پاکستان کو ایک بار پھر پیشگی خبردار کردیا گیا ہے اور اس مرتبہ تیاری نہ ہونے کا کوئی معقول جواز نہیں ہونا چاہیے۔ تشکیل پانے والا ال نینو دستیاب مشاہداتی ریکارڈ کے مطابق اب تک کے طاقتور ترین موسمی مظاہر میں شامل ہوسکتا ہے، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ممالک کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ال نینو رواں سال کے آخر تک اپنی شدت کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس کے موسمی اثرات 2027 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اوسط سے تقریباً 3.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ محض ایک دور دراز عالمی موسمی پیش گوئی نہیں بلکہ بارشوں، زراعت، پانی کی دستیابی، صحتِ عامہ اور معیشت کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔
شدید موسمی واقعات اب غیر معمولی نہیں رہے۔ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث گرمی کی لہریں، سیلاب، خشک سالی اور شدید طوفان زیادہ تواتر اور شدت کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ طاقتور ال نینو نے 2024 کو ریکارڈ کا گرم ترین سال بنانے میں کردار ادا کیا۔ اگر موجودہ ال نینو مزید طاقتور ثابت ہوا تو اس کے اثرات بحرالکاہل سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔
عالمی سطح پر ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی کم ہونے کے باوجود ملک موسمیاتی تبدیلی کے شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اس موسمیاتی ناانصافی کو عالمی فورمز پر مسلسل اٹھایا جانا چاہیے، لیکن اس حقیقت سے پاکستان کو درپیش خطرات کم نہیں ہوجاتے۔ سیلاب گھروں اور فصلوں کو تباہ کرسکتے ہیں، شدید گرمی انسانی جانوں اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ گلیشیئرز کا پگھلاؤ، بے قاعدہ مون سون اور پانی کی قلت ریاستی اداروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
اس لیے پاکستان کو بیک وقت دو محاذوں پر کام کرنا ہوگا: عالمی سطح پر موسمیاتی انصاف اور مالی معاونت کا مطالبہ جاری رکھا جائے اور ملک کے اندر ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔
اصل تشویش یہ ہے کہ پاکستان کا موسمیاتی ردعمل اب بھی بڑی حد تک حادثات کے بعد حرکت میں آتا ہے۔ سیلاب، گرمی کی شدید لہر یا دوسری آفت تب توجہ حاصل کرتی ہے جب نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔ تقاریر ہوتی ہیں، ہنگامی اجلاس بلائے جاتے ہیں، عالمی امداد طلب کی جاتی ہے اور تعمیرِ نو شروع ہوتی ہے، لیکن آفت آنے سے پہلے خطرات کی نشاندہی اور تیاری کی ادارہ جاتی صلاحیت بدستور کمزور ہے۔
یہ کمزوری خصوصاً صوبائی، ضلعی اور مقامی سطح پر نمایاں ہے۔ نکاسیٔ آب اور سیلاب سے بچاؤ کا بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے، شہری پھیلاؤ میں ماحولیاتی خطرات کو اکثر مناسب اہمیت نہیں دی جاتی اور سیلاب یا شدید گرمی سے متاثر ہونے والے علاقوں میں بھی آبادیاں پھیلتی جارہی ہیں۔ اگر تیاری کا آغاز ہنگامی صورتِ حال پیدا ہونے کے بعد ہو تو آفات سے نمٹنے کا نظام مؤثر نہیں ہوسکتا۔
تازہ انتباہ کے بعد فوری طور پر قومی سطح پر موسمیاتی خطرات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ صوبائی آفات سے نمٹنے کے اداروں کو شدید ال نینو کی صورت میں سیلاب، خشک سالی اور انتہائی گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ زرعی اداروں کو بھی ان فصلوں اور علاقوں کا تعین کرنا ہوگا جو بارشوں میں تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافے سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔
آبی ذخائر کے انتظام اور آب پاشی کے منصوبوں کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ہسپتالوں کو شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی طبی ہنگامی صورتِ حال کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ ہنگامی پناہ گاہوں، انخلا کے انتظامات اور پیشگی انتباہی نظام کو ضرورت پڑنے سے پہلے آزمایا جانا چاہیے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ضلعی اور مقامی انتظامیہ کے پاس واضح ہنگامی منصوبے موجود ہوں تاکہ بحران شروع ہونے کے بعد بالائی حکام کی ہدایات کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
معاشی خطرات اس تیاری کو مزید ضروری بناتے ہیں۔ پاکستان کے پاس بار بار آنے والی موسمیاتی آفات کے مالی اثرات برداشت کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ سیلاب بنیادی ڈھانچے اور زراعت کو نقصان پہنچاتے ہیں، خشک سالی پیداوار کم کرتی ہے، شدید گرمی پیداواری صلاحیت متاثر کرتی ہے اور تعمیرِ نو پر وہ وسائل خرچ ہوتے ہیں جو ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال ہوسکتے تھے۔ یوں موسمیاتی آفات بیک وقت غذائی مہنگائی، مالیاتی خسارے، غربت اور بیرونی مالی دباؤ میں اضافہ کرسکتی ہیں۔
کمزور گھرانوں کے لیے یہ اثرات مزید سنگین ہوتے ہیں۔ فصل کی تباہی، گھر کو پہنچنے والا نقصان یا آمدنی کا ذریعہ ختم ہونا پہلے ہی غربت کے قریب زندگی گزارنے والے خاندان کو طویل مدتی معاشی مشکلات میں دھکیل سکتا ہے۔ اس لیے موسمیاتی تیاری کو صرف ماحولیاتی پالیسی نہیں بلکہ معاشی اور سماجی پالیسی کا لازمی حصہ سمجھنا چاہیے۔
عالمی برادری کی بھی ذمہ داری ہے۔ عالمی حدت میں سب سے کم حصہ ڈالنے والے ممالک اس کے بدترین نتائج برداشت کررہے ہیں۔ موسمیاتی مالی معاونت کو تیز، آسان اور موسمیاتی موافقت اور مضبوطی پر زیادہ مرکوز ہونا چاہیے۔ تباہی سے پہلے فراہم کی جانے والی معاونت انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو اس امداد سے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ کرسکتی ہے جو نقصان ہونے کے بعد فراہم کی جاتی ہے۔
تاہم پاکستان اپنی پوری موسمیاتی حکمتِ عملی بیرونی امداد کے انتظار پر قائم نہیں کرسکتا۔ عالمی مالی معاونت ملک کی صلاحیت بہتر بنا سکتی ہے، لیکن مقامی آبادیوں کی تیاری، بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال، بہتر شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی حالات میں مؤثر ردعمل بالآخر ملکی اداروں ہی کی ذمہ داری ہے۔
انتباہ کئی ماہ پہلے مل چکا ہے۔ پاکستان کے پاس اب بھی خطرات کا جائزہ لینے، تیاری بہتر بنانے اور ممکنہ نقصان کم کرنے کا وقت موجود ہے۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اگلی موسمیاتی ہنگامی صورتِ حال کی پیش گوئی کرسکتا ہے یا نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ریاست کسی انتباہ کے تباہی میں بدلنے سے پہلے اس پر عمل کرسکتی ہے۔









