سرکاری زمین، اشرافیہ کی مراعات

[post-views]
[post-views]

اداریہ

جم خانہ اور اس نوعیت کے دیگر خصوصی کلب سرکاری زمین پر کیوں قائم کیے جاتے ہیں؟ سوال سادہ ہے، لیکن اس کا جواب خاصا تکلیف دہ ہے۔ بیوروکریسی ان کلبوں کے لیے اپنی ذاتی زمین فراہم نہیں کرتی بلکہ عوام کی ملکیت میں موجود سرکاری اراضی استعمال کرتی ہے۔ پھر اسی زمین پر شہر کے بااثر طبقات، کاروباری شخصیات، بڑے زمینداروں اور مقامی طاقت کے مراکز پر اثرانداز ہونے والی اشرافیہ کو جمع کیا جاتا ہے۔

ان کلبوں کی نجی رکنیت حاصل کرنے کے لیے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ رقم محض کھیلوں کی سہولتوں، کھانے پینے یا تفریح کے لیے نہیں دی جاتی۔ دراصل اس کے ذریعے بااثر سرکاری افسران، ججوں اور اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے اور سماجی تعلقات استوار کرنے کا موقع خریدا جاتا ہے۔

دوسری جانب بیوروکریٹس کو اکثر مفت رکنیت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ ان کے کھانے پینے اور دیگر سہولتوں کے اخراجات بالواسطہ طور پر نجی ارکان برداشت کرتے ہیں۔ یوں عوامی زمین پر ایک ایسا مخصوص طبقاتی مرکز وجود میں آتا ہے جہاں ریاستی اختیار اور نجی دولت ایک دوسرے کے قریب آکر باہمی مفادات کی تکمیل کرتے ہیں۔

یہ بنیادی طور پر اخلاقیات کا سوال ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔

بیوروکریسی کا بنیادی فرض شہریوں کو طاقتور مفاداتی گروہوں کے استحصال سے محفوظ رکھنا ہے۔ لیکن اگر سرکاری افسران انہی بااثر افراد کے ساتھ مخصوص کلبوں میں سماجی تعلقات قائم کریں تو وہ اپنے فرائض غیر جانب داری سے کیسے انجام دے سکتے ہیں؟

ایک سرکاری افسر اس شخص کے کاروباری یا انتظامی معاملات کی غیر جانب دارانہ نگرانی کیسے کر سکتا ہے جو اس کے کھانے اور دیگر سہولتوں کے اخراجات برداشت کرتا ہو؟

یہ نظام اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا۔ چھوٹے شہروں میں بھی جم خانہ کلب قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ سرکٹ ہاؤسز بھی اسی نوعیت کی اشرافیائی محفلوں کے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔

ہر جگہ ایک ہی طرزِ عمل دکھائی دیتا ہے۔ سرکاری زمین کو محدود طبقے کے نجی استعمال میں لایا جاتا ہے اور عام شہری اس کے دروازوں سے باہر رہ جاتے ہیں۔

اس معاملے میں اصول بالکل واضح ہونا چاہیے۔ اگر مخصوص افراد کے لیے نجی کلب قائم کرنے ہیں تو وہ نجی زمین پر قائم کیے جائیں۔ ان کی رکنیت، تعمیر اور دیگر اخراجات بھی نجی وسائل سے پورے کیے جائیں۔

البتہ کمیونٹی مراکز کا معاملہ مختلف ہے۔ ایسے مراکز مقامی آبادی کی اجتماعی ضروریات پوری کرنے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، جہاں عام شہریوں کو سماجی، ثقافتی اور دیگر اجتماعی سرگرمیوں کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

سرکاری زمین پر قائم عوامی کمیونٹی مرکز اور اشرافیہ کے لیے مخصوص کلب دو بالکل مختلف تصورات ہیں۔ ایک عوام کی خدمت کرتا ہے، جبکہ دوسرا طاقتور طبقات کے مفادات کو تقویت دیتا ہے۔

ریاستی زمین عوام کی امانت ہے۔ اسے مخصوص طبقات کی مراعات اور بااثر افراد کے باہمی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

طارق محمود اعوان کی کتاب دی بیوروکریٹک کو میں اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب، جن میں اہم تصنیف دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر کتب فروش اداروں پر دستیاب ہیں۔

گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0341-4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]