بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

نمایاں اسرائیلی شخصیات کی مغربی کنارے کی بستیوں پر برطانوی پابندیوں کی حمایت

[post-views]
[post-views]

اسرائیل کی نمایاں سیاسی، سفارتی، عسکری اور علمی شخصیات نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور تشدد کے خلاف برطانیہ کی نئی پابندیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں اسرائیلی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی ناکامیوں کا ناگزیر نتیجہ قرار دیا ہے۔

سابق اعلیٰ حکام اور معروف شخصیات نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ پابندیاں اسرائیلی ریاست کے خلاف نہیں بلکہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کردیا کہ یہ اقدامات یہود دشمنی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق آبادکاروں کے تشدد کو روکنے میں اسرائیلی حکومت کی ناکامی نے بین الاقوامی کارروائی کو ناگزیر بنا دیا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ پہلے ہی مزید اقدامات کا عندیہ دے چکے تھے، تاہم پابندیوں کے دائرہ کار اور ان کی جانب سے اختیار کیے گئے سخت مؤقف نے اسرائیلی حکام کو حیران کردیا۔ یہ اقدام حالیہ برسوں میں اسرائیل کے کسی قریبی اتحادی کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورت حال پر معاشی دباؤ استعمال کرنے کی نمایاں کوششوں میں شمار ہوتا ہے۔

برطانوی اقدام کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب فرانس اور کینیڈا نے بھی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی تجارت محدود کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جبکہ 10 دیگر یورپی ممالک نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی حمایت کی۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو برطانوی فیصلے سے پہلے آگاہ کردیا گیا تھا، تاہم ان کی جانب سے اس کی عوامی سطح پر مخالفت سامنے نہیں آئی۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔ یہودی عوامی پالیسی ادارے کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق تقریباً تین چوتھائی یہودی اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے کے جزوی یا مکمل الحاق کے حامی ہیں، جبکہ آئندہ اسرائیلی انتخابات کے اہم امیدوار فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کے سیاسی، سکیورٹی اور ثقافتی حلقوں کے بعض حصوں میں آبادکاروں کے تشدد کے خلاف آوازیں بھی زیادہ نمایاں ہورہی ہیں۔ بعض معروف اسرائیلی شخصیات نے مقبوضہ علاقوں میں انتہا پسندانہ تشدد اور نسلی صفائی کے نظریے کی مبینہ سرکاری حمایت پر اپنی ہی حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔

اسرائیلی اکیڈمی برائے سائنس و علوم انسانی کے صدر پروفیسر ڈیوڈ ہیرل بھی برطانوی اقدامات کی حمایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وہ اسرائیل کے خلاف عمومی بائیکاٹ یا وسیع پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن ان کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی مخصوص پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف ہدفی بین الاقوامی کارروائی جائز ہے۔

ہیرل نے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ بین الاقوامی دباؤ کو اسرائیلی انتخابات تک مؤخر کردیا جائے۔ ان کے مطابق فلسطینی مسلسل تشدد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ قبضہ خود اسرائیل کے طویل مدتی مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادتیوں کا خاتمہ اور دو ریاستی حل پر سنجیدہ مذاکرات کی بحالی فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلیوں کے مفاد میں بھی ہے۔

مشترکہ بیان پر سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ، سابق فوجی سربراہ ڈین ہالوٹز، سابق وزرا یولی تمیر اور رونی بار آن اور جرمنی میں اسرائیل کے سابق سفیر یورام بن زیو نے بھی دستخط کیے۔ ان کے مطابق انتہا پسندانہ تشدد کے خلاف اقدامات اسرائیل کو ایک ایسے مسئلے سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں جسے اس کے اپنے ادارے قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سابق سفارت کار نداو تمیر نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ فلسطینی علاقوں کے الحاق اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی روکنے کی کوششیں اسرائیل کے طویل مدتی مفادات کے مطابق ہیں اور اس کے جمہوری تشخص اور سلامتی کے تحفظ میں مدد دے سکتی ہیں۔

اگرچہ مقبوضہ علاقوں سے برطانیہ کو برآمد ہونے والی اشیا کی براہ راست معاشی مالیت نسبتاً کم ہے، لیکن پابندیوں کے وسیع تر اثرات زیادہ اہم ہوسکتے ہیں۔ اسرائیل کی غیر ملکی تجارت کی انتظامیہ کے سربراہ روئے فشر کے مطابق گزشتہ سال مقبوضہ علاقوں سے برطانیہ کو تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی اشیا برآمد کی گئیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اشیا اور خدمات کی مجموعی تجارت تقریباً 4.4 ارب ڈالر تھی۔

زیادہ اہم معاملہ ان کمپنیوں پر ممکنہ پابندیوں کا ہے جو بستیوں کی توسیع کے لیے مالی معاونت یا سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اگر ایسے اقدامات وسیع پیمانے پر نافذ کیے گئے تو اسرائیلی بینکوں اور بیمہ کمپنیوں کو برطانیہ میں اپنے تجارتی مفادات اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں سے منسلک سرگرمیوں کے درمیان انتخاب کرنا پڑسکتا ہے۔ برطانوی اقدامات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم ان سے بستیوں کی مالی معاونت اور توسیع متاثر ہوسکتی ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کے سابق اسپیکر ابراہام برگ نے برطانوی اقدام کو ایک اہم آغاز قرار دیتے ہوئے لندن پر زور دیا کہ وہ اس عمل کو یہیں نہ روکے۔

تاہم اسرائیلی حکومت نے اس اقدام کو سختی سے مسترد کردیا۔ وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے ایڈ ملی بینڈ پر اکتوبر کے آخر میں ہونے والے انتخابات سے قبل اسرائیل کے داخلی معاملات میں ’’کھلی مداخلت‘‘ کا الزام لگایا۔ بعض حزب اختلاف کے سیاست دانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان پابندیوں کو اپنی انتخابی مہم میں استعمال کرتے ہوئے بیرونی دباؤ کو اسرائیل کے خلاف اقدام کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔

اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار ڈالیا شائنڈلن کے مطابق برطانوی اقدام سے اکتوبر کے انتخابات کے نتائج پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد اسرائیلی سیاست زیادہ داخلی نوعیت اختیار کرچکی ہے۔ نیتن یاہو کے حامی بیرونی پابندیوں کو اسرائیل دشمنی یا یہود دشمنی کے ثبوت کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جبکہ مخالفین انہیں نیتن یاہو کی پالیسیوں کے باعث اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کی علامت سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم دونوں صورتوں میں موجودہ انتخابی تقسیم میں بڑی تبدیلی کا امکان محدود ہے۔

برطانوی اعلان ایسے حساس وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی فہرستیں حتمی شکل دے رہی تھیں اور ان اطلاعات پر دوبارہ توجہ مرکوز تھی کہ 7 اکتوبر کے حملوں سے قبل نیتن یاہو کو سکیورٹی خطرات سے متعلق تنبیہات دی گئی تھیں۔

بتسیلم، طبی ماہرین برائے انسانی حقوق اسرائیل اور بریکنگ دی سائلنس سمیت 14 اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پابندیوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اسے ایک اہم ابتدائی قدم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مزید عملی اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ بین الاقوامی معاشی اور سیاسی تعلقات مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، جبری بے دخلی اور فلسطینیوں کے خلاف دیگر اقدامات میں معاون نہ بنیں۔

اس معاملے پر اسرائیل کے اندر ردعمل ایک بڑھتی ہوئی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت جہاں بیرونی پابندیوں کو ناقابل قبول مداخلت قرار دے رہی ہے، وہیں سابق حکام، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ایک نمایاں حلقہ سمجھتا ہے کہ اسرائیلی اداروں کی جانب سے آبادکاروں کے تشدد اور بستیوں کی توسیع روکنے میں ناکامی کے بعد ہدفی بین الاقوامی دباؤ ضروری ہوگیا ہے۔

ان شخصیات کا مؤقف اسرائیل کے خلاف بلاامتیاز پابندیوں کی حمایت نہیں، بلکہ مخصوص پالیسیوں اور مقبوضہ علاقوں میں ہونے والی سرگرمیوں کے خلاف ہدفی اقدامات کی حمایت ہے۔

برطانوی پابندیوں کے فوری معاشی اثرات شاید محدود ہوں، لیکن ان کی سیاسی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ اسرائیل کا ایک قریبی اتحادی اب محض اظہارِ تشویش سے آگے بڑھ کر معاشی دباؤ استعمال کر رہا ہے، جبکہ خود اسرائیل کی نمایاں شخصیات یہ دلیل دے رہی ہیں کہ ایسا دباؤ فلسطینیوں کے حقوق کے ساتھ اسرائیل کے طویل مدتی مفادات کے لیے بھی ضروری ہوسکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]