پاکستان میں حکمرانی کا بحران محض بیوروکریسی کی نااہلی یا انتظامی کمزوریوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ سیاسی اختیار اور ادارہ جاتی صلاحیت کے درمیان ایک بنیادی عدم توازن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ آئینی ڈھانچہ جمہوری حکمرانی میں سیاسی قیادت کو مرکزی حیثیت دیتا ہے، لیکن انتظامی اختیارات کے عملی استعمال میں ایک مختلف حقیقت سامنے آتی ہے۔ ایک طرف طاقتور بیوروکریسی موجود ہے، جبکہ دوسری طرف سیاسی انتظامیہ اکثر ان تکنیکی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے محروم دکھائی دیتی ہے جو بیوروکریسی کی مؤثر قیادت کے لیے ضروری ہیں۔
پارلیمانی جمہوریت میں منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی پالیسی کی سمت متعین کریں، قانون سازی کا آغاز کریں، انتظامی اداروں کی نگرانی کریں اور اصلاحات کے عمل کی قیادت کریں۔ اس کے برعکس بیوروکریسی کا بنیادی کردار پیشہ ورانہ مشاورت فراہم کرنا، انتظامی تسلسل برقرار رکھنا اور سیاسی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے ضروری ادارہ جاتی نظام مہیا کرنا ہے۔ ان دونوں کرداروں کے درمیان امتیاز نہایت اہم ہے۔ سیاسی قیادت حکمرانی کے مقاصد متعین کرتی ہے، جبکہ سول سروس ان مقاصد کو انتظامی اقدامات میں تبدیل کرتی ہے۔
تاہم جب سیاسی رہنما اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی مطلوبہ صلاحیت نہیں رکھتے تو اس آئینی تعلق کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں حکمرانی کے مستقل مسائل میں سے ایک سیاسی انتظامیہ کی ناکافی ادارہ جاتی تیاری ہے۔ وزرا اور مشیروں کو قانون سازی، عوامی انتظامیہ، مالیاتی نظم و نسق اور ضابطہ جاتی نگرانی جیسی پیچیدہ ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں، لیکن بہت سے افراد ان شعبوں میں مناسب تربیت حاصل کیے بغیر عہدے سنبھال لیتے ہیں۔ کسی قانونی مسودے کو سمجھنا، اس کی دفعات کی تشریح کرنا، اس کے انتظامی اثرات کا جائزہ لینا اور ممکنہ نتائج کا اندازہ لگانا ایسے علم اور پیشہ ورانہ مہارت کا تقاضا کرتا ہے جو محض سیاسی تجربے سے لازماً حاصل نہیں ہوتی۔
اس کے نتیجے میں بیوروکریسی کے ادارے اکثر اپنے متعین انتظامی کردار سے زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر لیتے ہیں۔ جب منتخب نمائندے پالیسی تجاویز کا آزادانہ جائزہ لینے یا سرکاری مشاورت کا تنقیدی تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ اسی بیوروکریسی پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں جس کی قیادت کرنا آئینی طور پر ان کی ذمہ داری ہے۔ یہ انحصار سیاسی نگرانی کو کمزور کرتا ہے اور جمہوری جواب دہی اور انتظامی اختیار کے درمیان عدم توازن پیدا کرتا ہے۔
تاہم اس مسئلے کا حل محض بیوروکریسی کے اختیارات محدود کرنے میں نہیں ہے۔ سیاسی اداروں کو مضبوط کیے بغیر سول سروس کو کمزور کرنا مزید انتظامی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اصل ضرورت سیاسی قیادت کی پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنانے کی ہے۔
اس ذمہ داری کا بنیادی تعلق پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے ہے۔
سیاسی جماعتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا مقصد محض انتخابات جیتنا، عوامی اجتماعات منعقد کرنا اور حامیوں کو متحرک کرنا نہیں ہے۔ وہ ایسے ادارے بھی ہیں جن کی ذمہ داری افراد کو حکمرانی کے لیے تیار کرنا ہے۔ کوئی سیاسی تنظیم اگر مؤثر انتخابی مہم چلانے والے کارکن تو پیدا کرتی ہے، لیکن قابل قانون ساز، وزرا اور پالیسی ساز تیار نہیں کر سکتی تو وہ اپنی جمہوری ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر سکتی۔
اس لیے سیاسی جماعتوں کو شخصیات کے گرد گھومنے والی اور عوامی اجتماعات پر انحصار کرنے والی تنظیموں سے آگے بڑھ کر ایسے منظم اداروں میں تبدیل ہونا ہوگا جو باشعور اور باصلاحیت سیاسی قیادت تیار کر سکیں۔ داخلی سطح پر پالیسی تحقیق، قانون سازی کی تربیت، انتظامی تعلیم اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کو سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچے کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔
مستقبل کے قانون سازوں کو آئینی ذمہ داریوں، پارلیمانی طریقہ کار اور قانون سازی کے اصولوں سے واقف ہونا چاہیے۔ مستقبل کے وزرا کو عوامی انتظامیہ، ادارہ جاتی نظم و نسق، بجٹ سازی اور پالیسیوں کے نفاذ کی تربیت دی جانی چاہیے۔ اسی طرح سیاسی مشیروں میں حکومتی تجاویز کا تجزیہ کرنے اور ان کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لینے کی صلاحیت موجود ہونی چاہیے۔
یہ تیاری کسی سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد شروع نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے جماعت کی مستقل ادارہ جاتی ذمہ داری ہونا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں کو مستقل تحقیقی اور پالیسی سازی کے شعبے بھی قائم کرنے چاہییں جو ان کے منتخب نمائندوں کو پیشہ ورانہ معاونت فراہم کر سکیں۔ آزاد پالیسی ماہرین، آئینی امور کے ماہرین، معاشی ماہرین اور عوامی انتظامیہ کے پیشہ ور افراد سیاسی تنظیموں کو قابلِ عمل پروگرام مرتب کرنے اور سیاسی وعدوں کو مؤثر قانون سازی اور انتظامی اصلاحات میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس کا مقصد سیاسی فیصلوں کو تکنیکی مہارت کے تابع کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ سیاسی فیصلے مناسب ادارہ جاتی علم اور پیشہ ورانہ سمجھ بوجھ کی بنیاد پر کیے جائیں۔
منتخب نمائندوں اور بیوروکریسی کے درمیان متوازن تعلق کے لیے ایک باصلاحیت سیاسی انتظامیہ ناگزیر ہے۔ وہ وزرا جو اپنے آئینی اختیارات، انتظامی ذمہ داریوں اور پالیسی مقاصد کو سمجھتے ہیں، سرکاری محکموں کی قیادت کرنے، بیوروکریسی کی سفارشات کا جائزہ لینے اور ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے برعکس مناسب تیاری سے محروم سیاسی رہنما پالیسی سازی اور اس کے نفاذ، دونوں معاملات میں انتظامی افسران پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ اس سے سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کے انتظامی کردار کے درمیان بنیادی امتیاز کمزور پڑ جاتا ہے۔
لہٰذا پاکستان میں حکمرانی کی اصلاحات کے لیے بیوروکریسی کے ڈھانچے کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت کی صلاحیت پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ سول سروس، مقننہ اور انتظامیہ کی اصلاحات کو مکمل طور پر الگ الگ اقدامات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کی کامیابی ایسے اداروں کی تشکیل پر منحصر ہے جو اپنی متعلقہ آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ریپبلک پالیسی نے اپنی تحقیقی کتب فکسنگ دی ایگزیکٹو برانچ اور فکسنگ دی لیجسلیٹو برانچ میں ان باہم مربوط مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ان تصانیف میں حکومتی اداروں کی ساخت، اختیارات کی تقسیم، قانون سازی کی ذمہ داریوں اور پاکستان میں جمہوری حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اصلاحات پر بحث کی گئی ہے۔
بالآخر پاکستان محض بیوروکریسی کی تنظیمِ نو کے ذریعے بامعنی ادارہ جاتی اصلاحات حاصل نہیں کر سکتا۔ سیاسی انتظامیہ کو اپنے سپرد کردہ اختیارات مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو نعروں اور انتخابی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر ایسے اداروں میں تبدیل ہونا ہوگا جو افراد کو تعلیم، تربیت اور حکمرانی کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کریں۔









