امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئی تو ہر بالغ امریکی کو 5 ہزار ڈالر کا ’’ٹرمپ منافع‘‘ دیا جائے گا۔ اس اعلان کے ساتھ ٹرمپ نے خود کو اپنی جماعت کی مشکل انتخابی مہم کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو ڈیلاس میں ریپبلکن پارٹی کے پہلے وسط مدتی انتخابی کنونشن کے دوران یہ تجویز پیش کی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس رقم کا انتظام کیسے کیا جائے گا، ادائیگی کا طریقۂ کار کیا ہوگا اور اس کے لیے قانونی منظوری کیسے حاصل کی جائے گی۔ امریکا میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد کے حساب سے اس منصوبے پر لگ بھگ 1.35 کھرب ڈالر لاگت آسکتی ہے۔
ایک گھنٹے پر محیط اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اپنی موجودہ صدارت کے ابتدائی دو برسوں کو ’’صدارت کی تاریخ کے عظیم ترین دو سال‘‘ قرار دیا اور ووٹروں پر زور دیا کہ وہ کانگریس کے انتخابات کو ان کی قیادت پر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھیں۔
انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا، ’’میں آپ سے کہتا ہوں کہ ایسے سمجھیں جیسے میں خود انتخابی میدان میں ہوں۔‘‘
تاہم یہ حکمت عملی سیاسی طور پر خطرے سے خالی نہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ غیر یقینی ووٹروں میں مہنگائی اور ایران کے ساتھ جاری امریکی جنگ پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹ ووٹر انتخاب میں شرکت کے لیے نسبتاً زیادہ پُرجوش دکھائی دیتے ہیں اور ریپبلکنز کو کانگریس کے کم از کم ایک ایوان کا کنٹرول کھونے کا خطرہ درپیش ہے۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے ریپبلکن کامیابی کو امریکا کے مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیا اور خبردار کیا کہ ڈیموکریٹس کے اقتدار میں آنے سے ان کی انتظامیہ کی پالیسیاں متاثر ہوں گی۔ انہوں نے 3 نومبر کے انتخابات سے قبل آخری آٹھ ہفتوں کے دوران اہم ریاستوں اور انتخابی حلقوں کے متعدد دوروں کا بھی وعدہ کیا۔
ڈیلاس میں دو روزہ کنونشن نے واضح کیا کہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی قسمت کس قدر ٹرمپ سے وابستہ ہوچکی ہے۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے چیئرمین جو گروٹرز نے غیر رسمی طور پر اس اجتماع کو ’’ٹرمپ پالوزا‘‘ قرار دیا، جو تقریب میں صدر کی غیر معمولی مرکزیت کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ انحصار سخت مقابلے والے حلقوں میں ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کرتا ہے۔ انہیں ایک طرف معتدل اور آزاد ووٹروں کی حمایت درکار ہے، جبکہ دوسری طرف وہ ٹرمپ کے مضبوط سیاسی حامیوں کو ناراض کرنے کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتے۔ سخت مقابلے کا سامنا کرنے والے کئی ریپبلکن رہنما، جن میں ٹام بیریٹ، ڈین سلیوان اور سوزن کولنز شامل ہیں، کنونشن میں شریک نہیں ہوئے۔
دوسری جانب کم از کم 16 ایسے امیدواروں کو خطاب کرنا تھا جو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے اہم انتخابی مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن اور اوہائیو کے سینیٹر جان ہسٹیڈ بھی شامل تھے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 21 ہزار نشستوں والا مقام لوگوں سے بھرا ہوا تھا، تاہم اطلاعات کے مطابق ان کے خطاب کے دوران بالائی حصے کی بڑی تعداد میں نشستیں خالی تھیں۔
کنونشن میں زیادہ تر توجہ ڈیموکریٹس کو نظریاتی طور پر انتہا پسند ثابت کرنے پر مرکوز رہی۔ ریپبلکن مقررین نے سرحدی سلامتی، خواتین کے کھیلوں میں خواجہ سرا خواتین کی شرکت اور دیگر ثقافتی و سماجی معاملات پر ڈیموکریٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ بعض نے انہیں ’’سوشلسٹ‘‘ اور ’’کمیونسٹ‘‘ بھی قرار دیا۔
اس کے برعکس ووٹروں کے دو اہم مسائل، مہنگائی اور ایران کے ساتھ جنگ، نسبتاً کم زیر بحث آئے۔
ٹرمپ نے ایران پر حملے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی ضروری تھی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کے جنگ جیتنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی اور جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔
تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، جبکہ تہران مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
بعض ریپبلکن رہنماؤں نے بھی جنگ سے متعلق عوامی بے چینی کا اعتراف کیا ہے۔ الاباما کے ریاستی رکنِ اسمبلی ارنی یاربرو کے مطابق ووٹر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایران میں امریکی اہداف کیا ہیں اور جنگ کتنے عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ یہ تشویش بھی موجود ہے کہ امریکا ایک اور طویل جنگ میں پھنس سکتا ہے۔
کنونشن کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود اختلافات بھی نمایاں ہوئے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے پنسلوانیا کے ریپبلکن سینیٹر ڈیو مک کارمک کا تعارف کرایا اور انہیں اپنا ’’قریبی دوست‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے پنسلوانیا کی فولاد کی صنعت کے تحفظ کے لیے ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ فیٹرمین کے ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے اختلافات بڑھتے رہے ہیں، تاہم وہ پارٹی چھوڑنے کی قیاس آرائیوں کی تردید کرچکے ہیں۔
انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم وقت باقی رہنے کے باعث دونوں جماعتوں کے لیے سیاسی داؤ بہت بڑا ہے۔ ریپبلکنز اپنے ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس مہنگائی، ایران جنگ اور ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔
ٹرمپ کا 5 ہزار ڈالر دینے کا وعدہ اب انتخابی مہم میں ایک بڑی معاشی پیشکش بن چکا ہے۔ تاہم اس کی مالی معاونت، قانونی بنیاد اور عملی طریقۂ کار کی تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث ’’ٹرمپ منافع‘‘ فی الحال ایک واضح معاشی پالیسی سے زیادہ انتخابی وعدہ دکھائی دیتا ہے۔









