وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کو اسٹریٹجک شراکت دار کی حیثیت سے اپنے اقتصادی اور زرعی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہیے۔
یہ بات سعودی وزیر برائے ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمٰن بن عبدالمحسن الفضلی کی جانب سے جمعہ کو اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں وزیرِاعظم سے ملاقات کے موقع پر سامنے آئی۔ سرکاری بیان کے مطابق، وزیرِاعظم نے سعودی معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور برادرانہ تعلقات کی تجدید کی اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے تینوں ممالک کو مزید قریب کردیا ہے اور خطے میں اتحاد اور امن کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک شراکت دار ہونے کے ناتے پاکستان اور سعودی عرب کو اب اپنی توانائیاں اقتصادی اور زرعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر مرکوز کرنی چاہئیں، تاکہ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو زیادہ مضبوط اور باہمی مفاد پر مبنی تجارتی و سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کیا جاسکے۔
وزیرِاعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تعمیری روابط پر اطمینان کا اظہار کیا، خصوصاً سعودی عرب کو پاکستان کی زرعی مصنوعات کی برآمد کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ وزیراعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق، ملاقات میں پاکستان میں ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی اور پانی کے وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال کے ذریعے زرعی پیداوار بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستانی زرعی ماہرین کا ایک وفد جلد ریاض کا دورہ کرے گا تاکہ ان معاملات پر بات چیت کو آگے بڑھایا جاسکے اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد ملے۔
سعودی وزیر نے وزیرِاعظم کا اپنی اور اپنے وفد کی میزبانی اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور زراعت، پانی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید گہرا کرنے کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا۔








