نوجوانوں کو نشے سے بچانے کے لیے شعور اجاگر کرنا قومی فریضہ ہے

[post-views]
[post-views]

مبشر ندیم

نشہ ایک خاموش مگر تباہ کن ناسور ہے جو ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو آہستہ آہستہ نگل رہا ہے۔ چاہے وہ منشیات ہوں، سگریٹ نوشی، شراب، یا دیگر مضر عادتیں—یہ سب ذہنی، جسمانی اور اخلاقی بربادی کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے عوامی سطح پر، خاص طور پر نوجوانوں میں، نشے سے بچاؤ کے لیے شعور بیدار کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور یہی طبقہ ملک کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ لیکن اگر یہی نسل نشے جیسے ناسور کا شکار ہو جائے تو ترقی کا خواب ایک دھوکہ بن جاتا ہے۔ ایک بار جب نشے کی لت لگ جائے، تو خواب ماند پڑ جاتے ہیں، تعلیم چھوٹ جاتی ہے، صحت تباہ ہو جاتی ہے، اور زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔

نشہ ابتدا میں ایک معمولی تجربہ لگتا ہے—دوستوں کے دباؤ پر، یا صرف تجسس کے تحت—لیکن پھر یہ عادت بن جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ انسان کی جسمانی اور ذہنی حالت زوال کا شکار ہو جاتی ہے، اور آخرکار وہ اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے پر بوجھ بن جاتا ہے۔

یہ صرف فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کا معاملہ ہے۔ نشے کی وجہ سے خاندان ٹوٹتے ہیں، جرائم بڑھتے ہیں، صحت کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے، اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ ریاست اور معاشرہ دونوں کو اس مسئلے پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینی چاہیے۔

شعور بیداری کی مہم اس جنگ کا پہلا ہتھیار ہے۔ جب نوجوانوں کو بتایا جائے کہ نشہ ان کے جسم، دماغ، مستقبل اور عزت نفس کو کس طرح تباہ کرتا ہے، تو وہ خود اسے ترک کرنے میں ہمت پاتے ہیں۔ یہ شعور ان میں فیصلہ سازی کی طاقت پیدا کرتا ہے، اور انہیں ایسے متبادل راستے دکھاتا ہے جو ترقی، عزت اور خوشی کی طرف لے جائیں۔

حکومت، والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، میڈیا، تعلیمی ادارے، اور سول سوسائٹی سب اس مہم میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں انسدادِ منشیات پروگرام، مشاورتی سیشن، اور آگاہی لیکچرز کا انعقاد ہونا چاہیے۔ مقامی سطح پر واک، سیمی نارز، اور رضاکارانہ مہمات شروع کی جائیں۔ نوجوانوں کو ایسے پلیٹ فارم دیے جائیں جہاں وہ اپنی بات اعتماد سے کہہ سکیں اور ان کی رہنمائی ہو سکے۔

میڈیا اس حوالے سے ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اصل زندگی کی کہانیاں، جنہوں نے نشے کو شکست دی، انہیں دکھانا نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتا ہے۔ اشتہارات، فلمیں، پوڈکاسٹ، اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جا سکتا ہے کہ “نشہ تمہارے خواب چوری کرتا ہے، ہمت، شعور اور روشن مستقبل کا انتخاب کرو۔”

ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک نے اس سلسلے میں نوجوانوں کے لیے خصوصی یوتھ ایمپاورمنٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو نشے کے خلاف ذہنی طور پر مضبوط بنانا اور انہیں عملی وسائل فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔

یہ پراجیکٹ نہ صرف شعور بیدار کرتا ہے بلکہ پالیسی سازوں کو بھی متحرک کرتا ہے کہ وہ نشہ آور اشیاء کی فراہمی کو روکنے، بحالی کے مراکز کو بہتر بنانے، اور ذہنی صحت کے اداروں کو فعال کرنے کے لیے قانون سازی کریں۔ ایک محفوظ اور ہنر مند نوجوان ہی ایک محفوظ اور خوشحال ملک کی ضمانت دیتا ہے۔

ساتھ ہی ہمیں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی ضرورت ہے۔ کھیل، فنون، کاروباری تربیت، مہارتیں سیکھنے کے پروگرام، اور سماجی خدمات جیسے مواقع نوجوانوں کو ایک مقصد اور معاشرتی پہچان دیتے ہیں—جو نشے کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو نشے جیسے زہر سے بچائیں گے۔ ہر شخص، ہر ادارہ، اور ہر طبقہ اس مہم کا حصہ بنے۔ کسی دوست، بھائی، بیٹے یا طالبعلم کی زندگی بچانے کے لیے ایک قدم، ایک پیغام، ایک ہاتھ بڑھانا ہی کافی ہوتا ہے۔

ریپبلک پالیسی کے یوتھ ایمپاورمنٹ پراجیکٹ کا حصہ بنیے، اور تبدیلی کا آغاز خود سے کیجیے۔ کیونکہ ایک باشعور اور محفوظ نوجوان ہی ایک روشن پاکستان کی امید ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos