تحریر: ڈاکٹر ندیم الحق
ہر سال ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اپنا بدعنوانی کے تاثر کا اشاریہ جاری کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک مانوس سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ غریب ممالک کو بدعنوانی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، امیر ممالک کو شفافیت کی مثال قرار دیا جاتا ہے، بین الاقوامی ادارے حکمرانی میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں اور پاکستان جیسی حکومتیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے وعدے کرتی ہیں۔
اخبارات ان درجہ بندیوں کو اس انداز میں شائع کرتے ہیں جیسے یہ قومی دیانت داری کی قطعی سائنسی پیمائش ہوں۔ لیکن بہت کم لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان اشاریوں کی مالی معاونت کون کرتا ہے، ان کی درستگی کا جائزہ کون لیتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی کارکردگی جانچنے والے ادارے خود اسی نوعیت کی آزادانہ نگرانی اور احتساب سے کیوں نہیں گزرتے؟
یہ مسئلہ صرف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل تک محدود نہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایک وسیع بین الاقوامی ترقیاتی صنعت وجود میں آ چکی ہے، جو غریب ممالک میں حکمرانی، بدعنوانی، ضابطہ جاتی معیار، ادارہ جاتی صلاحیت اور حکومتی پالیسیوں کی کارکردگی کی پیمائش کرتی ہے۔ تقریباً ہر شعبے کے لیے کوئی نہ کوئی اشاریہ موجود ہے۔
دوسری جانب ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کو قرضوں سے وابستہ شرائط پوری کرنا پڑتی ہیں، عطیہ دہندگان کی تجویز کردہ اصلاحات نافذ کرنا ہوتی ہیں، نگرانی کے نئے ادارے قائم کرنے پڑتے ہیں، مشیروں کی خدمات حاصل کرنا ہوتی ہیں اور مسلسل رپورٹیں تیار کرنا پڑتی ہیں۔
تاہم ان اصلاحات کی سفارش کرنے والے مشیر اور ماہرین اکثر ناکامی کی ذمہ داری سے محفوظ رہتے ہیں۔ اشاریے عموماً مسائل کی ذمہ داری متعلقہ معاشروں کی اخلاقیات اور حکمرانی پر ڈال دیتے ہیں، جبکہ ان مشیروں کی سفارشات پر سوال نہیں اٹھایا جاتا جو ممکنہ طور پر نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی ترغیبات پیدا کرتی ہیں۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ عالمی ترقیاتی صنعت کی کارکردگی کی پیمائش کون کرتا ہے؟
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور بدعنوانی کی پیمائش کا نظام
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ایک اہم مثال ہے۔
یہ ادارہ 1993 میں برلن میں عالمی بینک کے سابق اعلیٰ عہدے دار پیٹر ایگن اور ان کے ساتھیوں نے قائم کیا تھا۔ ابتدا میں اس تنظیم نے بدعنوانی کے مسئلے پر بین الاقوامی اداروں کی خاموشی کو چیلنج کیا۔
اس زمانے میں بعض ترقی یافتہ ممالک میں غیر ملکی حکام کو دی جانے والی رشوت کو کاروباری اخراجات میں شمار کرکے ٹیکس میں رعایت حاصل کرنے کی اجازت تک موجود تھی۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 1995 میں بدعنوانی کے تاثر کا پہلا اشاریہ جاری کیا۔
ابتدا میں عالمی بینک اس مہم میں شامل ہونے سے گریزاں تھا، لیکن 1990 کی دہائی کے وسط میں جیمز وولفنسن کی قیادت کے دوران، جنہوں نے بدعنوانی کو ایک سرطان قرار دیا تھا، عالمی بینک نے بدعنوانی کے خلاف اقدامات کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنانا شروع کیا۔
بعدازاں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور عالمی بینک کے درمیان قریبی پیشہ ورانہ روابط قائم ہوئے۔ عالمی بینک نے بدعنوانی سے متعلق امور کو اپنے منصوبوں میں شامل کیا اور حکمرانی کے عالمی اشاریے بھی تیار کیے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی مالی معاونت کون کرتا ہے؟
اس ادارے کے شائع شدہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق اسے جرمنی، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، سویڈن، آسٹریلیا اور امریکہ سمیت متعدد مغربی حکومتوں اور ترقیاتی اداروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ یورپی کمیشن، مختلف فاؤنڈیشنز اور بعض کاروباری ادارے بھی اس کے معاونین میں شامل ہیں۔
تنظیم کے مالیاتی گوشواروں کا آڈٹ ہوتا ہے اور اس کے انتظامی معاملات سے متعلق معلومات بھی عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔
تاہم یہ حقیقت کہ کسی ادارے کو بیرونی مالی معاونت حاصل ہے، بذاتِ خود عطیہ دہندگان کی مداخلت کا ثبوت نہیں۔
اس کے باوجود جب کسی ادارے کے مالی وسائل کا اہم حصہ اسی بین الاقوامی ترقیاتی نظام سے وابستہ ہو جس کی پالیسیوں اور اداروں سے متعلق وہ رائے قائم کرتا ہے، تو اس کی آزادی اور غیر جانب داری کا جائزہ لینا ایک جائز تحقیقی سوال بن جاتا ہے۔
کیا بدعنوانی کا اشاریہ واقعی بدعنوانی کی پیمائش کرتا ہے؟
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے بدعنوانی کے تاثر کے اشاریے کی تجرباتی اور تحقیقی بنیادوں کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
2024 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 90 ممالک کے ہمارے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی کس آمدنی اکیلے ہی بدعنوانی کے تاثر کے اشاریے میں ممالک کے درمیان پائے جانے والے فرق کے تقریباً 67 فیصد حصے کی وضاحت کرتی ہے۔
امیر ممالک عموماً بہتر درجہ بندی حاصل کرتے ہیں۔
لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں حقیقتاً بدعنوانی کم ہے؟ یا بدعنوانی سے متعلق تصورات پر معاشی خوش حالی، اقتصادی حالات، سیاسی استحکام اور ممالک کی پہلے سے قائم ساکھ بھی اثرانداز ہوتی ہے؟
اس اشاریے کی تیاری کے لیے تمام ممالک میں یکساں نمونہ جاتی طریقۂ کار استعمال نہیں ہوتا۔
حتیٰ کہ یورپی کمیشن کے 2017 کے طریقۂ کار سے متعلق جائزے نے بھی بنیادی طور پر اشاریے کی شماریاتی مطابقت کو جانچا، نہ کہ یہ ثابت کیا کہ وہ حقیقی بدعنوانی کی درست پیمائش کرتا ہے یا مختلف ممالک میں یکساں درجات کا مطلب بھی یکساں ہے۔
ماہرین کے درمیان اتفاقِ رائے لازماً کسی پیمائش کی درستگی کا ثبوت نہیں ہوتا، خصوصاً جب ان کے تصورات مشترکہ مفروضوں اور معلومات کے ایک جیسے ذرائع سے متاثر ہو سکتے ہوں۔
اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اس پیمائشی عمل میں کس حد تک اختیار حاصل ہے۔
بین الاقوامی ادارے اور جائزہ لینے والی تنظیمیں اشاریوں کا انتخاب کرتی ہیں، جواب دہندگان کا تعین کرتی ہیں، طریقۂ کار وضع کرتی ہیں اور پھر انہی بنیادوں پر غریب ممالک کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔
اگرچہ مقامی ماہرین اور کاروباری افراد بعض مراحل میں شریک ہوتے ہیں اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی قومی شاخیں بھی موجود ہیں، لیکن متعلقہ ممالک کی آزاد جامعات اور تحقیقی اداروں کو اشاریے کی تشکیل، توثیق یا آزادانہ طور پر اس کے نتائج دوبارہ حاصل کرنے کے عمل میں کوئی یقینی کردار حاصل نہیں۔
یہ عالمی ترقیاتی نظام میں موجود ایک وسیع عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔
عطیہ دہندگان ان اشاریوں کی مالی معاونت کرتے ہیں جن کے ذریعے امداد یا قرض حاصل کرنے والے ممالک کی حکمرانی کو جانچا جاتا ہے، لیکن خود ان اداروں کے انتظامی نظام، مشاورتی نیٹ ورکس، ادارہ جاتی نااہلی اور ناکام پالیسیوں کو اسی درجے کی بیرونی نگرانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
غریب ممالک کی مسلسل نگرانی، درجہ بندی اور مشروط مالی معاونت کی جاتی ہے، جبکہ اصلاحات تجویز کرنے والے اداروں کو اپنی ناکام سفارشات کے نتائج کی نسبتاً کم براہِ راست ذمہ داری اٹھانا پڑتی ہے۔
اس لیے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ بدعنوانی کا اشاریہ درست پیمائش کرتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حکمرانی کی تعریف کرنے، اسے جانچنے اور اس کے بارے میں فیصلہ دینے کا اختیار کس کے پاس ہے، اور یہ اختیار استعمال کرنے والے خود اتنی ہی سخت آزادانہ جانچ سے کیوں نہیں گزرتے؟
بدعنوانی کی تعریف میں کیا شامل ہے اور کیا خارج؟
بدعنوانی کے تاثر کا اشاریہ ماہرین اور کاروباری افراد کے جائزوں کی بنیاد پر سرکاری شعبے میں بدعنوانی کے تصورات کی پیمائش کرتا ہے۔
یہ تمام بدعنوان مالی معاملات یا ان تمام طریقوں کی پیمائش نہیں کرتا جن کے ذریعے نجی دولت سیاسی فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔
تحقیقی مطالعات پہلے ہی اس محدودیت کی نشاندہی کر چکے ہیں۔
ڈونچیف اور اوجہیلی کی تحقیق کے مطابق بدعنوانی کے حقیقی تجربات اور اس کے بارے میں قائم تصورات کے درمیان تعلق نسبتاً کمزور ہو سکتا ہے۔ قومی آمدنی اور ادارہ جاتی خصوصیات بھی اس بات پر اثرانداز ہوتی ہیں کہ ماہرین کسی ملک میں بدعنوانی کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں۔
2024 کے اعداد و شمار پر مشتمل 90 ممالک کے ہمارے جائزے سے بھی ایک نمایاں تعلق سامنے آتا ہے۔
فی کس آمدنی اکیلے ہی مختلف ممالک کے بدعنوانی کے تاثر کے اشاریوں میں پائے جانے والے فرق کے تقریباً دو تہائی حصے کی وضاحت کرتی ہے۔
مغربی ممالک کے اوسط درجات افریقہ کے زیریں صحارائی خطے اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہیں۔
تاہم زیادہ بنیادی مسئلہ بدعنوانی کی تعریف اور اس کے دائرے سے متعلق ہے۔
غریب ممالک میں سیاسی اور انتظامی اثرورسوخ اکثر رشوت، خاندانی تعلقات، انتظامی صوابدید اور سیاسی سرپرستی کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس امیر ممالک میں طاقتور مفاداتی گروہ پیشہ ورانہ لابنگ کرنے والوں، سابق ضابطہ جاتی عہدے داروں، سیاسی مشیروں، قانونی اداروں، صنعتی انجمنوں اور انتخابی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کے ذریعے حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
ان سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ قانونی ہوتا ہے، اور جائز لابنگ کو ناجائز اثرورسوخ سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
لیکن دونوں صورتوں میں دولت بعض افراد اور اداروں کو سیاسی فیصلہ سازی تک غیر متناسب رسائی فراہم کر سکتی ہے، خواہ قانون کی خلاف ورزی نہ بھی ہوئی ہو۔
اس کے باوجود بدعنوانی کی روایتی تعریف اکثر غریب ممالک میں اختیار کیے جانے والے طریقوں پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔
اگر کوئی کاروباری شخص کسی ضابطے سے بچنے کے لیے سرکاری افسر کو رشوت دے تو اسے واضح طور پر بدعنوانی قرار دیا جاتا ہے۔
لیکن اگر کوئی بڑی کمپنی پیشہ ورانہ واسطہ کاروں کے ذریعے اسی ضابطے کو اپنے مفاد میں تبدیل کرانے کی کوشش کرے تو ممکن ہے اسے بدعنوانی کے اسی تصور میں شامل نہ کیا جائے۔
پہلی صورت میں موجودہ قواعد کی خلاف ورزی ہوتی ہے، جبکہ دوسری صورت میں ان قواعد کی تشکیل ہی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
یہ فرق حکمرانی اور سیاسی اثرورسوخ کی پیمائش کے لیے نہایت اہم ہے۔
عالمی ترقیاتی صنعت کا احتساب کون کرے گا؟
اصل مسئلہ ترقی پذیر ممالک کے گرد قائم ہونے والی وسیع عالمی ترقیاتی صنعت سے متعلق ہے۔
کئی دہائیوں سے عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، دوطرفہ عطیہ دہندگان اور بین الاقوامی فاؤنڈیشنز غریب ممالک کی ادارہ جاتی کمزوریوں، بدعنوانی اور پالیسی ناکامیوں سے متعلق مطالعات کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں۔
اس عمل کے ساتھ مشیروں، اشاریوں، اصلاحاتی سفارشات اور قرضوں سے منسلک شرائط کا ایک وسیع نظام بھی وجود میں آیا ہے۔
تاہم ان مداخلتوں کی کارکردگی پر سنجیدہ تنقید سامنے آتی رہی ہے، حتیٰ کہ متعلقہ اداروں کے اپنے جائزہ لینے والے شعبوں کی جانب سے بھی۔
سوال یہ ہے کہ عالمی ترقیاتی اداروں کی حکمرانی، مشاورتی اخراجات، ٹھیکوں کے نظام، مفادات کے تصادم، ادارہ جاتی تکرار، ناکام اصلاحات اور طویل المدتی ترقیاتی نتائج کی پیمائش کرنے والا مساوی اہمیت کا بین الاقوامی اشاریہ کہاں ہے؟
اگرچہ بعض بین الاقوامی اداروں میں آزادانہ جائزے کے شعبے موجود ہیں، لیکن یہ ایسا احتسابی نظام نہیں جس کی سمت اور ترجیحات ان ممالک کے اختیار میں ہوں جو ان پالیسیوں کے نتائج برداشت کرتے ہیں۔
قرض لینے والی حکومتوں کو شرائط، قرضوں کی ادائیگی اور مسلسل نگرانی کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ بین الاقوامی مشیر اپنی سفارشات ناکام ہونے کی صورت میں عموماً اسی نوعیت کے نتائج برداشت نہیں کرتے۔
ان کے اپنے فیصلوں کے نتائج میں براہِ راست مفادات اور خطرات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
آخر ترقی پذیر ممالک کو حکمرانی کی ناکامیوں پر مسلسل جانچا جائے، لیکن ان کے لیے اصلاحات تجویز کرنے والے ادارے اسی نوعیت کے منظم اور بیرونی احتساب سے کیوں محفوظ رہیں؟
ترقی پذیر ممالک کی آزاد جامعات اور تحقیقی اداروں کے زیرِ انتظام ایسا کوئی یکساں طور پر مؤثر اور مستقل بین الاقوامی نظام موجود نہیں جو عطیہ دہندگان کی کارکردگی کی درجہ بندی کرے اور جس کے نتائج کو وہی اہمیت اور اثر حاصل ہو جو امداد لینے والے ممالک کے لیے بین الاقوامی اشاریوں کو حاصل ہے۔
درحقیقت تحقیق کے لیے موجود معاشی ترغیبات اکثر اس کے برعکس کام کرتی ہیں۔
غریب ممالک کے تحقیقی ادارے عموماً بین الاقوامی گرانٹس، معاہدوں اور مشاورتی مواقع پر انحصار کرتے ہیں۔
اپنی حکومتوں میں بدعنوانی پر تحقیق کے لیے مالی معاونت حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
لیکن عطیہ دہندگان کے انتظامی نظام، مہنگی مشاورتی خدمات، ناکام پالیسیوں اور ادارہ جاتی مفادات کا جائزہ لینا ان تنظیموں کے لیے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے جو مستقبل میں بھی انہی اداروں سے مالی وسائل حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
یہ علم کی تخلیق اور تحقیقی ترجیحات کے تعین میں موجود عدم توازن ہے۔
جو ادارے تحقیق کی مالی معاونت کرتے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر یہ بھی متاثر کر سکتے ہیں کہ کن سوالات پر تحقیق ہوگی اور کن موضوعات کو نظرانداز کیا جائے گا۔
اگر ترقی پذیر ممالک کی حکمرانی کا مسلسل جائزہ لیا جائے، لیکن عطیہ دہندگان کی اپنی حکمرانی پر آزاد اور مقامی ترجیحات کے تحت تحقیق محدود رہے، تو علمی تحقیق کا پورا نظام ادارہ جاتی طور پر غیر متوازن ہو جاتا ہے۔
عالمی بینک کے اپنے جائزے کیا ظاہر کرتے ہیں؟
عالمی بینک کے آزاد جائزہ گروپ کی رپورٹ اس مسئلے کی اہمیت واضح کرتی ہے۔
2025 میں اس گروپ نے بتایا کہ مکمل ہونے والی تقریباً 40 فیصد مشاورتی سرگرمیوں کے بارے میں ان کے مطلوبہ نتائج کے حصول کے شواہد دستیاب نہیں تھے۔
اس کے باوجود 2017 سے 2024 کے دوران ان سرگرمیوں میں سے 97 فیصد کو ادارے کی اپنی درجہ بندی میں کم از کم اطمینان بخش قرار دیا گیا تھا۔
ذرا تصور کیجیے کہ کسی ترقی پذیر ملک کی وزارت یہ رپورٹ پیش کرے کہ اس کی سرگرمیوں کے ایک بڑے حصے کے نتائج ثابت نہیں کیے جا سکتے، لیکن وہ تقریباً تمام سرگرمیوں کو کامیاب یا اطمینان بخش بھی قرار دے۔
عالمی ترقیاتی ادارے بجا طور پر ایسی وزارت سے جواب دہی کا مطالبہ کریں گے۔
تو کیا یہی معیار ان اداروں پر لاگو نہیں ہونا چاہیے جو حکومتوں کو اصلاحات کے مشورے دیتے ہیں؟
ترقیاتی ادارے بعض اوقات انہی ادارہ جاتی مسائل میں اضافے کا سبب بھی بنتے ہیں جن پر بعد میں وہ تنقید کرتے ہیں۔
موجودہ سرکاری اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے ترقیاتی منصوبوں کے تحت الگ عمل درآمدی یونٹس، خصوصی انتظامی ڈھانچے، متوازی نگرانی کے نظام اور بیرونی مشیروں کے زیرِ انتظام ادارے قائم کر دیے جاتے ہیں۔
یہ انتظامات فوری طور پر بعض نتائج فراہم کر سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں مقامی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی ترغیبات کمزور بھی کر سکتے ہیں۔
یہاں کئی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
ان متوازی اداروں کے اخراجات کی پیمائش کون کرتا ہے؟ ان کی موجودگی سے پیدا ہونے والی غیر ضروری تکرار کا جائزہ کون لیتا ہے؟ ترقیاتی اخراجات کا کتنا حصہ حقیقی عوامی خدمات تک پہنچتا ہے اور کتنا انتظامی ڈھانچوں اور مشاورتی خدمات پر خرچ ہو جاتا ہے؟ بیرونی مالی معاونت ختم ہونے کے بعد ان اداروں کا کیا مستقبل ہوتا ہے؟
یہ سوالات ترقیاتی نظام کی حقیقی افادیت جانچنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
قرضوں کی شرائط اور ناکام اصلاحات کی ذمہ داری
قرضوں اور مالی معاونت سے وابستہ شرائط بھی اسی مسئلے کا حصہ ہیں۔
پاکستان اور دیگر ممالک جو بار بار بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرتے ہیں، انہیں ان اداروں کی شرائط پوری کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں میں مسلسل تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں۔
حکومتیں مالیاتی اہداف پر مذاکرات کرتی ہیں، قانون سازی کرتی ہیں، اداروں کی تنظیمِ نو کرتی ہیں، ٹیکس بڑھاتی ہیں اور سرکاری اخراجات میں تبدیلیاں لاتی ہیں۔
یہ فیصلے اکثر شدید مالی دباؤ کے ماحول میں کیے جاتے ہیں۔
اس کے بعد بین الاقوامی ترقیاتی ماہرین ان شرائط پر عمل درآمد اور متعلقہ ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔
لیکن جب کسی عطیہ دہندہ یا بین الاقوامی ادارے کی حمایت سے متعارف کرائی گئی اصلاح ناکام ہوتی ہے تو ذمہ داری مختلف اداروں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
قرض لینے والے ملک کے شہری اور حکام اس ناکامی کے نتائج برداشت کرتے ہیں۔
قومی قرض بدستور ریاست کی ذمہ داری رہتا ہے، جبکہ وہ بین الاقوامی ماہرین جنہوں نے متعلقہ پالیسی کی سفارش کی تھی، عموماً اس ناکامی کی مساوی ذاتی قیمت ادا نہیں کرتے۔
یہی وہ مسئلہ ہے جسے فیصلوں کے نتائج میں ناکافی براہِ راست مفاد اور ذمہ داری کہا جا سکتا ہے۔
یقیناً ترقیاتی اداروں کو بھی مالی، ادارہ جاتی اور ساکھ سے متعلق خطرات کا سامنا ہوتا ہے، اور بعض ادارے اپنی کارکردگی کا سنجیدہ جائزہ بھی لیتے ہیں۔
لیکن غلط اصلاحات کے اخراجات تمام فریقوں میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوتے۔
قرض لینے والے ممالک قرضوں اور عمل درآمد کی ذمہ داری اٹھاتے رہتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی مشیر کسی دوسرے منصوبے، ملک یا ذمہ داری کی جانب منتقل ہو سکتے ہیں۔
مسئلہ بیرونی امداد نہیں، غیر مساوی جواب دہی ہے
اس تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کبھی مفید علم یا مؤثر معاونت فراہم نہیں کرتے، یا ترقی پذیر ممالک میں بدعنوانی کا مسئلہ حقیقی نہیں۔
پاکستان میں مراعات یافتہ طبقات، صوابدیدی ضابطہ کاری، غیر شفاف سرکاری ٹھیکوں، کمزور احتساب اور محدود معاشی مسابقت پر مبنی نظام سنجیدہ اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔
اسی طرح بیرونی مالی اور تکنیکی معاونت سے بعض مفید نتائج بھی حاصل ہوئے ہیں۔
تاہم ان حقائق کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ایسے نظام کو جائز قرار دے دیا جائے جس میں غریب ممالک کی مسلسل جانچ پڑتال ہوتی رہے، لیکن ان کی پالیسیوں پر نمایاں اثر ڈالنے والے بین الاقوامی ادارے نسبتاً کم بیرونی نگرانی کا سامنا کریں۔
اس عدم توازن کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تحقیق کی سمت بھی تبدیل کی جائے۔
ترقی پذیر ممالک کی جامعات اور آزاد تحقیقی اداروں کو ایسے مالیاتی انتظامات کے ذریعے وسائل فراہم کیے جائیں جن میں عطیہ دہندگان کو تحقیق کے نتائج، ادارتی فیصلوں یا طریقۂ کار پر کوئی اختیار حاصل نہ ہو۔
یہ ادارے بین الاقوامی ترقیاتی تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں، مشاورتی معاہدوں کی جانچ کریں، اصلاحات کے نتائج کی پیمائش کریں، انتظامی اخراجات کا تخمینہ لگائیں اور قرضوں سے وابستہ شرائط کے معاشی اثرات کا تجزیہ کریں۔
ان تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں، آزاد ماہرین سے ان کا جائزہ لیا جائے اور قرض حاصل کرنے والے ممالک کی پارلیمانوں میں ان پر بحث کی جائے۔
اسی طرح بدعنوانی کے موجودہ اشاریوں کو ایسے اضافی پیمانوں سے مضبوط بنایا جانا چاہیے جو امیر اور غریب دونوں ممالک میں لابنگ کی شفافیت، سیاسی مالی معاونت، ضابطہ ساز اداروں پر مخصوص مفادات کے غلبے، مالیاتی رازداری، سرکاری ٹھیکوں کے نیٹ ورکس اور ناجائز مالی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے والے پیشہ ورانہ کرداروں کا جائزہ لے سکیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بدعنوانی کو بین الاقوامی بحث کا اہم موضوع بنانے میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔
لیکن اب عالمی ترقیاتی صنعت کو اپنے ہی احتسابی اصول کا منطقی تقاضا تسلیم کرنا ہوگا۔
جواب دہی صرف ان ممالک کے لیے مخصوص نہیں ہونی چاہیے جو قرض، امداد یا مشورے حاصل کرتے ہیں۔ اس کا اطلاق ان اداروں پر بھی ہونا چاہیے جو اصلاحات کی مالی معاونت کرتے ہیں، ان کا خاکہ تیار کرتے ہیں اور انہیں نافذ کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔
طویل عرصے سے غریب ممالک کی پیمائش کی جاتی رہی ہے، ان کی نگرانی ہوتی رہی ہے، ان کی درجہ بندی کی جاتی رہی ہے اور انہیں اصلاحات کے بارے میں ہدایات دی جاتی رہی ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پیمائش کرنے والوں کی کارکردگی کو بھی جانچا جائے۔
بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انہوں نے کتنی اصلاحات تجویز کیں یا کتنے اشاریے تیار کیے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ان کے مشوروں پر عمل کرنے والے ممالک نے کس حد تک پائیدار معاشی ترقی حاصل کی۔
اس معیار پر مشورہ دینے والے اور مشورہ قبول کرنے والے، دونوں کو یکساں جواب دہ ہونا چاہیے۔
ریپبلک پالیسی کی کتب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں: 0341-4222501








