صوبے، اختیارات اور عوام

[post-views]
[post-views]

طاہر مقصود چیمہ

نئے صوبوں کے قیام کا سوال بار بار سامنے آ رہا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اس بحث سے واضح طور پر بے چین دکھائی دیتی ہے۔ منگل کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ سے باہر کسی کو اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اس بحث کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینے کا وقت آ گیا ہے۔

ان کے مطابق سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے اس معاملے پر پہلے ہی اپنا فیصلہ دے چکے ہیں۔ بظاہر ان کا اشارہ ستمبر کے آغاز میں سندھ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کی طرف تھا، جو اسی مسئلے سے متعلق تھی۔ پیپلز پارٹی کے نزدیک یہ معاملہ طے ہو چکا ہے۔ صوبائی اسمبلی اپنا مؤقف دے چکی ہے اور اب اس بحث کو ختم ہو جانا چاہیے۔

اصولی اعتبار سے بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف درست ہے۔ آئین نئے صوبوں کے قیام یا موجودہ صوبائی حدود میں تبدیلی کا واضح طریقہ کار مقرر کرتا ہے۔ آرٹیکل ۲۳۹ کے تحت ایسی کسی آئینی ترمیم کی منظوری صرف پارلیمنٹ سے کافی نہیں، بلکہ متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کے ساتھ اس کی منظوری ضروری ہے۔ اس طرح ہر صوبے کے منتخب ایوان کو اس معاملے میں فیصلہ کن آئینی حیثیت حاصل ہے۔ یہ محض کوئی سیاسی ترجیح نہیں بلکہ ملک کا آئینی قانون ہے۔

یقیناً سندھ میں ہر شخص پیپلز پارٹی کے چیئرمین سے اتفاق نہیں کرتا۔ اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے دوسری سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے مختلف مؤقف رکھتے ہیں اور کھل کر اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ جمہوریت میں ان کا اختلاف بالکل جائز ہے۔ لیکن اختلاف خواہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، وہ آئین میں واضح طور پر طے شدہ طریقہ کار کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اختلافِ رائے ایک حق ہے، لیکن یہ آئینی عمل کو روک دینے کا اختیار نہیں۔

تاہم پاکستان میں اصول اور عملی صورتِ حال ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ جب وفاقی اقتدار فیصلہ کر لے تو عوامی مینڈیٹ کو کس آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ووٹ کے ذریعے دیا گیا عوامی فیصلہ اس صوبے کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا۔ آج خیبر پختونخوا کے فیصلے اس کے منتخب نمائندوں کے بجائے اسلام آباد کے مقرر کردہ منتظمین کر رہے ہیں۔ ووٹ عوام نے دیا، لیکن اقتدار دوسرے لوگ استعمال کر رہے ہیں۔

بعض لوگ کہیں گے کہ یہ موازنہ درست نہیں۔ سندھ اور خیبر پختونخوا ایک جیسے نہیں اور دونوں کے حالات بھی مختلف ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو۔ لیکن بلاول بھٹو زرداری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے مؤقف کی عملی اہمیت شاید اتنی زیادہ نہ ہو جتنی وہ سمجھتے ہیں۔ آئینی تحفظ اسی وقت مضبوط رہتا ہے جب اقتدار رکھنے والے اس کا احترام کرنے پر آمادہ ہوں۔ جب ایسا نہ ہو تو اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد کو بھی اسی آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے جس طرح انتخابات میں حاصل ہونے والے عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

نئے صوبوں کا معاملہ بھی آسانی سے ختم ہونے والا نہیں۔ وفاق میں حکمران اتحاد کے اندر کئی بااثر آوازیں تمام صوبوں کو چھوٹے اور نسبتاً آسانی سے چلائے جانے والے انتظامی حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یہ کوئی غیر اہم یا سیاسی طور پر الگ تھلگ آوازیں نہیں۔ یہ لوگ خود حکومت کا حصہ ہیں۔ خیبر پختونخوا کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایسی آوازوں کو مزید طاقت دی جا سکتی ہے اور مداخلت کے لیے کوئی جواز بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ قانون کی اصطلاح میں اسے Causa Proxima کہا جاتا ہے، یعنی وہ فوری سبب جو کسی اقدام کا محرک بنتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ایسا سبب پیدا کرنا عموماً زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔

اس لیے زیادہ دانش مندانہ راستہ بحث کو بند کرنا نہیں بلکہ ان اسباب کو ختم کرنا ہے جو اسے بار بار جنم دیتے ہیں۔ نئے صوبوں کے مطالبات کسی خلا میں پیدا نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے حقیقی عوامی شکایات ہوتی ہیں: ناقص تعلیمی ادارے، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، غیر فعال ہسپتال اور یہ احساس کہ صوبائی دارالحکومت اتنا دور ہے کہ اسے عام شہری کے مسائل کی کوئی فکر نہیں۔ ان شکایات کا ازالہ کر دیا جائے تو صوبوں کی تقسیم کے مطالبے کی شدت بڑی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ لیکن انہیں نظر انداز کیا جائے تو کوئی اسمبلی قرارداد اس مطالبے کو زیادہ دیر تک نہیں روک سکے گی۔

اصل مسئلہ یہی ہے۔ پاکستان میں حکمرانی کا نظام اس لیے ناکام نہیں کہ صوبے رقبے یا آبادی کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں۔ یہ اس لیے ناکام ہے کہ صوبائی دارالحکومت اپنے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے پر آمادہ نہیں۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں قائم صوبائی حکومتوں نے مختلف ادوار میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے انہیں اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ آئین کا آرٹیکل ۱۴۰ اے ہر صوبے کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرے۔ لیکن اس آئینی ذمہ داری پر عمل کرنے کے بجائے زیادہ تر اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

آج شاید ہی کوئی دیانت داری سے یہ دعویٰ کر سکے کہ مقامی حکومتوں کا موجودہ نظام عوام کی زندگی میں بنیادی سطح پر کوئی بامعنی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات برسوں تک مؤخر کیے جاتے ہیں۔ منتخب کونسلیں جب چاہے تحلیل کر دی جاتی ہیں۔ مالی وسائل روک لیے جاتے ہیں اور صوبائی محکمے مقامی اداروں کو دیے گئے اختیارات واپس لے لیتے ہیں۔ بلدیاتی ادارے کاغذ پر تو موجود ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ مالی وسائل کے بغیر میئر کا عہدہ محض ایک لقب رہ جاتا ہے، مؤثر منصب نہیں۔

دوسری طرف مزید صوبوں کا قیام بھی اس مسئلے کا علاج نہیں۔ اس سے صوبائی بیوروکریسی کی نئی پرتیں وجود میں آئیں گی۔ ہر نئے صوبے کے لیے الگ سیکریٹریٹ، اسمبلی، کابینہ، گورنر اور ہائی کورٹ درکار ہوگی۔ ہر نئے صوبے کا مطلب نئی عمارتیں، نئی تنخواہیں، نئی سرکاری گاڑیاں اور نئی مراعات ہیں۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور ادھار کے وسائل پر گزارا کر رہا ہے۔ وہ ایسے اضافی اخراجات کا متحمل مشکل ہی سے ہو سکتا ہے۔ زیادہ صوبوں کا مطلب زیادہ حکومت ہوگی، ضروری نہیں کہ بہتر حکمرانی بھی ہو۔

اس کے سماجی اخراجات اس سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں صوبائی حدود محض نقشے پر کھینچی گئی لکیریں نہیں۔ ان سے تاریخ، زبان اور شناخت وابستہ ہے۔ وسیع عوامی اتفاقِ رائے کے بغیر ان حدود میں تبدیلی پرانے زخم تازہ کر سکتی ہے اور ایسے لسانی و نسلی تنازعات کو جنم دے سکتی ہے جن پر قابو پانا کسی بھی حکومت کے لیے مشکل ہوگا۔ عوام کی خدمت کے نام پر انہیں تقسیم کرنے والی تبدیلی کو حقیقی اصلاح نہیں کہا جا سکتا۔

اس لیے مسئلے کا حل ہمارے اپنے مقامی نظام میں موجود ہے۔ بااختیار مقامی حکومتیں تقریباً ان تمام ضروریات کو پورا کر سکتی ہیں جنہیں آج نئے صوبوں کے قیام کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ فیصلہ سازی کو گلی، محلے اور یونین کونسل تک پہنچا سکتی ہیں۔ وہ سرکاری افسر کو اسی شہری کے سامنے جواب دہ بنا سکتی ہیں جو اس کے قریب رہتا ہے۔ جیسا کہ الیکسس ڈی ٹوکویل نے کہا تھا، آزادی کے لیے مقامی اداروں کی وہی اہمیت ہے جو سائنس کے لیے ابتدائی درس گاہوں کی ہوتی ہے۔ یہ ادارے آزادی کو عام لوگوں کی دسترس میں لے آتے ہیں۔

اس لیے زوال پذیر بلدیاتی نظام کو دوبارہ فعال بنانا ضروری ہے۔ اسے باقاعدہ انتخابات، منتخب نمائندوں کی محفوظ مدتِ کار، صوبائی مالی وسائل میں منصفانہ حصہ اور عوامی خدمات کی فراہمی کے حقیقی اختیارات درکار ہیں۔ وسائل دانش مندی سے خرچ کیے جائیں اور ان کے استعمال کا دیانت دارانہ آڈٹ ہو۔ اگر یہ کام درست طریقے سے کیا جائے تو محلوں اور مقامی آبادیوں کی سطح پر عوامی خدمات میں ایسی بہتری لائی جا سکتی ہے جو محض نئے صوبے بنانے سے حاصل نہیں ہوگی۔

لہٰذا پیپلز پارٹی کو سندھ کے آئینی حق کا دفاع ضرور کرنا چاہیے۔ لیکن اسے سندھ کے عوام کو وہ سہولتیں بھی فراہم کرنی چاہییں جن کی انہیں ضرورت ہے: صاف پانی، فعال تعلیمی ادارے اور ایسا منتخب کونسلر جو ان کی آواز سنے اور ان کے مسائل کا جواب دے۔ اے قاری، خود سے سوال کیجیے کہ آپ کو ایک نئے صوبائی دارالحکومت کی ضرورت ہے یا ایک فعال یونین کونسل کی؟ اس سوال کا جواب ہی بتائے گا کہ اصلاحات کا آغاز کہاں سے ہونا چاہیے۔

ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی مقبول ترین کتب، جن میں اہم تصنیف ’’دی بیوروکریٹک کو‘‘ بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر معروف کتب فروش اداروں سے دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0341-4222501 (واٹس ایپ)۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]