پاک فوج کے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا اہم سرکاری دورہ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) اور ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس دورے کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کا جامع و پرامن حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو آگے بڑھانا ہے۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کی استواری اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اسلام آباد معاہدے کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی وعدہ خلافیوں نے علاقائی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی امریکہ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا، جبکہ پاک – ایران وفود نے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے سرحدی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی براہِ راست کشیدگی کے بعد اپریل میں قائم ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود تنگۂ ہرمز کے کنٹرول اور امریکی پابندیوں کے باعث خطے میں تناؤ برقرار ہے۔ پاکستان نے جون میں دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ طے کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اب بھی اپنی امن کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جس پر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس وقت اسلام آباد اور تہران کے تعلقات تاریخ کے مضبوط ترین موڑ پر ہیں۔









