پاکستان کی آٹو صنعت ایک اہم موڑ پر: تحفظ، مقابلہ اور درست فیصلے کی ضرورت

[post-views]
[post-views]

Arshad Mahmood Awan

پاکستان کی آٹو صنعت ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں آج کیے گئے فیصلے آنے والے کئی برسوں تک اس کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ موجودہ بجٹ میں مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں نمایاں کمی نے مقامی آٹو صنعت کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ صرف ٹیکس یا درآمدی پالیسی میں تبدیلی نہیں بلکہ ایک بنیادی فیصلہ ہے کہ آیا پاکستان اپنی مقامی آٹو صنعت کو مضبوط بنانا چاہتا ہے یا اپنی منڈی غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کرنا چاہتا ہے، جو یہاں صنعت، روزگار یا مقامی پرزہ سازی میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتیں۔

یہ درست ہے کہ عوام سستی گاڑیاں چاہتے ہیں۔ مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے نئی گاڑی خریدنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے کا ایک درست طریقہ بھی ہے اور ایک غلط طریقہ بھی۔ درست طریقہ یہ ہے کہ مقامی کمپنیوں کے درمیان حقیقی مقابلہ پیدا کیا جائے تاکہ وہ بہتر معیار، نئی ٹیکنالوجی اور کم لاگت کے ذریعے صارفین کو فائدہ پہنچائیں۔ غلط طریقہ یہ ہے کہ اچانک درآمدات کے دروازے کھول دیے جائیں اور کمزور مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا جائے۔ اگر قیمتیں مقامی صنعت کو تباہ کر کے کم کی جائیں تو اس کا نقصان بعد میں روزگار، صنعت اور معیشت کو بھگتنا پڑے گا۔

اس وقت پاکستان کی آٹو صنعت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ ملک بھر میں گاڑیاں بنانے والے کارخانے اپنی مکمل صلاحیت سے بہت کم پیداوار کر رہے ہیں۔ مقامی پرزے بنانے والی صنعت بھی شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے حالات میں اگر درآمدی گاڑیوں کو بڑی سہولت دے دی گئی تو صرف اسمبلی پلانٹس ہی نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے سپلائرز بھی متاثر ہوں گے۔ ایک مضبوط آٹو صنعت صرف کارخانوں سے نہیں بنتی بلکہ اس کے ساتھ ہزاروں مقامی صنعتیں، ہنرمند کارکن اور سرمایہ کاری بھی جڑی ہوتی ہے۔ اگر حکومتی پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں گی تو سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے گریز کریں گے۔

ایشیا کے کئی ممالک نے اپنی آٹو صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے ابتدا میں مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کیا۔ لیکن یہ تحفظ ہمیشہ محدود مدت اور واضح شرائط کے ساتھ دیا گیا۔ کمپنیوں کو مقامی پرزوں کا استعمال بڑھانے، معیار بہتر بنانے اور عالمی منڈی میں مقابلے کے قابل بننے کی ذمہ داری بھی دی گئی۔ صرف تحفظ دینے سے صنعت سست ہو جاتی ہے، لیکن اگر تحفظ کو کارکردگی سے جوڑ دیا جائے تو صنعت مضبوط اور خودمختار بن جاتی ہے۔ پاکستان کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

پاکستان کو ایک ایسی آٹو پالیسی کی ضرورت ہے جو ہر بجٹ کے ساتھ تبدیل نہ ہو۔ سرمایہ کار اسی وقت سرمایہ لگاتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ حکومتی پالیسی کئی سال تک برقرار رہے گی۔ تاہم اس تحفظ کے بدلے کمپنیوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ انہیں مقامی پرزوں کی تیاری بڑھانی چاہیے، تحقیق اور ترقی پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے، مصنوعات کا معیار بہتر بنانا چاہیے اور برآمدات میں اضافہ کرنا چاہیے۔ اس سے مقامی وینڈر انڈسٹری مضبوط ہوگی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور درآمدی پرزوں پر انحصار کم ہوگا، جس سے زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔

اس بحث کا ایک اور اہم پہلو ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو دی جانے والی ٹیکس رعایت ہے۔ ماحول دوست گاڑیوں کی حوصلہ افزائی یقیناً ضروری ہے، لیکن موجودہ پالیسی سے زیادہ فائدہ ان افراد کو ملے گا جو پہلے ہی مہنگی گاڑیاں خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ عام متوسط طبقہ ان گاڑیوں کی قیمت برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے یہ رعایت زیادہ تر امیر طبقے کے لیے سبسڈی بن جاتی ہے۔

اس کے بجائے حکومت کو چھوٹی اور مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اگر ٹیکس میں رعایت اور دیگر سہولتیں اسی شعبے کو دی جائیں تو زیادہ لوگ نئی گاڑیاں خرید سکیں گے، مقامی صنعت کی پیداوار بڑھے گی، پرزہ ساز صنعت کو نئے آرڈر ملیں گے اور ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانی اور زیادہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی جگہ نئی اور کم ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیاں آئیں گی، جس سے ماحول کو بھی فائدہ ہوگا۔

صنعتی پالیسی کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ محدود سرکاری وسائل کو وہاں استعمال کیا جائے جہاں سے ملک کو طویل مدت میں سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔ پاکستان کے سامنے آج دو راستے ہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ وقتی طور پر سستی درآمدی گاڑیوں کے لیے اپنی مقامی آٹو صنعت کو کمزور کر دیا جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ مقامی صنعت کو واضح شرائط کے ساتھ تحفظ دیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بن سکے۔ ایشیا کے کامیاب ممالک کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مضبوط مقامی صنعت ہی پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار اور صنعتی خودمختاری کی ضمانت بنتی ہے۔ اب فیصلہ پاکستان کے پالیسی سازوں کو کرنا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتابیں، جن میں دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وین گارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ ہوم ڈیلیوری کے لیے رابطہ کریں: 0300-9552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]