ایک تحقیق کے مطابق دوپہر ایک بجے سے پہلے دن بھر کے 80 فی صد حراروں (کیلوریز) کا کھا لیا جانا ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
نیو یارک یونیورسٹی گروس مین اسکول آف میڈیسن کے سائنس دانوں کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ خوراک کا زیادہ تر حصہ دن کے ابتدائی وقت میں کھانے سے خون میں شوگر کے اتار چڑھاؤ میں بہتری آنے کے ساتھ اور خون میں شوگر کی مقدار زیادہ مقدار ہونے کے دورانیے میں کمی آسکتی ہے۔
محققین کی ٹیم نے مطالعے کے لیے 10 ایسے افراد کا انتخاب کیا جو موٹاپے کا شکار تھے اور ان کے خون میں شوگر کی سطح بلند تھی۔
تحقیق میں سائنس دانوں نے جلدی کھانا کھانے کے اوقات (ایک طریقہ جس میں دوپہر ایک بجے سے پہلے دن کی 80 فی صد خوراک لے لی جاتی ہے یعنی ای ٹی آر یف: ارلی ٹائم رسٹرکٹد فِیڈنگ) کا موازنہ معمول کے مطابق کھانے کے اوقات (جن میں روزانہ کے نصف حرارے سہ پہر چار بجے کے بعد لیے جاتے ہیں) سے کیا۔
Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.
تحقیق کے شرکاء نے پہلے ہفتے میں ایک طریقے سے جبکہ دوسرے ہفتے میں طریقہ بدل کر دوسرے طریقے سے کھانا کھایا۔
تحقیق کے دوران شرکاء کو اتنی کیلوریز دی گئیں کہ ان کا وزن برقرار رہے اور اس مکمل عمل کے دوران ان کو بلڈ شوگر مانیٹر پہنائے گئے۔
تجزیے میں معلوم ہوا کہ جب لوگوں نے دوپہر ایک بجے سے پہلے زیادہ کیلوریز کی کھپت کی تو ان میں معمول کے مطابق کھانا کھانے والوں کی نسبت اس دورانیے، جس میں خون میں شوگر کی مقدار زیادہ ہوتی تھی، میں کمی آئی۔
آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔
تحقیق کے سینئر مصنف جوز کا کہنا تھا کہ محققین نے ای ٹی آر ایف طریقہ کار کی مدد سے شرکاء میں صرف ایک ہفتے کے اندر خون میں شوگر کی مقدار کے دورانیے کو کم کردیا۔ یعنی اگر دن کے ابتدائی حصے میں اپنی دن بھر کی خوراک کا زیادہ تر حصہ کھا لیا جائے تو خون میں شوگر کی مقدار کا دورانیہ کم ہوجاتا ہے جس سے تحولی نظام بہتر ہوتا ہے۔









