محمد زبیر، سرکاری افسر
تصوف انسان کو اپنی بڑائی کے احساس سے آزاد کرنے کے لیے آیا تھا۔ لیکن اس راستے پر چلنے والے بہت سے لوگ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی روحانی عظمت کو تسلیم کریں اور ان کے مقام و مرتبے کا اعتراف کریں۔
اسی احساسِ برتری سے تصرف کی خواہش پیدا ہوتی ہے، یعنی دنیا کے معاملات میں اپنی روحانی قوت کے ذریعے اثرانداز ہونے کی آرزو۔ ایسا شخص چاہتا ہے کہ جو اس سے جھگڑا کرے وہ تباہ ہو جائے اور جو اسے تکلیف پہنچائے وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہو، تاکہ دنیا اس کی روحانی طاقت کے سامنے سر جھکا دے۔
حالانکہ تصوف کی حقیقی منزل تصرف پر قدرت حاصل کرنا نہیں بلکہ تسلیم و رضا کا مقام پانا ہے۔ انسان کی معرفت جتنی گہری ہوتی جاتی ہے، اپنی طاقت اور اختیار کا احساس اتنا ہی مٹتا جاتا ہے۔
راہِ سلوک کا پختہ مسافر تو اپنے اثر و رسوخ کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ پوری کائنات میرے رب کی ملکیت ہے، پھر مجھے اس کی سلطنت میں مداخلت کرنے کا کیا حق ہے؟
یہ کیسا عجیب تضاد ہے کہ جس راستے کی منزل اپنی نفی ہے، اسی راستے پر ہم اپنی عظمت ثابت کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔
یہ احساسِ برتری بعض اوقات شریعت کے احکام سے خاموش بے نیازی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کچھ لوگ کسی روحانی سلسلے سے وابستہ ہوتے ہی خود کو عام مسلمانوں سے بلند سمجھنے لگتے ہیں۔ نماز، روزہ اور دیگر دینی فرائض ان کی نظر میں ابتدائی درجے کے لوگوں کے معاملات بن جاتے ہیں۔
اس حوالے سے دو واقعات یاد آتے ہیں۔
ایک مرتبہ ہم نماز ادا کر چکے تو قلندرانہ مزاج رکھنے والے ایک صاحب نے ہماری طرف دیکھ کر کہا:
“آپ ابھی تک نمازوں کے مرحلے میں ہیں؟”
ایک اور موقع پر ایک شخص ہمیں نماز پڑھتے دیکھ کر ہنسنے لگا۔ جب اس سے ہنسنے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ نماز تو شیرخوار بچوں کے لیے دودھ کی مانند ہے، جو ابھی ٹھوس غذا ہضم نہیں کر سکتے۔ ظاہر ہے کہ آپ ابھی اسی مرحلے میں ہیں۔
بلاشبہ یہ انتہائی نوعیت کی مثالیں ہیں، لیکن ان کے پیچھے ایک ایسا رجحان موجود ہے جو بعض حلقوں میں کم یا زیادہ شدت کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔
راہِ سلوک کا پورا سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں طے کیا جاتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کوئی مرحلہ ایسا نہیں تھا جس میں آپ عبادت سے بے نیاز ہوئے ہوں۔
اللہ تعالیٰ سے آپ کا قرب جتنا بڑھتا گیا، آپ کی عبادت اور بندگی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا گیا۔
اگر معرفت انسان کو نماز سے بے نیاز کر دے تو یقیناً اس معرفت میں کوئی خرابی ہے، کیونکہ جس ذات کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، نماز کا حکم بھی اسی ذات نے دیا ہے۔
شریعت اور طریقت دو متضاد راستے نہیں ہیں۔ طریقت دراصل شریعت کی روح کو اپنے باطن میں اتارنے کا نام ہے۔
روحانی برتری کا یہی احساس رفتہ رفتہ دوسروں کو حقیر سمجھنے کی عادت پیدا کرتا ہے۔ انسان اپنی عبادت، ذکر، روحانی نسبت اور باطنی تجربات کو اپنی امتیازی حیثیت کی دلیل سمجھنے لگتا ہے۔
حالانکہ حقیقی تصوف کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو حقیر سمجھے اور دوسروں پر کسی قسم کی بڑائی کا دعویٰ نہ کرے۔
تصوف انسانی دل سے تکبر نکالنے کے لیے آیا تھا۔ اگر اسی کے نام پر تکبر پروان چڑھنے لگے تو اس سے بڑا نقصان کیا ہوگا؟
اپنی اصلاح کی فکر اور روحانی ترقی کی خواہش یقیناً قابلِ قدر ہیں، لیکن خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا اسی نفس کی پرورش کرنا ہے جس کی تربیت اور اصلاح کے لیے یہ راستہ اختیار کیا گیا تھا۔
یہ احساسِ برتری صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ صوفی سلسلوں تک بھی پھیل جاتا ہے۔
ہر سلسلے کا پیروکار یہ ثابت کرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے کہ اس کا سلسلہ سب سے افضل، اس کا مرشد سب سے بلند مرتبے والا اور اس کا طریقہ سب سے زیادہ معتبر ہے۔
دوسرے سلسلوں کی خوبیوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کی کمزوریاں تلاش کی جاتی ہیں۔
مشائخ کے فضائل، کرامات اور واقعات کے انبار لگا دیے جاتے ہیں، گویا طریقت کا مقصد اپنے روحانی سلسلے کی عظمت ثابت کرنے کے لیے دلائل جمع کرنا ہو۔
اس طرح انفرادی انا کی جگہ اجتماعی انا لے لیتی ہے۔
ایک اور معاملہ بھی غور طلب ہے۔
ہم عموماً روحانیت کو آزمائشوں سے نجات کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ کوئی ہماری مخالفت نہ کرے، کوئی ہمیں تکلیف نہ پہنچائے، کوئی ہماری مرضی کے خلاف کام نہ کرے، اور اگر کوئی ایسا کرے تو فوراً خدائی گرفت میں آجائے۔
گویا کسی روحانی سلسلے سے وابستگی انسان کو زندگی کی مشکلات سے خصوصی استثنا فراہم کر دیتی ہے۔
لیکن اہلِ حق کی تاریخ اس کے بالکل برعکس داستان بیان کرتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقہ امتوں کے ایسے اہلِ ایمان کا ذکر فرمایا جن کے جسم آروں سے چیر دیے جاتے تھے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کی ہڈیوں سے گوشت الگ کر دیا جاتا تھا، لیکن وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتے تھے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طائف میں پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ آپ لہولہان ہوگئے۔
جب پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کے ستانے والوں کو پہاڑوں کے درمیان کچل دینے کی پیشکش کی تو آپ نے اس کے بجائے یہ امید ظاہر کی کہ شاید ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو ایک اللہ کی عبادت کریں۔
غزوۂ احد میں آپ زخمی ہوئے۔ آپ کے صحابہ نے بے مثال قربانیاں دیں اور غزوۂ خندق میں خندق کھودنے کی سختیاں برداشت کیں۔
ان مقدس ہستیوں کی زندگیوں میں آزمائش کوئی غیر معمولی حادثہ نہیں بلکہ راہِ حق کا حصہ تھی۔
ان کی عظمت اس بات میں نہیں تھی کہ انہیں کبھی تکلیف نہیں پہنچی، بلکہ اس حقیقت میں تھی کہ تکلیف اور مصیبت ان کی بندگی، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کو کمزور نہ کر سکیں۔
پھر ہم کس بنیاد پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ کسی روحانی سلسلے میں داخل ہوتے ہی ہماری ہر مشکل ختم ہو جائے گی؟
کیا اللہ تعالیٰ کے قرب کا مطلب آزمائشوں سے استثنا ہے؟
طریقت تو نفس کی تربیت، خواہشات کی قربانی اور اپنے رب کی رضا پر راضی رہنے کا نام ہے۔
یہاں خصوصی مراعات نہیں مانگی جاتیں بلکہ صبر اور ثابت قدمی کی توفیق طلب کی جاتی ہے۔
تصوف کی معراج یہ نہیں کہ جو ہمیں تکلیف پہنچائے وہ تباہ ہو جائے۔
تصوف کی معراج یہ ہے کہ کوئی ہمیں تکلیف پہنچائے تو ہم اس کے لیے بھی خیر کی دعا کرنے کے قابل ہوں۔
اختلافِ رائے ہماری روحانیت کو مجروح نہ کرے اور کسی کا ناروا سلوک ہمارے مقام کو کم نہ کرے۔
اسی طرح کسی مخالف کی مصیبت ہماری ولایت کی سند نہیں، اور کسی دوسرے روحانی سلسلے کی عظمت ہمارے اپنے سلسلے کی عظمت میں کوئی کمی نہیں کرتی۔
مشائخ سے محبت کا بہترین اظہار ان کی کرامات بیان کرنا نہیں بلکہ ان کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔
نماز میں حضورِ قلب، معاملات میں دیانت داری، اختلاف میں شائستگی، آزمائش میں صبر اور دوسروں کے لیے خیر خواہی، یہی راہِ سلوک کی حقیقی برکات ہیں۔
طریقت کا حاصل یہ نہیں کہ ہم دوسروں سے بڑے بن جائیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود کو بڑا سمجھنا چھوڑ دیں۔
جو سفر اپنی نفی سے شروع ہوتا ہے، وہ اپنی بڑائی پر کیسے ختم ہو سکتا ہے؟
اگر ہمارے اندر عاجزی، برداشت، محبت اور حسنِ اخلاق پیدا نہیں ہوئے تو پھر یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ آخر ہم نے اس راستے سے حاصل کیا کیا ہے؟









