نعمت اللہ خان
“محض جغرافیائی حدود تبدیل کرنے سے طاقت کے ڈھانچے لازماً تبدیل نہیں ہوتے۔ ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی چھوٹے پیمانے پر اشرافیہ کے تسلط کو دوبارہ جنم دے سکتی ہے۔”
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث دوبارہ قومی منظرنامے پر ابھری ہے تو اس کے ساتھ ریاستی اصلاحات کا ایک اہم سوال بھی زیرِ بحث آ گیا ہے۔ مرکزیت، انتظامی نااہلی اور طرزِ حکمرانی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے تناظر میں سیاسی رہنماؤں نے چھوٹے صوبوں کے قیام کی تجاویز پیش کی ہیں، جب کہ حالیہ مہینوں میں ملک کے انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل کے امکانات پر بھی توجہ بڑھی ہے۔ یہ ایک جائز بحث ہے، خصوصاً ایسے ملک میں جہاں علاقائی محرومیاں، عوامی خدمات تک غیر مساوی رسائی اور سیاسی اختیار کا ارتکاز کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ تاہم، صوبائی حدود میں ردوبدل کے بظاہر سادہ تصور کے پیچھے ایک اہم سماجیاتی سوال پوشیدہ ہے: کیا طاقت کے استعمال سے متعلق ادارہ جاتی تعلقات کو تبدیل کیے بغیر محض جغرافیائی حدود کی نئی تشکیل طاقت کے پورے نظام کو بدل سکتی ہے؟
چھوٹے صوبوں کے قیام کے حق میں بعض دلائل میں وزن موجود ہے۔ بڑے انتظامی یونٹس حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا سکتے ہیں، علاقائی نمائندگی محدود کر سکتے ہیں اور عوامی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ کے لیے طویل عرصے سے جاری مطالبات سیاسی محرومی، علاقائی شناخت اور فیصلہ سازی تک غیر مساوی رسائی جیسے مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ان شکایات کو محض انتخابی سیاست یا نسلی و لسانی عصبیت کا اظہار سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ مطالبات ان کے روزمرہ تجربات کا نتیجہ ہیں: انتظامی مراکز سے دوری، سیاسی اثر و رسوخ کی کمی اور اپنے مسائل کے حل کے لیے مؤثر آواز نہ اٹھا سکنے کا احساس۔ تاہم، ان شکایات کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ نئے صوبوں کے قیام سے یہ مسائل فوری طور پر حل ہو جائیں گے۔ ادارہ جاتی تبدیلی اور علاقائی تنظیمِ نو کو ایک ہی چیز سمجھ لینا موجودہ بحث کی پہلی بنیادی فکری غلطی ہے۔ دونوں کا آپس میں تعلق ضرور ہے، لیکن یہ ایک دوسرے کا متبادل نہیں ہیں۔
نیا صوبہ بذاتِ خود ان ترغیبات، غیر رسمی روابط اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کو تبدیل نہیں کرتا جو سیاسی اور انتظامی اختیارات کے استعمال کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس سے بنیادی طور پر صرف وہ جغرافیائی حدود تبدیل ہوتی ہیں جن کے اندر یہ اختیارات استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے طرزِ حکمرانی کے مسائل کی وضاحت صرف صوبوں کے حجم یا تعداد سے نہیں کی جا سکتی۔ ان کا تجزیہ ریاست کی سیاسی معیشت، طاقت کے تعلقات، بیوروکریسی کے احتساب اور باضابطہ اداروں کے ساتھ غیر رسمی اثر و رسوخ کے نیٹ ورکس کے باہمی تعلق کی روشنی میں بھی کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر، مفاداتی گروہوں، شخصی سیاسی روابط، برادری کے تعلقات اور سرپرستی پر مبنی سیاست (Patronage) کے مستقل اثرات کو سامنے رکھیے۔ اگر بھرتیوں، تقرریوں، وسائل کی تقسیم اور سرکاری اداروں تک رسائی کے معاملات سیاسی مداخلت یا غیر رسمی وعدوں سے متاثر ہوتے رہیں تو محض انتظامی تنظیمِ نو سے مختلف نتائج کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
اگر ان رویوں کو جنم دینے اور برقرار رکھنے والے طریقۂ کار تبدیل نہ کیے جائیں تو نیا صوبہ بھی انھی ادارہ جاتی خامیوں کو ورثے میں لے سکتا ہے جنہوں نے پہلے نظام میں طرزِ حکمرانی کو کمزور کیا تھا۔ انتظامی نقشہ بدلنے کے باوجود اختیار کے استعمال کی بنیادی منطق وہی رہ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتظامیہ کی ہر ناکامی کا سبب سرپرستی پر مبنی سیاست ہے یا تمام سیاسی نیٹ ورکس اپنی نوعیت میں ناجائز ہیں۔ اصل مسئلہ ادارہ جاتی تشکیل کا ہے: ایسے کون سے حفاظتی انتظامات موجود ہیں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی اختیار واضح قواعد، پیشہ ورانہ صلاحیت اور اجتماعی مفاد کے مطابق استعمال ہو، نہ کہ مخصوص وابستگیوں اور ذاتی وفاداریوں کی بنیاد پر؟ اگر اس سوال کو اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ نہ بنایا گیا تو علاقائی تنظیمِ نو کو ادارہ جاتی تبدیلی کے زیادہ مشکل کام کا متبادل سمجھنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
طاقت کی سماجیات اور اشرافیہ سے متعلق نظریات ایک دوسرا، اتنا ہی اہم سوال اٹھاتے ہیں۔ کسی نئے صوبے کا قیام طاقت کو موجودہ صوبائی مرکز سے منتقل تو کر سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے طاقت کی جمہوری تقسیم بھی یقینی ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں، اختیار کو عام شہریوں تک پہنچانا اور اسے ایک جغرافیائی علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ ایک ایسے سیاسی نظام کا تصور کیجیے جہاں عام لوگ ریاستی اختیار کو ایسے اداروں کے ذریعے محسوس کرتے ہوں جن پر ان کا کوئی مؤثر کنٹرول نہ ہو، جہاں اختیارات وفاقی سطح پر مرتکز ہوں اور صوبائی اشرافیہ کے ذریعے استعمال ہوتے ہوں۔ نئے صوبے کے قیام سے اس درجہ بندی میں ایک اور سطح یا نیا علاقائی مرکز شامل ہو سکتا ہے۔
جو صوبائی اشرافیہ پہلے یہ شکایت کرتی تھی کہ اسے فیصلہ سازی سے باہر رکھا گیا ہے، اسے نئے صوبے میں سیاسی نمائندگی، سرکاری تقرریوں، ترقیاتی اخراجات اور انتظامی ترجیحات پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے علاقائی نمائندگی اور رسائی میں بہتری آ سکتی ہے۔ لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ نہیں کہ نئے صوبے میں حکمرانی زیادہ مساوی یا جواب دہ ہو جائے گی۔ یہی علاقائی مرکزیت کے ذریعے اشرافیہ کے تسلط کے تسلسل کا امکان ہے۔ اس سے مراد سیاسی اختیار کی ایسی منتقلی ہے جس کے ساتھ ان سماجی ڈھانچوں میں متناسب تبدیلی نہ آئے جو طاقت کے ارتکاز کو برقرار رکھتے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے صوبہ چھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن اس کی سیاسی درجہ بندی برقرار رہ سکتی ہے۔ جو لوگ پہلے صوبائی دارالحکومت سے دور تھے، وہ اب کسی نسبتاً قریبی دارالحکومت کے ماتحت تو آ سکتے ہیں، لیکن اپنی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں میں ان کا حقیقی کردار بدستور محدود رہ سکتا ہے۔ ہزارہ اور جنوبی پنجاب کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز کا بھی اسی زاویے سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔
سوال یہ نہیں کہ بعض سیاسی خاندانوں، جماعتوں یا مقامی رہنماؤں کو لازماً اصلاحات کے خلاف سمجھ لیا جائے۔ ایسے دعووں کے لیے شواہد درکار ہوں گے اور ان سے ایک ادارہ جاتی بحث کے جماعتی الزام تراشی میں تبدیل ہونے کا خطرہ بھی ہے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا مجوزہ صوبے کا ادارہ جاتی ڈھانچہ پہلے سے طاقتور سیاسی، جاگیردارانہ، تجارتی اور بیوروکریٹک نیٹ ورکس کے ہاتھوں اختیارات کے ارتکاز کو روک سکے گا؟ سیاسی طور پر کمزور طبقات، چھوٹی برادریوں اور محروم آبادیوں کو کسی نئی علاقائی اشرافیہ کے تسلط سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا ضمانتیں موجود ہوں گی؟ پاکستان میں سرپرست اور تابع دار کے سیاسی تعلقات (Patron-Client Relations) کو سامنے رکھا جائے تو یہ سوالات مزید اہم ہو جاتے ہیں۔ سرپرستی پر مبنی معاشرے میں سیاسی حمایت اور ذاتی وفاداری سرکاری وسائل، روزگار کے مواقع، تحفظ اور دیگر مراعات تک رسائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ تعلقات اکثر باضابطہ اداروں کے ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں اور اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ شہری حکومت سے کس طرح معاملات طے کرتے ہیں۔ اگر علاقائی تنظیمِ نو کے بعد بھی غیر رسمی سمجھوتے اور ذاتی روابط اسی طرح مؤثر رہیں تو نئے صوبوں کا قیام سرپرستی پر مبنی سیاست کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ نئی صوبائی اشرافیہ لازماً پرانے نظام کی نقل کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ ادارہ جاتی حفاظتی انتظامات کے بغیر ان رویوں کو برقرار رکھنے والی ترغیبات اصلاحات کے بعد بھی موجود رہ سکتی ہیں۔ پاکستان کے طرزِ حکمرانی کا وسیع تر تجربہ بھی اسی فرق کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ عالمی بینک کے اداروں اور طرزِ حکمرانی سے متعلق جائزوں میں کمزور عوامی انتظامیہ، نامکمل اختیارات کی منتقلی، اشرافیہ کے اداروں پر تسلط اور سرپرستی پر مبنی سیاست کو ملک کے ساختی مسائل میں شمار کیا گیا ہے۔ ان مسائل کا حل صرف انتظامی حدود تبدیل کرنے میں نہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کو تبدیلی کا بنیادی ذریعہ سمجھنے کے بجائے حالیہ بحث نے ایک اہم متبادل کی طرف بھی توجہ دلائی ہے: بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط بنانا اور اختیارات اضلاع اور میونسپل اداروں تک منتقل کرنا۔ دونوں حکمتِ عملیوں پر سنجیدہ غور ضروری ہے، لیکن کسی ایک کا جائزہ بھی محض اس بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہیے کہ کتنی انتظامی تقسیمیں قائم کی گئیں۔ قابلِ عمل اصلاحاتی حکمتِ عملی کے لیے سب سے پہلے مسئلے کی درست تشخیص ضروری ہے۔
نئے صوبے کی کسی بھی تجویز کا آغاز ایک ایسے ادارہ جاتی اثرات کے جائزے سے ہونا چاہیے جس میں واضح کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں عوامی احتساب، مالیاتی صلاحیت، بیوروکریٹک کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کس حد تک بہتری آئے گی۔ دوسرا، بلدیاتی حکومتوں کو مؤثر قانونی اختیارات، مستقل مالی وسائل اور انتظامی خودمختاری دی جائے، جن کی پشت پر شفاف آڈٹ اور قابلِ نفاذ احتساب کا نظام موجود ہو۔ بصورتِ دیگر، وفاق سے صوبے کو منتقل ہونے والے اختیارات دوبارہ صوبائی سیکرٹریٹ میں مرتکز ہو سکتے ہیں۔ تیسرا، سول سروس میں تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں کے لیے شفاف اور قواعد پر مبنی طریقۂ کار وضع کیا جائے تاکہ سیاسی مداخلت کے صوابدیدی امکانات کم ہوں۔ سرکاری خریداری، ترقیاتی اخراجات اور سرکاری ملازمتوں کی تقسیم کے معاملات میں معلومات تک رسائی اور غیر جانب دارانہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
چوتھا، شہریوں کو حکومتی کارکردگی جانچنے کے قابل بنانے کے لیے عوامی سماعتوں، مؤثر شکایتی نظام، فعال منتخب بلدیاتی اداروں اور معلومات تک رسائی کے مؤثر ذرائع کی ضرورت ہے۔ آخر میں، علاقائی تنظیمِ نو کی ہر تجویز انتظامی اور مالیاتی استعداد کے شفاف جائزے، عوامی مشاورت اور آئینی طور پر جائز طریقۂ کار کے ذریعے سامنے آنی چاہیے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی سے متعلق آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت کی منظوری ضروری ہے۔ ان اصلاحات میں سے کوئی بھی نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت کو ختم نہیں کرتی۔ چھوٹے صوبے نظرانداز کیے گئے علاقوں کی سیاسی اہمیت بڑھا سکتے ہیں، نمائندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور انتظامی فاصلے کم کر سکتے ہیں۔
تاہم، ان فوائد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی اکائیوں میں اختیارات کس طرح تقسیم کیے جاتے ہیں، عوامی اداروں کو سیاسی دباؤ اور ناجائز اثر و رسوخ سے کس حد تک محفوظ رکھا جاتا ہے، اور عام شہریوں کو احتساب کے زیادہ مؤثر ذرائع میسر آتے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا حکومت ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دے سکتی ہے جس کے ذریعے ہر صوبہ اپنے شہریوں کی بہتر خدمت کر سکے۔ بالآخر نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ طاقت کی سماجیات سے جڑا ہے: طاقت کس کے ہاتھ میں ہے، اس سے فائدہ کون اٹھاتا ہے اور اس کا احتساب کرنے کی ادارہ جاتی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ علاقائی اصلاحات ریاست کی ازسرِنو تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن وہ ان سیاسی اور انتظامی ڈھانچوں کی تبدیلی کا متبادل نہیں بن سکتیں جو غیر مساوی رسائی، غیر جواب دہ اختیار اور طرزِ حکمرانی کی مسلسل ناکامیوں کو جنم دیتے ہیں۔ اگر پاکستان ان تعلقات کو بدلے بغیر صوبائی حدود میں ردوبدل کرتا ہے تو ممکن ہے کہ طاقت کا جغرافیہ تو تبدیل ہو جائے، لیکن اس کی سماجی بنیادیں جوں کی توں برقرار رہیں۔ اصلاحات کی اصل کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ ملک میں کتنے صوبے قائم کیے جاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ شہریوں کو اپنی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والے اداروں پر کتنا زیادہ اختیار حاصل ہوتا ہے۔
نعمت اللہ خان سماجیات کے محقق، آزاد محقق اور سیاسی کالم نگار ہیں۔ ان کی تحریری دلچسپیوں میں سیاسی سماجیات، نسلی قوم پرستی، وفاقیت اور پاکستان میں ریاست اور معاشرے کے باہمی تعلقات شامل ہیں۔ ان کی تحقیق میں ریاستی جواز، نسلی شناخت، سیاسی متحرک سازی اور مرکز و حاشیے کے تعلقات جیسے موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔ وہ قومی سطح کے معتبر اخبارات، جن میں ڈان اور دی ایکسپریس ٹریبیون شامل ہیں، میں تحقیقی مضامین اور تجزیاتی تبصرے لکھ چکے ہیں۔ ان کی موجودہ تحقیق پاکستان کے عمرانی معاہدے (Social Contract) کی ازسرِنو تشکیل، اور بلوچ و پشتون نئی نسلی قوم پرستی (Neo-Ethnonationalism) کے ظہور اور ارتقا پر مرکوز ہے، بالخصوص سیاسی شناخت، ریاستی تنظیمِ نو اور نسلی بنیادوں پر سیاسی متحرک سازی کے تناظر میں۔








