بنگلہ دیش نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان پر آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔ ڈھاکہ اپنی قومی مفادات کو خارجہ پالیسی کا مرکز برقرار رکھتے ہوئے اپنے تزویراتی شراکت داری کے دائرے کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ادارے بنگلہ دیش سنگباد سنگستھا کے مطابق سامنے آئی ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر ہمایوں کبیر نے کہا، ’’بنگلہ دیش سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل کسی اقتصادی یا دفاعی ڈھانچے میں شمولیت کے امکان کے حوالے سے مثبت رویہ رکھتا ہے، تاہم اس میں اپنے مفادات اور عالمی معیشت و تجارت کی بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے گا۔‘‘
کبیر نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنی ’’بنگلہ دیش فرسٹ‘‘ پالیسی کے تحت متوازن خارجہ پالیسی اختیار کر رہا ہے، جس میں قومی مفادات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بنگلہ دیش معمول کے سفارتی روابط کے تحت پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے، جس میں تجارت اور عوامی سطح پر روابط کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کا ریاض کا دورہ موسم گرما کے بعد جلد حتمی شکل اختیار کرنے کا امکان ہے۔
یہ بیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جانے کے صرف دو ہفتے سے کچھ زیادہ عرصے بعد سامنے آیا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ معاہدہ وسیع تر دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی بازدارندگی کا بھی تصور پیش کرتا ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے اس انتظام کو تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 میں موجود باہمی دفاع کی شق سے مشابہ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ انقرہ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اس ڈھانچے میں خطے کے دیگر ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ مصر کو پہلے ہی ممکنہ شریک ملک کے طور پر پیش کیا جا چکا ہے۔
پاکستان نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے اصولوں کی پاسداری پر آمادہ ہوں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ پہلے سے موجود دوطرفہ یا کثیرالجہتی انتظامات کا متبادل نہیں ہے بلکہ تعاون، باہمی احترام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پُرعزم ممالک کے لیے کھلا ہے۔









