جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس کے درمیان جمعرات کو اصولی طور پر ایک ’’متحدہ اپوزیشن‘‘ تشکیل دینے پر اتفاق ہوگیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اپوزیشن چیمبر میں دونوں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور، اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اتحادی جماعتوں کے مطابق اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کے ساتھ حکومت کے رویے اور طرز عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حکومت کی موجودہ پالیسیوں، پارلیمان میں اپوزیشن کے کردار اور آئین و جمہوریت کے تحفظ کے لیے مستقبل کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن اور محمود اچکزئی نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے اور پارلیمانی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مزید مشاورت جاری رکھنے اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان یہ اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ اب متحدہ اپوزیشن تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے مزید مضبوط کیے جائیں گے اور مشترکہ حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کے امکان پر بھی غور کیا جانا چاہیے









