محمد زبیر، سرکاری افسر
کوئی انسان دوسرے انسان کو اپنی نگاہ کے تعصبات سے آزاد ہو کر نہیں دیکھ سکتا۔ ہماری خواہشات، خوف، محبتیں اور شکایات ہمارے ہر مشاہدے میں شامل ہوتی ہیں۔ اس لیے جب بھی ہم کسی شخص کو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم اس شخص کے بارے میں حقیقتاً کتنا جانتے ہیں اور کتنا کچھ محض اپنے قائم کردہ تصورات کی بنیاد پر سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
یہیں سے خود احتسابی باطنی تربیت کا بنیادی حصہ بن جاتی ہے۔ کسی دوسرے انسان کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہچانیں کہ ہماری اپنی نگاہ نے اس حقیقت میں کیا کچھ شامل کر دیا ہے۔ اکثر جس پردے کو ہم دوسرے کے چہرے پر پڑا ہوا سمجھتے ہیں، وہ دراصل ہماری اپنی آنکھوں پر پڑا ہوتا ہے۔
یہ پردہ صرف لاعلمی سے نہیں بلکہ علم کے غرور سے بھی بنتا ہے۔ کسی شخص کے ساتھ ایک تلخ تجربے کو اس کی پوری شخصیت پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اس کے اندر بھی ایسی کشمکش اور تبدیلی کے امکانات موجود ہوتے ہیں جو ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔
ادب ہمیں انسانی شخصیت کی اسی پوشیدہ دنیا تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔ اپنی حقیقی صورت میں ادب انسان کے ظاہر اور باطن، عمل اور محرک، انتخاب اور مجبوری کے درمیان تعلق کو آشکار کرتا ہے۔ یوں ادبی مطالعہ، انسانی فہم اور باطنی تربیت ایک ہی بنیادی سوال کے گرد جمع ہو جاتے ہیں: ہم اپنے بنائے ہوئے تصورات سے آگے بڑھ کر دوسرے انسان کو اس کی حقیقی صورت میں کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
فرانسیسی مفکرہ سیمون وائل اپنی کتاب خدا کا انتظار میں توجہ کو ایک گہرا مفہوم دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک حقیقی توجہ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے فوری ردعمل کو روکیں اور سامنے موجود حقیقت کو خود کو ظاہر کرنے کے لیے مناسب وقت دیں۔ ہمارا علم ہمارے ساتھ ضرور ہوتا ہے، لیکن ہمیں اسے اس قدر غالب نہیں ہونے دینا چاہیے کہ جس حقیقت کو ہم سمجھنا چاہتے ہیں، وہ اسی علم کے بوجھ تلے دب جائے یا ہماری نگاہ سے مکمل طور پر اوجھل ہو جائے۔
جب ہم دوسروں کی بات سنتے ہیں تو اکثر ان کی گفتگو مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کے بارے میں فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ہم فوراً رائے قائم کر دیتے ہیں کہ یہ شخص بہت حساس ہے، وہ ہمیشہ شکایت کرتا ہے اور فلاں شخص کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرے گا۔
سیمون وائل کے تصورِ توجہ میں ایک خاص قسم کی انکساری موجود ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ حقیقت ہماری موجودہ سمجھ سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ کسی مصیبت زدہ شخص کو محض ضرورت مند قرار دینا اس کی حالت کو ایک عمومی نام دینے کے مترادف ہے۔ لیکن اس کا مخصوص دکھ کیا ہے؟ اسے کس بات پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے؟ وہ کیا کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں پاتا؟ ان سوالات تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنے اندازوں سے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔
محض ہمدردی بھی ایسی توجہ کی ضمانت نہیں دیتی۔ بعض اوقات ہمدردی کے جذبے میں ہم دوسروں کی طرف سے خود بولنے لگتے ہیں۔ حقیقی توجہ کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں اپنے تجربے کا مفہوم خود بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔
ادبی مطالعہ اس رویے کی عملی تربیت بن سکتا ہے۔ جب ہم کسی ادبی کردار کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو بعض اوقات ہمیں اس کے بارے میں اپنی پہلی رائے بدلنا پڑتی ہے۔ جو بات ابتدا میں اس کی شخصیت کا حتمی ثبوت محسوس ہوتی تھی، بعد کے واقعات کی روشنی میں اس کا مفہوم بدل جاتا ہے۔
حقیقت نگاری کی اصل قوت اسی دریافت میں پوشیدہ ہے۔ یہ حالات، انسانی ردعمل، محرکات اور تعلقات کے درمیان ایسے روابط ظاہر کرتی ہے جن میں زندگی اپنی تمام پیچیدگیوں کے ساتھ پہچانی جا سکتی ہے۔
اس عمل میں تخیل بھی ضروری ہے۔ محض واقعات درج کر دینا انسان کی باطنی زندگی کو آشکار نہیں کرتا۔ ادیب کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ کہاں سے جنم لیتا ہے، کس انسان کے باطن میں اترتا ہے، وہاں کس طرح جگہ بناتا ہے اور بعد کے رویوں میں کون سی صورت اختیار کرتا ہے۔
ای ایم فاسٹر کی جانب سے سادہ اور پیچیدہ کرداروں کے درمیان کی گئی تقسیم یہاں خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ سادہ کردار عموماً کسی ایک صفت یا خیال کے گرد تشکیل پاتا ہے۔ اس کے برعکس پیچیدہ کردار میں ہمیں حیران کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، اور جب ہم اس حیرت پر غور کرتے ہیں تو وہ قابلِ یقین محسوس ہوتی ہے۔
یہ تقسیم اچھے اور برے انسانوں کے درمیان نہیں ہے۔ ایک پیچیدہ کردار انتہائی ظالم بھی ہو سکتا ہے۔ اصل فرق کردار کی ساخت اور انسانی تجربے کی اس وسعت میں ہے جسے ادیب اپنی تحریر کے ذریعے سامنے لاتا ہے۔
زندگی میں مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم انسانوں کو سادہ ادبی کرداروں کی طرح دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ منافق ہے۔ وہ فرشتہ ہے۔ یہ غدار ہے۔ ایک لفظ ہر سوال کا جواب بن جاتا ہے۔
اس اختصار میں ایک نفسیاتی سکون پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب ہم کسی شخص کے بارے میں اپنا فیصلہ حتمی کر لیتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی پسند، نفرت اور وفاداریوں کا بار بار جائزہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ہمارے فیصلے کے خلاف آنے والے ہر ثبوت کو مشکوک قرار دینا کافی سمجھا جاتا ہے۔
ہمارے پسندیدہ شخص کی سختی دوراندیشی بن جاتی ہے، جبکہ مخالف کی احتیاط بزدلی قرار پاتی ہے۔ اپنے آدمی کی غلطی ہمیں حالات کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے، لیکن دوسرے کی غلطی میں ہمیں اس کی اصل فطرت نظر آتی ہے۔ اس طرح دوسروں کے بارے میں ہمارے فیصلے دراصل ہماری اپنی جذباتی ضروریات کو ظاہر کرتے ہیں۔
آئرس مرڈوک اپنی کتاب نیکی کی حاکمیت میں ایک ساس کی مثال کے ذریعے اس باطنی تبدیلی کو واضح کرتی ہیں۔ ابتدا میں وہ اپنی بہو کو غیر مہذب، حد سے زیادہ بے تکلف اور وقار سے محروم سمجھتی ہے۔ پھر وہ اپنے تاثر پر دوبارہ غور کرتی ہے۔ شاید اس کا روایتی ذوق، طبقاتی احساس اور حسد اس کی نگاہ پر اثرانداز ہو رہے ہوں۔
اس خود احتسابی کے نتیجے میں نوجوان عورت اسے مختلف دکھائی دینے لگتی ہے۔ جہاں پہلے اسے صرف بدتمیزی نظر آتی تھی، وہاں اب اسے شائستگی اور وقار دکھائی دینے لگتا ہے۔
ہمیں دوسروں کے بارے میں اپنے باطنی رویوں کا بھی احتساب کرنا چاہیے، خواہ ہم انہیں کبھی زبان پر نہ لائیں۔ ادب اس ذمہ داری کا احساس زیادہ شدت سے پیدا کر سکتا ہے۔
میکبتھ کے جرائم واضح ہیں، لیکن شیکسپیئر ہمیں اس کے خوف، ضمیر کی اذیت اور اپنے ہی اعمال سے پیدا ہونے والی دہشت کے اندر لے جاتا ہے۔ ہیملٹ کی ذہانت اور اخلاقی بے چینی ہمیں متاثر کرتی ہے، لیکن اوفیلیا کے ساتھ اس کا رویہ اور پولونیئس کا قتل ہماری ہمدردی کو مشکل سوالات کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ہم کردار کے قریب رہتے ہوئے بھی اسے جواب دہ ٹھہراتے ہیں۔ زندگی بھی ہم سے یہی صلاحیت چاہتی ہے کہ ہم دوسرے انسان کے دکھ اور اضطراب کو اس کے حقیقی حالات کے تناظر میں سمجھ سکیں۔
تاہم، کسی کردار میں متضاد صفات جمع کر دینا ہی گہری کردار نگاری نہیں ہے۔ کسی ظالم شخص کو اپنے بچوں سے محبت کرتے ہوئے دکھانا اسی وقت معنی خیز بنتا ہے جب ہم یہ بھی دیکھ سکیں کہ وہ دوسروں کے بچوں کی تباہی کے ساتھ اپنے ضمیر کو کیسے مطمئن کرتا ہے۔
اس کی شفقت کہاں ختم ہو جاتی ہے؟ وہ اپنے ظلم کو کیا نام دیتا ہے؟ اسے اپنے جواز کی کھوکھلاہٹ کہاں محسوس ہوتی ہے اور کس مقام پر وہ خود بھی اس جواز کو سچ سمجھنے لگتا ہے؟
انسان کے اندر موجود یہی تقسیم اجتماعی زندگی میں بھی کارفرما ہوتی ہے۔ خاندان، سیاسی جماعت، فرقہ اور قوم ہماری یادداشتوں اور شناخت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان سے وابستہ کسی شخصیت کے بارے میں اٹھایا گیا سوال ہمیں اپنی ہی ذات پر حملہ محسوس ہو سکتا ہے۔
ایسی صورت میں تاریخی شواہد کا سامنا محض معلومات حاصل کرنے کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ اپنی وفاداری کی نئی تعبیر کرنے کا تقاضا بھی کر سکتا ہے۔
عقیدت اپنے ہیرو کی لغزشوں کے لیے جواز تلاش کرتی ہے، جبکہ نفرت مخالف کی خوبیوں میں بھی پوشیدہ مقاصد ڈھونڈ لیتی ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم ایک حقیقی انسان کو محفوظ نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ایک ایسا بت قائم رکھنا چاہتے ہیں جو ہمارے یقین کو کبھی متزلزل نہ ہونے دے۔
انسانی شخصیت کی پیچیدگی کو تسلیم کرنے کا مطلب اخلاقی امتیازات کو ختم کرنا نہیں ہے۔ ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کے لیے ظالم ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے تمام اعمال یکساں طور پر جائز قرار پا جائیں۔
ہمیں پھر بھی یہ سوال کرنا ہوگا کہ اس نے کیا کیا اور کس کے ساتھ کیا؟ اسے انتخاب کی کتنی آزادی حاصل تھی؟ اس کے فیصلوں کا بوجھ کس نے اٹھایا؟
کسی شخص کے محرکات کو سمجھ لینا اس کے اعمال کو خودبخود جائز نہیں بنا دیتا۔ گہرا فہم ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے کہ کہاں مجبوری تھی، کہاں ذاتی مفاد کارفرما تھا اور کہاں اس نے محض آسان راستہ اختیار کیا۔
زندگی ایک اور اعتبار سے بھی ہماری اخلاقی توقعات سے زیادہ مشکل ہے۔ نیکی کو ہمیشہ وہ صلہ نہیں ملتا جس کی ہم توقع رکھتے ہیں، اور ظلم کو بھی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق سزا نہیں ملتی۔
شاعرانہ انصاف ادب کا ایک بامعنی طریقہ ضرور ہے، لیکن ہر کہانی کے اختتام پر اسی انصاف کا اصرار انسانی تجربے کی بہت سی حقیقتوں کو چھپا سکتا ہے۔
سچا ادب زندگی کی اس بے ترتیبی کو بھی جگہ دیتا ہے۔ بعض اوقات انصاف حاصل کرنے کے اطمینان سے زیادہ اہم اس کی آرزو کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ اس آرزو سے پیدا ہونے والی بے چینی فلسفے کے بنیادی سوالات کی طرح ہماری زندگی کے بڑے سوالات میں شامل ہو جاتی ہے۔
کسی انسان کو سمجھنے کا مطلب اپنے علم کی حدود کو پہچاننا بھی ہے۔ جو شخص ہمارے ساتھ مہربان رہا ہو، ممکن ہے اس نے کسی دوسرے کو تکلیف پہنچائی ہو۔
کسی شخص کے بارے میں متضاد گواہیاں اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہیں، اور کوئی ایک گواہ ان تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
اس لیے جب ہم پوچھتے ہیں کہ کوئی شخص کیسا انسان ہے تو ساتھ یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کس معاملے میں، کس کے ساتھ اور کس وقت؟
یہ سوالات ہمارے فیصلے کو زیادہ درست بناتے ہیں اور اس کی حدود کو بھی واضح کرتے ہیں۔
یہیں سیمون وائل کا تصورِ توجہ، ادبی مطالعہ اور باطنی تربیت ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ تینوں ہمیں اپنی ذات کی مداخلت پہچاننے اور دوسرے انسان کے وجود کو پوری سنجیدگی کے ساتھ قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
آخرکار ہم خود کو حقیقی حقیقت پسند اسی وقت کہہ سکتے ہیں جب ہمارے پسندیدہ شخص کی کوئی خامی یا ہمارے مخالف کی کوئی خوبی سامنے آئے اور ہم اپنے کسی عزیز تصور سے دست بردار ہونے کے لیے تیار ہوں۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی مقبول ترین کتب، جن میں اہم تصنیف بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر کتب فروش اداروں پر دستیاب ہیں









