ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کو “آخری موقع” قرار دے دیا، تہران نے براہِ راست بات چیت کی خبروں کی تردید کر دی

[post-views]
[post-views]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو تنازع کے خاتمے کا “آخری موقع” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران مناسب معاہدہ کر لیتا ہے تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے، تاہم ایران نے ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت مذاکرات جاری ہیں اور یہ رابطے ایران کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کی درخواست پر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس بہتر معاہدے پر دستخط کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر بھی ایرانی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مذاکرات سے متعلق حقیقت چھپا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران عوامی سطح پر انکار کر رہا ہے، لیکن پسِ پردہ بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنی سرحدوں اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے پرعزم ہے، تاہم وہ جنگ کو مزید پھیلانے کا خواہش مند نہیں۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ تہران خطے میں مزید کشیدگی نہیں چاہتا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال واشنگٹن کے ساتھ کسی ملاقات یا مذاکرات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔ ان کے مطابق ایران اس وقت صرف سلطنتِ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر بات چیت کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے پیمانے کے مجوزہ حملے مؤخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا رہا ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں وقتی اطمینان پیدا ہوا تھا اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔

تاہم مذاکرات کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث سرمایہ کاروں کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے۔ منگل کے روز عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 85.23 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 81.38 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے متضاد بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود بحران ابھی تک غیر یقینی مرحلے میں ہے، جبکہ عالمی توانائی کی منڈیاں بھی ہر نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]