مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض علاقائی سفارت کاری کا ایک اور واقعہ نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے تزویراتی ماحول کی ایک اہم علامت ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ اس امکان کو تقویت دیتا ہے کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کے بجائے ایک ایسے علاقائی نظام کی تشکیل کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کی بنیاد باہمی دفاع، مشترکہ مفادات اور علاقائی ذمہ داری پر ہو۔
اس معاہدے کی اہمیت کو موجودہ عالمی اور علاقائی حالات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ گزشتہ پانچ ماہ سے جاری امریکہ ایران جنگ نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں تجارتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورت حال نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ بیرونی طاقتوں کی فراہم کردہ سلامتی کی ضمانتیں ہمیشہ پائیدار یا قابل اعتماد نہیں ہوتیں۔ خطے کے ممالک کے لیے یہ تجربہ اس سوال کو مزید اہم بناتا ہے کہ کیا مشرق وسطیٰ اپنی اجتماعی سلامتی کا ایسا نظام تشکیل دے سکتا ہے جو کسی ایک عالمی طاقت کے سیاسی یا عسکری فیصلوں کا محتاج نہ ہو۔
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں باہمی دفاع کا وہ اصول نمایاں ہے جس کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ تصور بنیادی طور پر شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مشابہت رکھتا ہے۔ اگر یہ شق عملی سطح پر مؤثر ثابت ہوتی ہے تو یہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو محض سیاسی اعلان کے بجائے ایک منظم تزویراتی شراکت داری میں تبدیل کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ مشترکہ دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، تربیت اور عسکری تعاون کے امکانات بھی موجود ہیں، جو کسی ایک بحران سے کہیں زیادہ طویل المدت اثرات پیدا کرسکتے ہیں۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے حالیہ بیانات بھی اس سلسلے میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ مؤقف کہ بیرونی دنیا سے درآمد کیے گئے حل اکثر مسائل کم کرنے کے بجائے مزید بحران پیدا کرتے ہیں، دراصل علاقائی خودمختاری پر مبنی ایک نئے تزویراتی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور سلامتی کے مسائل کے حل کی ذمہ داری خود خطے کے ممالک قبول کرتے ہیں تو یہ عالمی طاقتوں کے روایتی کردار میں ایک بنیادی تبدیلی ہوگی۔
اس تصور کے پھیلاؤ کا ایک اہم اشارہ یہ بھی ہے کہ ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے مصر کے آئندہ مرحلے میں اس انتظام میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ مصر نے تاحال اس حوالے سے کوئی واضح عوامی موقف اختیار نہیں کیا، تاہم قاہرہ کی علاقائی، عسکری اور جغرافیائی اہمیت ایسی ہے کہ اس کی ممکنہ شمولیت کسی بھی علاقائی دفاعی ڈھانچے کو مزید وسیع اور مؤثر بنا سکتی ہے۔ اگر مصر اس عمل کا حصہ بنتا ہے تو یہ اتحاد محض تین ممالک کا دفاعی معاہدہ نہیں رہے گا بلکہ ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کے نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت بھی رسمی نوعیت سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان ایک ایسے علاقائی تزویراتی ڈھانچے کا حصہ بن رہا ہے جو سلامتی کے معاملات میں علاقائی ملکیت اور باہمی ذمہ داری کو اہمیت دیتا ہے۔ ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری اسلام آباد کو مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطوں میں بدلتے ہوئے دفاعی اور سفارتی ماحول میں ایک اہم کردار فراہم کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تجربے، عسکری صلاحیت اور دفاعی صنعت کے لیے بھی نئے تعاون کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
اس معاہدے کا ایک اہم سیاسی پہلو یہ بھی ہے کہ یہ خطے کی سلامتی کو کسی ایک طاقت یا کسی ایک ملک کی بالادستی کے تصور سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اس وقت تک مشکل رہے گا جب تک سلامتی کا تصور باہمی مساوات، خودمختاری اور اجتماعی ذمہ داری پر قائم نہیں ہوتا۔ کسی ایک ریاست کی علاقائی بالادستی یا بیرونی طاقت کی مستقل عسکری سرپرستی طویل مدت میں استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
تاہم اس مرحلے پر اس معاہدے کو ایک مکمل اور مؤثر علاقائی دفاعی اتحاد قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ کسی بھی دفاعی معاہدے کی حقیقی طاقت اس کے متن سے زیادہ اس پر عمل درآمد، مشترکہ ادارہ جاتی نظام، مالی وسائل، عسکری ہم آہنگی اور سیاسی عزم سے متعین ہوتی ہے۔ تینوں ممالک کے مفادات میں کئی مقامات پر ہم آہنگی ضرور موجود ہے، لیکن ان کی خارجہ پالیسی، علاقائی ترجیحات اور عالمی تعلقات میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ اس لیے معاہدے کو ایک مؤثر علاقائی نظام میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل سیاسی اور ادارہ جاتی محنت درکار ہوگی۔
اس کے باوجود سمت واضح دکھائی دیتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک اب اپنی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں پہلے سے زیادہ خود فیصلہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی بدلتی ہوئی سوچ کا ایک اہم مظہر ہے۔ اگر یہ شراکت داری بتدریج مصر اور دیگر علاقائی ممالک تک پھیلتی ہے اور مشترکہ دفاعی اداروں، صنعت اور حکمت عملی میں تبدیل ہوتی ہے تو مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے ایک نئے علاقائی تصور کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ خطہ بیرونی طاقتوں کی اجازت سے اپنی سلامتی کا نظام کب بنائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے کے ممالک اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر ایسا نظام قائم کرسکتے ہیں جس میں ان کی سلامتی کی ذمہ داری خود ان کے پاس ہو۔ موجودہ حالات اس امکان کو پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت کے قریب لے آئے ہیں۔ جنگ کی راکھ سے اگر کوئی نیا علاقائی نظام ابھرتا ہے تو اس کی بنیاد بیرونی سرپرستی نہیں بلکہ علاقائی ملکیت، مشترکہ دفاع اور باہمی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی بہترین فروخت ہونے والی کتابیں، جن میں معروف کتاب دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر اداروں سے دستیاب ہیں۔ گھر پر ترسیل کے لیے رابطہ کریں: 0300 9552542۔









