پاکستان میں مطالعے کی ثقافت کیوں ناگزیر ہے؟

[post-views]
[post-views]

اداریہ

ایک ایسے دور میں جب انسانی توجہ سماجی ذرائع ابلاغ، مختصر ویڈیوز اور تیز رفتار ڈیجیٹل مواد کی نذر ہو رہی ہے، لاہور کی تاریخی قائداعظم لائبریری میں قومی مطالعۂ کتب تحریک کا آغاز ایک بروقت اور نہایت اہم ثقافتی اقدام ہے۔ ریپبلک پالیسی کے پلیٹ فارم سے، پنجاب لائبریریز کے ڈائریکٹر جنرل کاشف منظور کی قیادت میں شروع ہونے والی اس تحریک کا پیغام نہایت سادہ مگر دور رس ہے: ہر پاکستانی سال میں کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھے۔ بظاہر یہ ایک معمولی ہدف محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہی ایک عادت قوم کی فکری، اخلاقی اور سماجی تعمیر کی بنیاد بن سکتی ہے۔

پاکستان کے مسائل پر گفتگو عموماً معیشت، سیاست اور سلامتی تک محدود رہتی ہے، لیکن ایک بنیادی مسئلہ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے مطالعے کی گرتی ہوئی روایت۔ جو قومیں کتاب سے اپنا تعلق کھو دیتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور باشعور شہری کردار سے بھی محروم ہو جاتی ہیں۔ کتاب انسان کو وہ اوصاف عطا کرتی ہے جو کوئی مختصر وڈیو، سرخی یا سماجی رابطے کی پوسٹ فراہم نہیں کر سکتی۔ مطالعہ صبر، غور و فکر، تجزیاتی ذہن اور علمی جستجو کو فروغ دیتا ہے، اور یہی وہ خصوصیات ہیں جن پر مضبوط جمہوریت، مؤثر حکمرانی اور ترقی یافتہ معاشرے استوار ہوتے ہیں۔

معروف ادبی مفکر نارتھروپ فرائے نے بجا کہا تھا: “ادب کا بنیادی مقصد صرف جمالیاتی لطف دینا نہیں بلکہ قاری کو تبدیل کرنا ہے۔” کتابیں محض معلومات منتقل نہیں کرتیں بلکہ شخصیت، سوچ اور شعور کو تشکیل دیتی ہیں۔ وہ انسان کو مختلف زاویوں سے سوچنے، اختلافِ رائے کو سمجھنے اور پیچیدہ مسائل کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہیں۔

یہ تحریک صرف ادبی سرگرمی نہیں بلکہ قومی تعمیر کا ایک سنگِ میل ہے۔ سابق کابینہ سیکریٹری احمد نواز سکھیرا، مصنف طارق محمود اعوان، سینئر سرکاری افسران، اہلِ قلم اور علمی شخصیات نے بجا طور پر اس بات پر زور دیا کہ کتاب دوستی کا فروغ ایک مضبوط، باشعور اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ جو قومیں کتاب کو اہمیت دیتی ہیں، وہی مضبوط ادارے، مؤثر پالیسیاں اور پائیدار ترقی حاصل کرتی ہیں۔

مؤرخ آرتھر شلیسنجر جونیئر نے خبردار کیا تھا کہ “جو معاشرہ مختصر جملوں اور سطحی تبصروں تک محدود ہو جائے، وہ اپنی گہری یادداشت اور خود احتسابی کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔” آج پاکستان میں بھی عوامی مباحثہ اکثر سنسنی خیزی، شور اور فوری ردِعمل تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ مطالعہ اس رجحان کا مؤثر علاج ہے، کیونکہ یہی انسان کو تحمل، دلیل اور فکری پختگی عطا کرتا ہے۔

تاہم اس تحریک کی کامیابی صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ اسکولوں کو بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنا ہوگی، جامعات کو نصابی کتب سے آگے آزاد مطالعے کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، لائبریریوں کو فعال علمی مراکز بنانا ہوگا، والدین کو گھروں میں کتاب دوستی کا ماحول پیدا کرنا ہوگا، اور نجی شعبے کو کتابوں کی اشاعت اور ان کی آسان دستیابی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مطالعہ صرف ایک سرگرمی نہیں بلکہ ایک قومی مزاج بننا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ کتاب کی طرف واپسی ماضی کی طرف واپسی نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ ہر عظیم تہذیب کی بنیاد علم پر رکھی گئی، اور ہر بڑا خیال کتاب کے صفحات سے ہی جنم لیتا ہے۔ اگر قومی مطالعۂ کتب تحریک پاکستانی معاشرے میں مطالعے کو ایک مستقل عادت بنانے میں کامیاب ہو گئی، تو یہ صرف شرحِ خواندگی میں اضافہ نہیں کرے گی بلکہ ایک زیادہ باشعور، مہذب، تخلیقی اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بھی رکھے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]