پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعہ کے روز حکومت پر سپریم کورٹ کے اس حکم کی ’’خلاف ورزی‘‘ کرتے ہوئے توہینِ عدالت کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا، جس میں پارٹی کے بانی اور زیرِ حراست عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتے کے روز اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
سپریم کورٹ نے منگل کو حکومت کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کو نجی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ جمعرات کی شب اسپتال کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کیے جانے کے بعد سب کی نظریں اسی اسپتال پر تھیں۔ تاہم وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعہ کو انکشاف کیا کہ عمران خان کو شفا کے بجائے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ عمران خان کی طبی رپورٹس یا ان کی صحت سے متعلق کسی بھی معلومات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
جمعہ کو عمران خان کی بہن عظمیٰ خان، جو ان کے طبی معائنے کے دوران موجود تھیں، نے اسلام آباد میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔
عظمیٰ خان نے بتایا کہ جمعرات کو انہیں اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو فون کرکے اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت کی گئی، جہاں عمران خان قید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم رات تقریباً 8 سے ساڑھے 8 بجے اڈیالہ جیل پہنچے۔‘‘ ان کے مطابق دونوں کو ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے کمرے میں لے جایا گیا، جس کی انہوں نے شناخت سبطین کے نام سے کی۔
عظمیٰ کے مطابق بعد میں سبطین نے ڈاکٹر فیصل سلطان کو اپنے ساتھ کمرے سے باہر جانے کو کہا جبکہ انہیں کمرے میں ہی رہنے دیا گیا۔ تقریباً 10 سے 15 منٹ بعد ایک خاتون اسسٹنٹ سب انسپکٹر انہیں ایک گاڑی تک لے گئی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ان کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا، حتیٰ کہ جب انہوں نے ڈاکٹر فیصل سلطان کے بارے میں پوچھا تب بھی انہیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں انہیں پمز لے جایا گیا۔
عظمیٰ خان کے مطابق انہوں نے پولیس اہلکاروں سے پوچھا کہ انہیں پمز کیوں لایا گیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال جانے کا حکم دیا تھا۔ ان کے بقول، جواب میں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کے حوالے سے فالو اَپ معائنہ کیا جانا ہے۔
عمران خان کو جنوری کے اواخر میں سامنے آنے والی آنکھ کی بیماری، رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO)، کے بعد متعدد مرتبہ علاج کے لیے پمز لے جایا جا چکا ہے۔
پمز میں جمعرات کی شب اپنے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا کہ وہاں ’’ہر طرف اندھیرا تھا۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک دفتر میں لے جایا گیا جہاں ایک شخص نے موبائل فون کی ٹارچ سے راستہ روشن کیا۔ ان کے خیال میں وہ دفتر اسپتال کے کسی شعبے کے سربراہ کا تھا۔ کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد انہیں اوپر لے جایا گیا۔
عظمیٰ کے مطابق اوپر پہنچنے پر عمران خان وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور انہیں دیکھ کر وہ بھی قدرے حیران ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کھڑے ہوئے اور صدمے کی کیفیت میں اپنے ساتھ موجود ڈاکٹروں سے کہا کہ ’’یہ میری بہن ہیں اور ہم 10 ماہ بعد مل رہے ہیں۔‘‘
عظمیٰ نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ انہیں طبی معائنے کے لیے یہاں لایا گیا ہے اور بعد میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے پمز میں ڈاکٹر فیصل سلطان کے بارے میں بھی پوچھا، تاہم انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
بعد ازاں عمران خان اور ان کی بہن کو ایک اور دفتر لے جایا گیا جہاں عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا گیا۔
عظمیٰ کے مطابق وہاں دو سے تین ڈاکٹرز موجود تھے، تاہم وہ ان میں سے کسی کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعارف ڈاکٹر عارف سے کرایا گیا، جبکہ دیگر ڈاکٹروں سے وہ واقف نہیں تھیں۔









