پاکستان لٹریری فیسٹیول 2023

[post-views]
[post-views]

ادبی میلے صرف رابطوں کو ہی پروان نہیں چڑھاتے، بلکہ کلچر، ثقافت، زبان، ادب، روایات، اور آزادی اظہار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان میلوں کی فضا، کتاب، دانش، سُرسنگیت، فن، مکالمے اور قہقہوں سے معطر رہتی ہے۔ یہاں فن اور دانش کی با قاعدہ آبیاری اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

ایسا ہی ایک ادبی میلہ پاکستان لٹریری فیسٹیول کے نام سے 10 سے 12 فروری تک الحمراء آرٹس کو نسل لاہور میں منعقد ہونے جارہا ہے۔جس میں زندگی کے تمام شعبہ جات (سیاست، ادب، سماج، موسیقی، آرٹ، دانش و فکر، کھیل، ڈانس  وغیرہ ) سے تعلق رکھنے والی نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی بڑی شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔

کراچی اور لاہو ر ہمیشہ سے ہی ایسے میلوں کے امین رہے ہیں۔  فروری کے مہینےمیں ہی لا ہور میں نہ صرف پاکستان لٹریری فیسٹیول کا انعقاد ہونے جارہا ہے بلکہ اسی ماہ فیض فیسٹیول اور لاہور لٹریری فیسٹیول بھی منعقد کیے جائیں گے ۔ ایسے میلوں کا انعقاد دونوں بڑے شہروں میں تواتر کیساتھ کیا جارہا ہے۔ اگر چہ ان میلوں کے انعقاد کے حوالے سے حالات کبھی بھی موافق نہیں رہے ۔ سب کو یاد ہوگا کہ ایک سال سکیورٹی  وجوہات کی بناپر ان میلوں کا انعقاد اتنا مشکل ہو گیا کہ ان کو آواری ہوٹل میں منعقد کرنا پڑا، جہاں سکیورٹی معاملات کو بہتر انداز سے کنڑول کیا جا سکتا تھا۔ سکیورٹی خطرات کے باوجود کو ول کنڑولڈ ماحول کے اندر ایسے میلوں کا انعقاد نہ صرف ان میلو ں کے ساتھ جڑے لوگوں کے عزم بلکہ ریاست کے عزم کوبھی ظاہر کرتا ہے کہ اسکی سمت کیاہے؟

ادبی میلوں کے انعقاد سے جڑے سکیورٹی خطرات آج بھی موجود ہیں۔کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں سے دہشت گردانہ کاروائیوں میں شدت دیکھی گئی ہے۔ مگر جس طرح سے موجودہ عبوری حکومت کی متعلقہ وزارت نےہمت اور حوصلہ دکھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ دہشت گردوں کیلئے پیغام بھی ہے کہ آپ ہمارے  حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ پاکستانی آرٹ، اور فنون لطیفہ سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ ایسی صحت مند سرگرمیاں یہاں تواتر کے ساتھ ہونی چاہیں ۔ اس لیے کہ ایسی سرگرمیاں موجودہ سیاسی اور سماجی اور معاشی گھٹن کے ماحول میں ایک تازه ہوا کا جھو نکا بن کے آتی ہیں۔ دعا ہے کہ ایسی صحت مندانہ سرگرمیاں پاکستان میں جاری و ساری رہیں ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos