بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’’امریکی علاقہ‘‘ قرار دے دیا، جنوبی کیرولائنا کے جلسے میں ایران پر بمباری کا مذاق

[post-views]
[post-views]

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز آبنائے ہرمز کو ’’امریکی علاقہ‘‘ قرار دیا، جبکہ امریکہ ایران کی بحری تجارت اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

جنوبی کیرولائنا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں وہ سینیٹر ڈارلین گراہم کی انتخابی مہم کے لیے موجود تھے، ٹرمپ نے کہا: ’’ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم جیتے یا نہیں، کیونکہ میں اس وقت آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ سمجھتا ہوں۔‘‘

ڈارلین گراہم اپنے مرحوم بھائی لنڈسے گراہم کی خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست مستقل طور پر حاصل کرنے کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔

بعد ازاں اپنی تقریر کے دوران ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کے امکان کو بھی مذاق کا موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا: ’’یہ جمعہ کی رات ہے، ہمارے پاس کافی وقت ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اپنی جلسہ جاتی تقاریر میں اکثر پڑھی جانے والی نظم ’’دی اسنیک‘‘ سنائی، جسے وہ عموماً اپنی تارکِ وطن مخالف پالیسی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’’آخر مجھے کرنا کیا ہے؟ واپس جاؤں اور ایران پر کچھ اور بمباری کروں؟‘‘

جمعہ تک امریکی افواج ناکہ بندی پر عمل درآمد کے لیے 68 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کر چکی تھیں، امریکی مرکزی کمان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان کے مطابق۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی یا امن معاہدہ طے نہیں پا سکا اور تنازع کو تقریباً چھ ماہ ہونے والے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اب آبنائے ہرمز تک رسائی محدود کرکے ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آبنائے ہرمز ایران کی تیل کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے اور عام حالات میں دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والی تیل کی مجموعی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ نیویارک کی ایک پولیس اکیڈمی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ’’بنیادی طور پر یہ وہی ہے۔ ہمارے پاس ناکہ بندی ہے۔ کوئی جہاز اس وقت تک گزر نہیں سکتا جب تک ہم نہ چاہیں۔‘‘

پیر کے روز صحافیوں کی جانب سے اس بیان کے بارے میں سوال کیے جانے پر ٹرمپ نے کہا: ’’ہم ناکہ بندی کے ذریعے اس پر کنٹرول رکھتے ہیں اور مجھے اسے ایک علاقہ قرار دینے کا خیال پسند ہے۔‘‘

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک نقشہ بھی جاری کیا تھا، جس میں اس آبی گزرگاہ کو ’’نئے امریکی علاقے‘‘ کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]