے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
پاکستانی معیشت خلیج سے توانائی کی ترسیل سے گہرا تعلق رکھتی ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے سلامتی کے تعلقات بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے تہران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنے دیگر علاقائی تزویراتی وعدوں کو پورا کرنا ایک مشکل سفارتی توازن بن جاتا ہے۔
پاکستان کو ثالثی سے ایک اور فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے: سفارتی اہمیت۔
مخالف فریقوں کو مذاکرات کی میز تک لانے میں کامیابی اسلام آباد کی واشنگٹن، تہران اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں اہمیت بڑھاتی ہے۔ لیکن کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنا اور پھر اس پر عمل درآمد کی ضمانت دینا دو مختلف ذمہ داریاں ہیں۔
پاکستان مذاکرات میں سہولت فراہم کر سکتا ہے، لیکن وہ یہ طے نہیں کر سکتا کہ واشنگٹن، تہران یا دیگر علاقائی فریق کئی ماہ بعد بھی اس معاہدے کی پابندی کریں گے یا نہیں۔
مصر کو بحیرۂ احمر میں استحکام درکار
مصر کے مفادات کا براہِ راست تعلق نہر سویز اور بحیرۂ احمر سے ہے۔
علاقائی عدم استحکام نہر سویز سے گزرنے والی بحری تجارت میں کمی کے ذریعے قاہرہ کو پہلے ہی نمایاں معاشی نقصان پہنچا چکا ہے۔ باب المندب اور بحیرۂ احمر کے بحری راستوں میں مسلسل بے یقینی مزید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
اس لیے مصر کے پاس ایسے انتظام کی حمایت کرنے کی مضبوط وجہ ہے جو علاقائی کشیدگی کم کرے اور تجارتی جہاز رانی بحال کرے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قاہرہ کسی ایسے سمجھوتے کا خواہاں ہوگا جس میں تہران کی شمولیت یمن اور بحیرۂ احمر کی صورت حال پر بھی اثرانداز ہو سکے۔
لیکن وسیع معاہدے اکثر مبہم بھی ہو جاتے ہیں۔
کوئی سفارتی خاکہ جتنے زیادہ فریقوں اور تنازعات کو اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش کرے گا، اتنا ہی مشکل ہوگا کہ ہر فریق کے لیے واضح اور قابلِ قبول ذمہ داریاں طے کی جا سکیں۔
جون کی مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مسئلہ
جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اسی مشکل کی ایک مثال ہے۔
کئی اہم سوالات غیر واضح یا حل طلب رہے۔ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے طریقۂ کار پر مختلف تصورات موجود تھے۔ جنگ بندی کے انتظامات نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کیا۔ مجوزہ تعمیرِ نو پیکیج نے ایک اور بنیادی سوال پیدا کیا کہ اس کے لیے مالی وسائل کون فراہم کرے گا۔
یہ معمولی تکنیکی معاملات نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق براہِ راست اس طریقۂ کار سے تھا جس کے تحت معاہدے کو عملی طور پر کام کرنا تھا۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے طویل مذاکرات درکار تھے۔
لیکن قطر کو توانائی کی برآمدات کا دباؤ درپیش تھا، مصر تجارتی جہاز رانی کی بحالی چاہتا تھا اور پاکستان سفارتی پیش رفت برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔
یوں تینوں ممالک کے پاس فوری پیش رفت کی اپنی اپنی وجوہات موجود تھیں۔
اس تجربے سے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: کسی معاہدے پر دستخط ثالثوں کے فوری مقاصد پورے کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بنیادی اختلافات بھی حل ہو گئے ہیں جن پر معاہدے کی پائیداری منحصر ہوتی ہے۔
عمان کی مثال اور غیر جانب داری کا بدلتا تصور
عمان کی بدلتی ہوئی حیثیت بھی اسی مسئلے کی عکاسی کرتی ہے۔
برسوں تک مسقط کی علاقائی سفارت کاری کی طاقت اس کے صبر اور نسبتاً غیر جانب دار کردار میں تھی۔ وہ متحارب فریقوں کو فوری سیاسی نتیجے کا مطالبہ کیے بغیر مذاکرات کے لیے جگہ فراہم کر سکتا تھا۔
آبنائے ہرمز کے بحران نے اس حیثیت کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آبی گزرگاہ سے متصل ریاست ہونے کی وجہ سے عمان اب جہاز رانی اور بحری انتظامات سے متعلق مذاکرات میں براہِ راست مفاد رکھتا ہے۔ یوں جو جغرافیہ کبھی اسے ایک مؤثر ثالث بناتا تھا، وہی اب اسے مذاکرات کے نتائج میں ایک فریق بھی بنا رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمان، قطر، پاکستان یا مصر مؤثر ثالثی نہیں کر سکتے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ثالث اور مفاد رکھنے والے فریق کے درمیان حد پہلے سے زیادہ دھندلی ہو گئی ہے۔
اثر و رسوخ اہم ہے، مگر معاہدے کی ضمانت کون دے گا؟
مفادات رکھنے والے ثالثوں کے حق میں ایک مضبوط دلیل یہ ہے کہ بعض اوقات غیر جانب داری سے زیادہ اہم اثر و رسوخ ہوتا ہے۔
تاریخ میں ایسے مذاکرات کی مثالیں موجود ہیں جو اسی لیے کامیاب ہوئے کیونکہ ثالثوں کے پاس فریقین کو سمجھوتے کی طرف لانے کے لیے کافی سیاسی طاقت موجود تھی۔
لیکن اثر و رسوخ اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جب ثالث کے پاس معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی صلاحیت بھی ہو۔
قطر تنہا آبنائے ہرمز کی نگرانی نہیں کر سکتا۔ پاکستان تمام علاقائی فریقوں کے عسکری فیصلوں کا تعین نہیں کر سکتا۔ مصر اپنے طور پر بحیرۂ احمر میں محفوظ جہاز رانی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ ممالک کسی بڑے تعمیرِ نو منصوبے کی مالی ضمانت بھی انفرادی طور پر فراہم نہیں کر سکتے۔
ان کا اثر و رسوخ فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے بعد معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ان کی صلاحیت کہیں زیادہ محدود ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ سفارت کاری بار بار ایسے معاہداتی خاکے پیدا کرتی ہے جو دستخط کے وقت امید افزا دکھائی دیتے ہیں، لیکن عملی مرحلے میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اگلا معاہدہ زیادہ واضح ہونا چاہیے
آئندہ سفارتی کوشش کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہونا چاہیے کہ ایک اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل اہمیت اس کے مندرجات کی ہوگی۔
آبنائے ہرمز اس حوالے سے پہلا امتحان بن سکتی ہے۔
کسی پائیدار انتظام کے لیے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے واضح اور متفقہ اصول ضروری ہوں گے، نہ کہ ایسے مختلف تصورات جو بعد میں متضاد تشریحات پیدا کریں۔ اسی طرح پابندیوں، جنگ بندی کی ذمہ داریوں، علاقائی عسکری سرگرمیوں اور تعمیرِ نو کے وعدوں کے بارے میں بھی واضح شرائط درکار ہوں گی۔
ممکن ہے کہ محدود مگر قابلِ عمل شرائط پر مشتمل ایک مختصر معاہدہ ایسے وسیع اور بلند عزائم رکھنے والے سمجھوتے سے زیادہ مؤثر ثابت ہو جس کے بنیادی سوالات ہی حل طلب رہ جائیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ قطر، پاکستان اور مصر کو ثالثی کرنی چاہیے یا نہیں۔ ان کے تعلقات، سیاسی رسائی اور مفادات کے باعث ان کا کردار تقریباً ناگزیر ہو چکا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا سفارتی عمل ثالثوں کی فوری پیش رفت کی خواہش سے آگے بڑھ کر ان مشکل مسائل کو حل کر سکتا ہے جو کسی دیرپا تصفیے کے لیے ضروری ہیں۔
قطر اپنی توانائی کی ترسیل بحال دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان ثالثی سے حاصل ہونے والی سفارتی اہمیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مصر نہر سویز اور بحیرۂ احمر میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی چاہتا ہے۔
یہ مفادات مذاکرات میں تیزی پیدا کر سکتے ہیں اور متحارب فریقوں کو ایک ہی سفارتی عمل کا حصہ بھی بنا سکتے ہیں۔
لیکن فوری پیش رفت اور پائیدار امن ایک ہی چیز نہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان اگلی سفارتی کوشش کی کامیابی کا انحصار صرف ایک اور معاہدہ طے پانے پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہوگا کہ مذاکرات کار ان سوالات کو حل کرنے کے لیے کتنا وقت دینے پر تیار ہیں جنہیں گزشتہ معاہدوں میں غیر واضح چھوڑ دیا گیا تھا۔
دستخط مذاکرات کے ایک مرحلے کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن صرف قابلِ عمل شرائط ہی اگلے بحران کو روک سکتی ہیں۔









