ریپبلک پالیسی | عالمی امور اور بین الاقوامی تعلقات | تجزیہ
تحریر: مومنہ فاطمہ
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی حالیہ کوششوں نے بین الاقوامی سفارت کاری کے ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کیا ہے: کیا ایسا امن معاہدہ پائیدار ہو سکتا ہے جس میں جنگ کے تمام اہم فریق شامل نہ ہوں؟ امریکہ اور ایران کے درمیان جون ۲۰۲۶ء میں طے پانے والا چودہ نکاتی مفاہمتی معاہدہ اسی سوال کو عالمی سیاست کے مرکز میں لے آیا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی ختم کرنا، علاقائی محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانا اور ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے مذاکرات کی بنیاد فراہم کرنا تھا۔ تاہم اسرائیل کی عدم شمولیت نے اس کی عملی کامیابی کے بارے میں اہم سوالات پیدا کر دیے۔
۱۷ جون ۲۰۲۶ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ یہ پیش رفت اس جنگ کے بعد سامنے آئی جو ۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ہلاک ہوئے تھے۔
معاہدے کی پہلی شق میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اصول شامل کیا گیا۔ اس کے باوجود اسرائیل اس معاہدے کا دستخط کنندہ نہیں تھا، حالانکہ وہ ایران کے خلاف جنگ اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ فوجی تصادم کا ایک اہم فریق تھا۔
یہی تضاد اس معاہدے کی سب سے بڑی سیاسی اور عملی کمزوری بن کر سامنے آیا۔ The American Presidency Project+2
پاکستان کی ثالثی اور سفارتی پیش رفت
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ سات اور آٹھ اپریل ۲۰۲۶ء کو ابتدائی جنگ بندی کے قیام میں پاکستان کی کوششیں اہم رہیں، جبکہ بعد میں قطر کی شمولیت سے مذاکراتی عمل کو مزید تقویت ملی۔
دونوں ممالک کے درمیان اختلافات محض فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں تھے۔ ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور لبنان کی صورتِ حال جیسے پیچیدہ معاملات بھی مذاکرات کا حصہ تھے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار ہوئی، جس نے حتمی تصفیے کے لیے ساٹھ روزہ مذاکراتی مدت فراہم کی۔
یہ ایک اہم سفارتی کامیابی تھی، کیونکہ طویل فوجی تصادم کے بعد امریکہ اور ایران کسی مشترکہ سیاسی لائحۂ عمل پر متفق ہوئے تھے۔
تاہم ابتدائی معاہدے اور پائیدار امن کے درمیان بنیادی فرق موجود تھا۔ معاہدے نے مذاکرات کا راستہ کھولا، لیکن تمام علاقائی تنازعات کو فوری طور پر حل نہیں کیا۔
خاص طور پر لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی نے اس سفارتی پیش رفت کو مسلسل غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار رکھا۔ Investing.com+1
اسرائیل کی عدم شمولیت: سفارتی ضرورت یا بنیادی کمزوری؟
اس معاہدے کا سب سے متنازع پہلو اسرائیل کی عدم شمولیت تھا۔
امریکہ نے ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیے، جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ، جو لبنان میں ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مصروف تھے، اس مفاہمتی یادداشت کے براہِ راست فریق نہیں بنے۔
اس انتظام کے پیچھے ایک قابلِ فہم سفارتی منطق موجود تھی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان گہرے عدم اعتماد اور متضاد سلامتی ترجیحات کے باعث دونوں کو ایک ہی مذاکراتی عمل میں شامل کرنا معاہدے تک پہنچنے میں مزید مشکلات پیدا کر سکتا تھا۔
اس نقطۂ نظر سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی طے کرنا اور بعد میں اسرائیل سے متعلق معاملات کو الگ سفارتی عمل کے ذریعے حل کرنا ایک عملی حکمتِ عملی سمجھی جا سکتی تھی۔
تاہم اس طریقے کی کامیابی اس مفروضے پر منحصر تھی کہ معاہدے سے باہر رہنے والے فریق بھی اس کے بنیادی مقاصد کے مطابق اپنے اقدامات محدود کر دیں گے۔
اسرائیل کے معاملے میں یہی مفروضہ غیر یقینی ثابت ہوا۔
اسرائیلی قیادت نے لبنان میں اپنی فوجی موجودگی اور کارروائیوں کے بارے میں ایسا مؤقف اختیار کیا جو ایران کی جانب سے معاہدے کی پیش کردہ تشریح سے مختلف تھا۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیلی افواج لبنان میں ضرورت کے مطابق موجود رہ سکتی ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے اسرائیلی افواج کے انخلا کو جنگ کے حقیقی خاتمے سے منسلک کیا۔
اس اختلاف نے ظاہر کیا کہ معاہدے کے الفاظ پر اتفاق اور ان کے عملی نفاذ پر اتفاق دو الگ معاملات ہیں۔ The Washington Post+1
لبنان کی شمولیت پر متضاد مؤقف
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان کا واضح ذکر موجود تھا۔ اس کے باوجود معاہدے کے عملی دائرۂ کار، اسرائیلی افواج کے انخلا اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مختلف فریقوں کی تشریحات میں اختلاف برقرار رہا۔
ایران اور پاکستان نے لبنان میں جنگ بندی کو وسیع تر مفاہمت کا حصہ قرار دیا، جبکہ اسرائیلی حکام نے اس کے بعض مضمرات سے اختلاف کیا۔
یہ اختلاف محض سفارتی الفاظ کا مسئلہ نہیں تھا۔ اس کا تعلق اس بنیادی سوال سے تھا کہ کیا امریکہ اور ایران کا معاہدہ ایسے ملک کی فوجی کارروائیوں کو بھی محدود کر سکتا ہے جو خود اس معاہدے کا فریق نہیں؟
بین الاقوامی تعلقات میں کسی معاہدے کی مؤثریت کا انحصار صرف اس کی تحریری شرائط پر نہیں ہوتا۔ اس کے لیے متعلقہ فریقوں کی رضامندی، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم اور خلاف ورزیوں کی صورت میں قابلِ عمل انتظامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔
لبنان کے معاملے میں یہی عناصر مکمل طور پر واضح نہیں تھے۔
بعد ازاں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی نگرانی اور فریقوں کے درمیان ممکنہ تصادم روکنے کے لیے ایک خصوصی رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔
یہ اقدام اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ابتدائی مفاہمت کے باوجود لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے لیے اضافی سفارتی اور انتظامی اقدامات درکار تھے۔ Ministry of Foreign Affairs Pakistan+1
آبنائے ہرمز: علاقائی جنگ کا عالمی معاشی پہلو
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نے عالمی معیشت پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے باعث۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تجارت ہونے والے تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
اس راستے کی بندش یا تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایران کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت محض جغرافیائی نہیں بلکہ سفارتی بھی ہے۔ اس گزرگاہ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں پر سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
اس لیے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے معاملات کے درمیان تعلق نے جنگ بندی کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
مفاہمتی یادداشت میں بحری آمدورفت کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے انتظامات بھی شامل کیے گئے تھے۔
تاہم ان انتظامات کی کامیابی علاقائی کشیدگی میں حقیقی کمی اور متعلقہ فریقوں کے باہمی اعتماد سے مشروط رہی۔ The American Presidency Project+1
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں اختلافات
اسرائیل کی عدم شمولیت نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کے ایک اہم پہلو کو بھی نمایاں کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سلامتی تعاون اور سیاسی تعلقات موجود ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر علاقائی تنازعے میں ان کی فوری ترجیحات اور سفارتی حکمتِ عملیاں یکساں ہوں۔
امریکہ کے لیے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا مقصد ایک وسیع علاقائی تصادم کو محدود کرنا، عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام پیدا کرنا اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا راستہ کھولنا تھا۔
اسرائیل کی قیادت لبنان میں حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں اور اپنی سرحدی سلامتی سے متعلق الگ خدشات رکھتی تھی۔
ان مختلف ترجیحات نے ایسی صورتِ حال پیدا کی جس میں واشنگٹن ایک جامع جنگ بندی کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو الگ سلامتی تقاضوں کے تحت دیکھ رہا تھا۔
اسرائیل کے اندر بھی معاہدے پر سیاسی اختلافات سامنے آئے۔ بعض ناقدین نے اسے وزیراعظم نیتن یاہو کی سفارتی ناکامی قرار دیا کہ اسرائیل جنگ میں شریک ہونے کے باوجود بنیادی مذاکراتی عمل کا براہِ راست حصہ نہیں بن سکا۔
تاہم یہ تنقید ایک سیاسی مؤقف ہے۔ اس سے معاہدے کی مجموعی کامیابی یا ناکامی کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے علاقائی اتحادی کے ساتھ ایسا قابلِ عمل اتفاق پیدا کر سکتا ہے جو ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کے بنیادی مقاصد سے مطابقت رکھتا ہو۔
کیا تمام فریقوں کی شرکت کے بغیر امن ممکن ہے؟
اس معاہدے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ جنگ بندی اور پائیدار امن ایک ہی چیز نہیں۔
جنگ بندی فوری فوجی تصادم کو محدود کر سکتی ہے، لیکن مستقل امن کے لیے تنازعے کے بنیادی اسباب، سلامتی کے خدشات اور متعلقہ فریقوں کی ذمہ داریوں پر اتفاق ضروری ہوتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت نے سفارت کاری کے لیے ایک اہم موقع پیدا کیا۔ تاہم اسرائیل اور حزب اللہ جیسے براہِ راست متحارب فریقوں کی عدم شمولیت نے لبنان میں اس کے نفاذ کو پیچیدہ بنا دیا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ابتدائی معاہدہ غیر ضروری تھا۔ وسیع جنگ کے دوران محدود مفاہمت بھی انسانی جانوں کے تحفظ، معاشی نقصانات میں کمی اور مزید مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتی ہے۔
لیکن ایسی مفاہمت کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاہدے کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہونے والے فریقوں کے ساتھ بھی واضح انتظامات طے کیے جائیں۔
اسرائیل کی باضابطہ شرکت ایک ممکنہ راستہ ہو سکتی ہے، تاہم کسی بھی مؤثر بندوبست کے لیے لبنان کی خودمختاری، متعلقہ فریقوں کی سلامتی اور جنگ بندی کی نگرانی جیسے معاملات کو بھی حل کرنا ہوگا۔
صرف کسی اضافی دستخط سے تمام اختلافات ختم نہیں ہوں گے، لیکن واضح ذمہ داریوں اور قابلِ عمل نگرانی کے بغیر معاہدے کی پائیداری مشکوک رہے گی۔
پاکستان کا سفارتی کردار اور مستقبل کے امکانات
اس بحران میں پاکستان کی ثالثی نے اس کی علاقائی سفارتی اہمیت کو نمایاں کیا۔
اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے قائم رکھنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، جبکہ قطر کے تعاون سے مفاہمت کے لیے ایک مشترکہ بنیاد فراہم کی گئی۔
یہ سفارتی پیش رفت پاکستان کے لیے اہم تھی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے اثرات اس کی سلامتی، توانائی کی ضروریات اور معاشی حالات پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
تاہم کسی ابتدائی معاہدے تک پہنچنا اور اسے مستقل سیاسی تصفیے میں تبدیل کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔
جون ۲۰۲۶ء کی مفاہمت نے ساٹھ روز کے اندر جامع مذاکرات مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس دوران ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، بحری آمدورفت اور علاقائی سلامتی سے متعلق پیچیدہ سوالات پر اتفاق پیدا کرنا ضروری تھا۔
ان معاملات میں پیش رفت کے باوجود لبنان میں فوجی کارروائیوں سے متعلق اختلافات نے ظاہر کیا کہ کسی ایک محاذ پر کشیدگی برقرار رہنے سے وسیع تر امن عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور دیگر ثالث ممالک کے لیے اصل چیلنج صرف امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے برقرار رکھنا نہیں بلکہ ایسے انتظامات کی تشکیل میں معاونت کرنا بھی ہے جو مختلف علاقائی تنازعات کو دوبارہ ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکیں۔
نتیجہ: پائیدار امن کے لیے جامع سفارت کاری ناگزیر
امریکہ اور ایران کے درمیان جون ۲۰۲۶ء کا مفاہمتی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کا ایک اہم مرحلہ تھا، لیکن اسرائیل کی عدم شمولیت نے اس کے نفاذ سے متعلق بنیادی پیچیدگیوں کو نمایاں کیا۔
یہ معاملہ بین الاقوامی سفارت کاری کی ایک وسیع حقیقت کی عکاسی کرتا ہے: کسی جنگ کے خاتمے کے لیے صرف بڑی طاقتوں کے درمیان اتفاق کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان تمام اہم فریقوں کے اقدامات کو بھی کسی قابلِ عمل سیاسی بندوبست کے تحت لانا ضروری ہوتا ہے جو میدانِ جنگ میں براہِ راست اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی، ایران کے سلامتی خدشات اور امریکہ کی علاقائی ترجیحات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ان مسائل کو مکمل طور پر الگ رکھ کر پائیدار امن حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اس لیے مستقبل کی سفارتی کوششوں میں معاہدے کی شرائط کی واضح تشریح، متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر رابطے اور خلاف ورزیوں کی نگرانی کے قابلِ اعتماد طریقۂ کار کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔
امن معاہدے کی حقیقی کامیابی اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ اس پر کتنے دستخط موجود ہیں، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں متحارب فریقوں کے رویوں کو کس حد تک تبدیل کر سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے یہی اس مفاہمت کا سب سے اہم امتحان ہے۔
مصنفہ کا تعارف
مومنہ فاطمہ قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد میں بین الاقوامی تعلقات کی طالبہ ہیں اور اس وقت اپنی تعلیم کے ساتویں سمسٹر میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپیوں میں حکمرانی، عوامی پالیسی، تزویراتی و جغرافیائی سیاسی تجزیہ، خارجہ پالیسی، مشرقِ وسطیٰ کے امور، خواتین کی بااختیاری، ماحولیاتی سرگرمیاں، علاقائی سیاست، سیاسی نمائندگی اور معاصر بین الاقوامی معاملات شامل ہیں۔








