امریکا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے درمیان حالیہ محاذ آرائی نے بین الاقوامی قانونی نظام کے ایک بنیادی تضاد کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ امریکا تاریخی طور پر اس اصول کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے کہ نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد، خواہ وہ سیاسی یا عسکری قیادت سے تعلق رکھتے ہوں، قانون کے سامنے جواب دہ ہونے چاہئیں۔ تاہم واشنگٹن مسلسل اس بات کی مخالفت کرتا رہا ہے کہ یہی بین الاقوامی عدالتی اختیار امریکی شہریوں یا بعض حالات میں اس کے اتحادیوں کے شہریوں پر بھی لاگو ہو۔
یہ معاملہ محض امریکا اور آئی سی سی کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں۔ اصل سوال کہیں زیادہ بنیادی ہے: اگر دنیا کی بڑی طاقتیں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو کیا عالمی فوجداری انصاف حقیقی معنوں میں عالمگیر بن سکتا ہے؟
آئی سی سی کے دائرۂ اختیار، ادارہ جاتی کارکردگی، احتساب اور سیاسی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ تاہم ان خامیوں کا اعتراف عدالت کو کمزور یا ختم کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ زیادہ اہم چیلنج ایسا بین الاقوامی نظامِ انصاف تشکیل دینا ہے جو مؤثر بھی ہو، قابلِ اعتماد بھی اور اتنا نمائندہ بھی کہ بڑی طاقتیں اس میں شمولیت کو اپنے مفاد اور عالمی ذمہ داری دونوں سے ہم آہنگ سمجھیں۔
نیورمبرگ سے دی ہیگ تک
اس بحث میں امریکا کا تاریخی کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔
نیورمبرگ مقدمات میں امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس رابرٹ ایچ جیکسن نے چیف امریکی پراسیکیوٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور جدید بین الاقوامی فوجداری قانون کے اس بنیادی اصول کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا کہ سیاسی اور عسکری رہنما بھی بین الاقوامی جرائم کے لیے انفرادی طور پر جواب دہ ہو سکتے ہیں۔
بعدازاں امریکا نے سابق یوگوسلاویہ اور روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹربیونلز کی حمایت کی اور روم اسٹیٹیوٹ کی تیاری کے مذاکرات میں بھی نمایاں شرکت کی۔
اس کے باوجود امریکا نے 1998 میں روم اسٹیٹیوٹ کی منظوری کے خلاف ووٹ دیا۔ صدر بل کلنٹن نے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کے احتساب کے بنیادی تصور کی حمایت کی، لیکن واشنگٹن کو عدالت کے دائرۂ اختیار اور حفاظتی قانونی انتظامات پر تحفظات برقرار رہے۔ امریکا نے ادارے کی تشکیل پر اثرانداز ہونے کی کوشش تو کی، مگر اس معاہدے کی توثیق کبھی نہیں کی۔
صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں یہ فاصلہ مزید بڑھ گیا۔ 2002 میں واشنگٹن نے اقوام متحدہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ وہ روم اسٹیٹیوٹ کا فریق بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کے بعد امریکا نے مختلف ممالک کے ساتھ ایسے دوطرفہ معاہدوں کی کوشش کی جن کے تحت امریکی شہریوں کو آئی سی سی کے حوالے کرنے سے روکا جا سکے۔
یہ تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ تنازع محض بین الاقوامی فوجداری احتساب کے اصول کی مخالفت کا نہیں، بلکہ اس اختیار کے دائرۂ کار، ادارہ جاتی ساخت اور اس پر موجود نگرانی کا بھی ہے۔
عالمی انصاف کی قیمت بھی ہے اور فائدہ بھی
ریاستی خودمختاری سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
کوئی بھی ریاست آسانی سے یہ قبول نہیں کرتی کہ اس کی رضامندی یا مناسب قانونی تحفظات کے بغیر کوئی بین الاقوامی پراسیکیوٹر یا عدالت اس کے شہریوں پر اختیار استعمال کرے۔ امریکا کے علاوہ دیگر بڑی طاقتوں اور روم اسٹیٹیوٹ سے باہر بعض ریاستوں نے بھی ایسے اعتراضات اٹھائے ہیں۔
لیکن خودمختاری اس معاملے کا صرف ایک پہلو ہے۔
بین الاقوامی جرائم اکثر قومی سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ شواہد مختلف ممالک میں موجود ہو سکتے ہیں، متاثرین اور مبینہ مجرم مختلف قومیتوں سے تعلق رکھ سکتے ہیں، جبکہ تحقیقات کے لیے کئی ریاستوں کے درمیان وسیع تعاون ضروری ہو سکتا ہے۔ ہر قومی عدالتی نظام کے پاس ایسے مقدمات سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت یا رسائی لازماً موجود نہیں ہوتی۔
مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب سنگین جرائم کے الزامات طاقتور ریاستی عہدیداروں سے متعلق ہوں۔ ایسی صورت میں صرف ملکی اداروں پر انحصار یہ سوال پیدا کر سکتا ہے کہ آیا ریاست اپنے ہی سیاسی یا عسکری عہدیداروں کے خلاف آزادانہ اور مؤثر تحقیقات کرنے پر آمادہ اور قادر ہے۔
آئی سی سی اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے اصولِ تکمیلیت پر قائم ہے۔ بنیادی ذمہ داری قومی عدالتوں کی رہتی ہے، جبکہ بین الاقوامی عدالت کا کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی ریاست حقیقی طور پر تحقیقات یا قانونی کارروائی کرنے سے قاصر یا غیر آمادہ ہو۔
خودمختاری اور احتساب میں توازن
یہی بین الاقوامی نظم کا بنیادی مخمصہ ہے۔
ریاستیں ایک طرف مؤثر عالمی اداروں کا مطالبہ نہیں کر سکتیں اور دوسری طرف یہ بھی چاہیں کہ قومی مفادات متاثر ہونے کی صورت میں انہی اداروں کے پاس کوئی حقیقی اختیار باقی نہ رہے۔ سرحدوں سے ماورا مسائل کے حل کے لیے کسی نہ کسی سطح پر مشترکہ بین الاقوامی اختیار ناگزیر ہے۔
دوسری طرف، بین الاقوامی ادارے بھی یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ریاستیں، بالخصوص بڑی طاقتیں، مؤثر قانونی تحفظ، نمائندہ حکمرانی اور ادارہ جاتی غیر جانب داری پر اعتماد کے بغیر اپنی خودمختاری کے بعض اختیارات محدود کر دیں گی۔
اسی لیے مستقبل کے بین الاقوامی فوجداری نظام کو دونوں تقاضوں میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔
آئی سی سی کی اصلاح، عدالتی آزادی کا تحفظ
ادارہ جاتی اصلاح ایک ممکنہ راستہ ہو سکتی ہے، بشرطیکہ سیاسی نگرانی اور عدالتی اختیار کے درمیان واضح حد قائم رکھی جائے۔
زیادہ نمائندہ انتظامی ڈھانچہ بڑی طاقتوں، علاقائی تنظیموں اور دیگر ریاستوں کو ادارے کے انتظامی قواعد، مالی ترجیحات اور احتسابی نظام کی تشکیل میں زیادہ مؤثر کردار دے سکتا ہے۔
تاہم یہ کردار تحقیقات اور مقدمات پر سیاسی کنٹرول میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
کسی ایک ریاست یا طاقتور ممالک کے گروہ کو تحقیقات، استغاثہ یا عدالتی فیصلوں پر ویٹو کا اختیار دینا آئی سی سی کو ایک ایسے نظام میں بدل سکتا ہے جہاں قانون کے بجائے جغرافیائی سیاسی طاقت یہ طے کرے کہ کون سا مقدمہ آگے بڑھے گا۔
اسی لیے عدالتی آزادی بنیادی اصول رہنی چاہیے۔
اس کے ساتھ زیادہ مؤثر تحقیقاتی صلاحیت، قومی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر تعاون، مضبوط قانونی طریقۂ کار اور واضح ادارہ جاتی احتساب عدالت پر اعتماد بڑھا سکتے ہیں۔
عالمی انصاف کو وسیع تر اتفاقِ رائے درکار ہے
بالآخر بین الاقوامی فوجداری انصاف کا مستقبل صرف قانونی اختیار پر نہیں بلکہ سیاسی اور عالمی جواز پر بھی منحصر ہے۔
اگر بین الاقوامی فوجداری انصاف کو بڑی عالمی اور علاقائی طاقتوں سمیت زیادہ وسیع اتحاد کی حمایت حاصل ہو تو جرائم کی تحقیقات، شواہد کے حصول، گرفتاری کے احکامات پر عمل درآمد اور بین الاقوامی تعاون کی صلاحیت بھی بڑھ سکتی ہے۔
اصل چیلنج دو ایسے اصولوں میں توازن قائم کرنا ہے جو عالمی سیاست میں بار بار ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں: ریاستی خودمختاری اور سنگین ترین جرائم کے لیے عالمگیر احتساب۔
آئی سی سی کو کمزور کرنا اور اس کا کوئی قابلِ اعتماد متبادل فراہم نہ کرنا اس تضاد کو ختم نہیں کرے گا۔ زیادہ قابلِ قبول، نمائندہ اور مؤثر عالمی نظامِ انصاف کی تشکیل اور اصلاح نسبتاً زیادہ سنجیدہ راستہ ہے۔
آخرکار بنیادی سوال یہی ہے: کیا دنیا ایسا بین الاقوامی عدالتی نظام تشکیل دے سکتی ہے جو سنگین ترین جرائم کا احتساب کرنے کے لیے کافی طاقتور ہو، اور ساتھ ہی اتنا جائز اور قابلِ اعتماد بھی ہو کہ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی تسلیم کریں کہ بین الاقوامی قانون ان پر بھی لاگو ہو سکتا ہے؟









