پاکستان میں بینک تو ہیں، مگر مالیاتی منڈیاں کہاں ہیں؟

[post-views]
[post-views]

ندیم الحق

پاکستان کئی دہائیوں سے معاشی ترقی کی تلاش میں ہے۔ ہم صنعتی پالیسیاں آزما چکے ہیں، سبسڈیز دی ہیں، ترقیاتی منصوبے بنائے ہیں، خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے ہیں، رعایتی قرضے فراہم کیے ہیں اور آئی ایم ایف کے بے شمار پروگراموں سے گزر چکے ہیں۔ ہر نئی حکومت سرمایہ کاری کے وعدے کرتی ہے اور ہر وزیرِ خزانہ معاشی استحکام کی یقین دہانی کراتا ہے۔ اس کے باوجود جدید معاشی ترقی کے ایک اہم ترین محرک کا ہماری معاشی بحث میں شاذ ہی ذکر ہوتا ہے: مالیاتی منڈیاں (Financial Markets)۔

ہمارے پاس بینک ہیں، اور ان کی تعداد بھی کم نہیں۔ معاشی پالیسی سازی میں بااثر عہدوں پر بینکار موجود ہیں۔ ہمارے پاس اسٹاک ایکسچینج بھی ہے، جہاں انڈیکس میں غیر معمولی اضافے کو باقاعدگی سے کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ مالیاتی منڈیاں کہاں ہیں جو نئے کاروباری افراد کو تلاش کریں، نئے کاروباروں کو سرمایہ فراہم کریں، جدت طرازی کی مالی معاونت کریں اور کامیاب ہونے کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں کو وسعت کے مواقع دیں؟ وہ منڈیاں کہاں ہیں جو عام شہریوں کو بھی اپنے مالی مستقبل کی منصوبہ بندی اور ترقی کے مواقع فراہم کریں اور انہیں اپنی زندگی میں درپیش خطرات کا سامنا کرتے ہوئے مالی فیصلے کرنے کے قابل بنائیں؟

منافع کمانے والا بینکاری شعبہ ایک ترقی یافتہ مالیاتی نظام کے برابر نہیں ہوتا۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے ان دونوں کو ایک ہی چیز سمجھنے کی غلطی کر رہا ہے۔

ترقی یافتہ معیشتوں نے ترقی کیسے کی؟

معاشی تاریخ ایک دلچسپ حقیقت بیان کرتی ہے۔ جدید سرمایہ داری صرف کارخانوں اور ٹیکنالوجی کی بدولت پروان نہیں چڑھی؛ مالیاتی جدت نے بھی اس میں اتنا ہی اہم کردار ادا کیا۔

سترہویں صدی کے ایمسٹرڈیم میں سیکیورٹیز کی خرید و فروخت، جدید قرضوں کے انتظامات اور ایسی منڈیاں وجود میں آئیں جنہوں نے تاجروں کو اپنی ذاتی دولت سے آگے بڑھ کر سرمایہ حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ اس کے بعد برطانیہ نے بینکاری، انشورنس، حکومتی قرضوں کی منڈیوں اور بالآخر ایک وسیع ہوتی ہوئی سیکیورٹیز مارکیٹ کو فروغ دیا۔ ریلوے، نہروں، بحری تجارت اور بڑے صنعتی اداروں کے لیے اتنے بڑے سرمائے کی ضرورت تھی جو خاندانوں کی ذاتی بچت سے فراہم نہیں کیا جا سکتا تھا۔

امریکا نے اس عمل کو مزید آگے بڑھایا۔ اس کے وسیع ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاروں کو بانڈز اور حصص فروخت کیے گئے۔ بعد ازاں بڑی کارپوریشنز، انویسٹمنٹ بینکس، پنشن فنڈز اور پھر وینچر کیپیٹل کا شعبہ وجود میں آیا۔ امریکا کی تکنیکی برتری کا ایک بڑا حصہ ایسے ماحول میں پروان چڑھا جہاں نئے خیالات کو ایسے سرمایہ کار میسر تھے جو غیر یقینی نتائج کے باوجود سرمایہ لگانے پر آمادہ ہوتے تھے۔

سلیکون ویلی کی مثال سامنے رکھیں۔ ایپل، انٹیل، گوگل یا جدید ٹیکنالوجی کی صنعت کو بینکوں نے جائیداد کے عوض قرض دے کر تخلیق نہیں کیا۔ کاروباری افراد کو ایسے ایکویٹی سرمایہ کار ملے جو ناکام منصوبوں میں اپنا سرمایہ کھونے کا خطرہ قبول کرتے تھے، اس امید پر کہ ان کے چند منصوبے غیر معمولی کامیابی حاصل کریں گے۔

ہر ملک نے امریکی ماڈل کی پیروی نہیں کی۔ جرمنی اور جاپان نے بینکاری نظام پر زیادہ انحصار کیا، جبکہ جنوبی کوریا نے ہدایت یافتہ قرضوں اور ترقیاتی مالیات کو استعمال کیا۔ لیکن کامیاب صنعتی ترقی کے لیے ہر جگہ ایسے اداروں کی ضرورت رہی جن کے ذریعے پیداواری سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ جمع اور فراہم کیا جا سکے۔ مالیاتی انتظامات مختلف تھے، لیکن ان کا معاشی مقصد ایک ہی تھا۔

ماہرینِ معاشیات نے کیا دریافت کیا؟

جوزف شمپیٹر نے ایک صدی سے بھی پہلے اس تعلق کو پہچان لیا تھا۔ ان کے مطابق معاشی ترقی اس وقت جنم لیتی ہے جب کاروباری افراد نئی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور کاروبار کرنے کے نئے طریقے متعارف کراتے ہیں۔ مالیات انہیں ایسے وسائل تک رسائی فراہم کرتی ہے جو ان کی اپنی ملکیت میں موجود نہیں ہوتے۔

جدید تحقیق نے بھی اس تصور کی تائید کی ہے۔ رگھورام راجن اور لوئیجی زنگالیز نے واضح کیا کہ بیرونی مالی وسائل کی زیادہ ضرورت رکھنے والی صنعتیں ان ممالک میں تیزی سے ترقی کرتی ہیں جہاں مالیاتی نظام زیادہ ترقی یافتہ ہو۔ راس لیوائن کی وسیع تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی کہ مالیاتی شعبہ محض بچت میں اضافہ کرکے نہیں بلکہ سرمائے کی بہتر تقسیم کے ذریعے بھی معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایک اور اہم تحقیق، جو اصلی دمیرگچ کونٹ، ایرک فیین اور راس لیوائن نے کی، اس نتیجے پر پہنچی کہ جیسے جیسے ممالک خوشحال ہوتے ہیں، ان کے مالیاتی نظام میں بینکوں کے مقابلے میں سیکیورٹیز کی منڈیوں کی اہمیت بڑھنے لگتی ہے۔

اس کا پیغام سادہ ہے: ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ نئے مواقع کی طرف منتقل ہو۔ مالیاتی نظام کا کام صرف موجودہ دولت کو محفوظ رکھنا نہیں، بلکہ نئی دولت پیدا کرنے میں مدد دینا بھی ہے۔

صرف بینک کافی نہیں

یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ بینک اور مالیاتی منڈیاں مختلف کام انجام دیتے ہیں۔

بینک لوگوں کی جمع پونجی وصول کرتے ہیں، ادائیگیوں کا نظام چلاتے ہیں، کاروباروں کو روزمرہ اخراجات کے لیے سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور قرضے دیتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ کھاتہ داروں کی رقوم محفوظ رکھیں اور اپنی مالی حیثیت مستحکم رکھیں۔ بینک قرضوں کے خطرات ضرور قبول کرتے ہیں، لیکن ان خطرات کا محتاط انتظام ضروری ہوتا ہے۔

نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے والا ایک اسٹارٹ اَپ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کے ناکام ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ درحقیقت، بڑے اور نئے تجربات میں غیر یقینی صورتِ حال نمایاں ہوتی ہے۔ ایسے منصوبوں کے لیے عموماً ان سرمایہ کاروں کا سرمایہ موزوں ہوتا ہے جو جانتے بوجھتے اس امکان کو قبول کرتے ہیں کہ ان کی لگائی ہوئی رقم ضائع بھی ہو سکتی ہے۔

ایکوئٹی مارکیٹس، وینچر کیپیٹل، پرائیویٹ ایکویٹی اور دیگر خطرہ برداشت کرنے والے مالیاتی ادارے یہی کام کرتے ہیں۔ وہ سرمایہ کاری کے خطرات ایسے سرمایہ کاروں میں تقسیم کرتے ہیں جو انہیں قبول کرنے پر آمادہ ہوں۔ اس طرح کامیاب کاروباری افراد کو سرمایہ حاصل کرنے کے لیے نہ تو امیر خاندانوں سے تعلق رکھنے کی ضرورت رہتی ہے اور نہ ہی لازماً اپنی جائیداد ضمانت کے طور پر پیش کرنا پڑتی ہے۔

بینکوں کا کام جمع شدہ رقوم کا تحفظ ہے، جبکہ مالیاتی منڈیوں کا کام پیداواری سرمایہ کاری اور خطرہ مول لینے کے امکانات پیدا کرنا ہے۔ ایک جدید معیشت کو ان دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان کا نامکمل مالیاتی نظام

اب پاکستان کی صورتِ حال دیکھیے۔

اسٹیٹ بینک کی مالی سال 2025ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، اس کی رپورٹ کردہ تعریف کے تحت نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا محض 8.7 فیصد تھے۔ بینکوں کے ایڈوانسز ٹو ڈپازٹس ریشو (Advances-to-Deposits Ratio) کی شرح صرف 36.3 فیصد تھی۔ دوسرے الفاظ میں، بینکوں کی جانب سے دیے گئے قرضے ان کے مجموعی ڈپازٹس کے ایک تہائی سے کچھ زیادہ تھے۔

پھر اس سرمائے کا بڑا حصہ کہاں جاتا ہے؟ حکومتی سیکیورٹیز میں۔

آئی ایم ایف کی 2024ء کی ایک تحقیق کے مطابق، پاکستانی بینکوں کے مجموعی اثاثوں میں حکومتی سیکیورٹیز کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ تھا۔ تحقیق نے اندازہ لگایا کہ یہ سیکیورٹیز بینکوں کے اثاثوں کا تقریباً 60 فیصد تھیں، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی اوسط سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔

یہ ایک غیر معمولی مالیاتی ڈھانچا ہے۔ حکومت بڑے پیمانے پر قرض لیتی ہے، بینک حکومت کو قرض دیتے ہیں، حکومتی سیکیورٹیز سے انہیں خاطر خواہ منافع حاصل ہوتا ہے اور یہی نظام مسلسل چلتا رہتا ہے۔

جب حکومتی قرضوں میں سرمایہ کاری ایک پُرکشش متبادل فراہم کر رہی ہو تو کوئی بینک نئے کاروباری افراد کو تلاش کرنے، غیر مانوس ٹیکنالوجیز کا جائزہ لینے یا چھوٹی کمپنیوں کی ترقی میں مدد دینے کے لیے وقت اور وسائل کیوں صرف کرے گا؟

نتیجہ صرف نجی شعبے کو ناکافی قرضوں کی فراہمی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا مالیاتی نظام پیداواری سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے بجائے ریاست کو مالی وسائل فراہم کرنے کے گرد تشکیل پا چکا ہے۔

دوسری جانب، ملک کی معیشت کے مقابلے میں اسٹاک ایکسچینج کا حجم بھی محدود ہے۔ 2025ء کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں صرف 535 کمپنیاں لسٹڈ تھیں۔ اسی سال صرف سات نئی کمپنیاں اسٹاک ایکسچینج میں شامل ہوئیں۔

ہم کے ایس ای 100 انڈیکس کے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کو کامیابی قرار دیتے ہیں۔ لیکن انڈیکس میں اضافہ بنیادی طور پر یہ بتاتا ہے کہ سرمایہ کار پہلے سے موجود حصص کی کتنی قیمت دینے کو تیار ہیں۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کاروباری اداروں نے نئے کارخانے لگانے، مصنوعات تیار کرنے یا مزید لوگوں کو روزگار دینے کے لیے کتنا نیا سرمایہ حاصل کیا ہے۔

کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ نہایت محدود ہے۔ وینچر کیپیٹل اور پرائیویٹ ایکویٹی ابھی تک ملک میں سرمایہ فراہم کرنے کے بڑے ذرائع نہیں بن سکے۔ میوچل فنڈز کا زیادہ تر سرمایہ منی مارکیٹ اور فکسڈ اِنکم مصنوعات میں لگا ہوا ہے۔ اثاثوں کے انتظام سے وابستہ کئی اہم کمپنیاں بھی بینکاری گروپس سے منسلک ہیں۔

عام شہریوں کی مالیاتی نظام تک رسائی کی صورتِ حال بھی حوصلہ افزا نہیں۔ عالمی بینک کے گلوبل فِنڈیکس کے مطابق، 2024ء میں پاکستان کے صرف 27 فیصد بالغ افراد کے پاس مالیاتی یا موبائل منی اکاؤنٹ تھا۔ خواتین میں یہ شرح محض 12 فیصد تھی۔ روایتی بینک اکاؤنٹ کھلوانے اور اسے چلانے کے لیے آج بھی خاصی دستاویزات، ضابطہ جاتی تقاضوں، فیسوں اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً چھوٹے صارفین کو۔

جب آبادی کی اکثریت رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہو تو ہم قومی بچت کو مؤثر انداز میں کیسے متحرک کر سکتے ہیں؟

بینکاروں کی ترقیاتی ناکامی

گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں پاکستان کی معاشی پالیسی سازی پر ایسے افراد کا نمایاں اثر رہا ہے جن کی تربیت کمرشل بینکاری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں ہوئی ہے۔ بینکوں کی نجکاری سے توقع کی گئی تھی کہ اس کے نتیجے میں مالیاتی خدمات، مسابقت اور قرضوں کی بہتر تقسیم کو فروغ ملے گا۔ بعض شعبوں میں بہتری بھی آئی، خصوصاً بینکوں کے اندرونی انتظام اور ادائیگیوں کے نظام میں۔

لیکن اس کے ساتھ آزاد اور خودمختار کیپیٹل مارکیٹس کی ترقی کہاں ہے؟

وہ وینچر فنڈز، کارپوریٹ بانڈ مارکیٹس، پنشن سرمایہ کار، انویسٹمنٹ بینکس اور مسابقتی مالیاتی ذرائع کہاں ہیں جن کی ترقی کرتے ہوئے کاروباروں کو ضرورت ہوتی ہے؟

سوال یہ نہیں کہ انفرادی بینکار اہل ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بینکاری پر مرکوز پالیسی ساز حلقوں نے بینکوں سے آگے بڑھ کر مالیاتی شعبے کی ترقی پر خاطر خواہ توجہ دی ہے؟

بینکاری گروپس کے اپنے تجارتی مفادات ہوتے ہیں۔ ان کے کاروباری ماڈلز کو پورے مالیاتی نظام کی ساخت کا تعین نہیں کرنا چاہیے۔ درحقیقت، ایسا معاشی نظام جس میں قائم شدہ مالیاتی ادارے بچت، سرمایہ کاری اور پالیسی مباحث پر غالب ہوں، ان اداروں کے لیے مسابقت محدود کر سکتا ہے جو کاروباری سرگرمیوں کی مالی معاونت کے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔

پاکستان کو محض مزید مالیاتی ضوابط یا بینکاری مصنوعات کی ضرورت نہیں، بلکہ حقیقی مالیاتی ترقی درکار ہے۔

معاشی ترقی کے مرکز میں مالیات کو جگہ دیں

مالیاتی منڈیوں کی ترقی پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔ نہ کہ سبسڈی کی ایک اور اسکیم، نہ ہی بیوروکریٹس کے زیرِ انتظام کوئی نیا سرکاری فنڈ، اور نہ ہی کوئی ایسا نیا ریگولیٹر جو مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

سب سے پہلے حکومت کا بینکوں سے قرض لینے پر انحصار کم کیا جائے۔ مالیاتی اصلاحات کے بغیر بینکوں کے لیے حکومتی قرضے، نجی شعبے کو قرض دینے کے مشکل عمل کے مقابلے میں زیادہ پُرکشش رہیں گے۔

اس کے بعد مالیاتی نظام کو حقیقی مسابقت کے لیے کھولا جائے۔ آزاد انویسٹمنٹ بینکس، وینچر فنڈز، پرائیویٹ ایکویٹی فرمز، پنشن فنڈز کے منتظمین، انشورنس کمپنیاں اور سیکیورٹیز سے وابستہ اداروں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ضابطہ کاری کا مقصد سرمایہ کاروں کا تحفظ ہونا چاہیے، لیکن اسے مارکیٹ میں داخلے کو مہنگا اور پیچیدہ نہیں بنانا چاہیے۔

کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ کو ترقی دی جائے۔ ترقی کرتے ہوئے کاروباری اداروں کے لیے حصص جاری کرکے سرمایہ حاصل کرنا آسان بنایا جائے۔ پنشن اور انشورنس کے ذریعے طویل مدتی بچت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ دیوالیہ پن سے متعلق قابلِ اعتماد قانونی طریقۂ کار وضع کیے جائیں اور حصص یافتگان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ سرمایہ کار خطرات مول لینے پر آمادہ ہوں گے، لیکن اس کے لیے انہیں قابلِ اعتماد معلومات اور منصفانہ قواعد درکار ہیں۔

سب سے بڑھ کر کامیابی کو جانچنے کا پیمانہ تبدیل کیا جائے۔ اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس اور بینکوں کے منافع کو مالیاتی ترقی کا بنیادی اشاریہ سمجھنا بند کیا جائے۔ اس کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ کتنی نئی ایکویٹی جاری کرکے سرمایہ حاصل کیا گیا، کتنی نئی کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں، کتنے کارپوریٹ بانڈز جاری ہوئے، کتنے اسٹارٹ اَپس کو سرمایہ ملا اور کتنے گھرانے بچت اور سرمایہ کاری کی مالی مصنوعات تک رسائی حاصل کر سکے۔

مالیاتی منڈیاں ناقص ٹیکس نظام، توانائی کی غیر یقینی فراہمی، کمزور طرزِ حکمرانی یا سیاسی عدم استحکام کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ضرورت سے زیادہ سٹے بازی اور قرضوں کے بوجھ سے مالیاتی بحران جنم لے سکتے ہیں۔ اس لیے ضابطہ کاری اور مارکیٹ کا نظم و ضبط بھی ناگزیر ہیں۔

لیکن ایسے اداروں کے بغیر جو پیداواری سرگرمیوں سے وابستہ خطرات کی مالی معاونت کرنے کے لیے تیار اور اہل ہوں، معاشی ترقی موجودہ دولت، پہلے سے قائم کاروباروں اور حکومتی قرضوں تک محدود رہے گی۔

پاکستان کی معاشی بحث کئی دہائیوں سے استحکام کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ہم شرحِ سود، شرحِ مبادلہ، مالیاتی خسارے اور آئی ایم ایف کے اہداف پر مسلسل گفتگو کرتے ہیں۔ یہ تمام معاملات اہم ہیں، لیکن معاشی استحکام ہی معاشی ترقی نہیں ہوتا۔

ترقی کے لیے نئی کمپنیاں، نئی صنعتیں، جدت، مسابقت اور تجربات کرنے کی آمادگی ضروری ہے۔ ان سب کے لیے سرمایہ درکار ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو غیر یقینی نتائج کے باوجود سرمایہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے بینک کتنا منافع کما رہے ہیں یا اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس کتنی بلندی پر پہنچ گیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے مالیاتی نظام نے کتنے نئے کاروباروں کو جنم دینے میں مدد دی ہے۔

جب تک ہم اس سوال کا جواب تلاش نہیں کرتے، پاکستان کے پاس بینک تو ہوں گے، لیکن پائیدار معاشی ترقی کے لیے درکار مالیاتی منڈیاں موجود نہیں ہوں گی۔

اور شاید یہی ہماری ترقیاتی حکمتِ عملی کی سب سے اہم گمشدہ کڑیوں میں سے ایک ہے۔


ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی مقبول ترین کتب، جن میں اہم تصنیف ’’دی بیوروکریٹک کو‘‘ بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر معروف کتب فروش اداروں سے دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتب منگوانے کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں:

+92 341 4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]