Arshad Mahmood Awan
پاکستان کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، ہمارے بیشتر ریاستی ادارے اس رفتار کو سنبھالنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ ہر سال لاکھوں نئے شہری اس ملک میں شامل ہوتے ہیں، مگر ان کے لیے پہلے سے موجود نظام میں مناسب اسکول، اسپتال، روزگار، رہائش، صاف پانی اور بنیادی سہولتیں پیدا نہیں کی جاتیں۔ یوں ہر نئی نسل اپنے ساتھ نئی ضروریات تو لاتی ہے لیکن ریاستی صلاحیت اسی رفتار سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
یہ محض آبادی کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاست کی انتظامی صلاحیت کا امتحان ہے۔
آبادی میں تیز رفتار اضافہ براہ راست معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قومی وسائل جب زیادہ لوگوں میں تقسیم ہوتے ہیں تو فی کس دستیاب وسائل کم ہوتے جاتے ہیں۔ زمین نسل در نسل تقسیم ہو کر چھوٹے رقبوں میں بدلتی ہے۔ پانی کے ذخائر تیزی سے استعمال ہوتے ہیں مگر ان کی بحالی اس رفتار سے نہیں ہوتی۔ بڑے شہروں کے گرد آبادی پھیلتی رہتی ہے اور باقاعدہ رہائشی منصوبہ بندی کی عدم موجودگی میں کچی آبادیاں وجود میں آتی ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے لیکن بستروں، ڈاکٹروں، ادویات اور طبی عملے میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوتا۔
تعلیم کی صورت حال بھی مختلف نہیں۔ اسکولوں میں گنجائش کم پڑتی جا رہی ہے، کئی جگہ دوہری شفٹیں چل رہی ہیں اور اس کے باوجود لاکھوں بچے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاست آج موجودہ آبادی کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہی تو آنے والی دہائیوں میں کہیں بڑی آبادی کو کیسے سنبھالے گی؟
یہاں خاندانی منصوبہ بندی، بنیادی صحت کی سہولتوں اور عوامی آگاہی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چھوٹے خاندان کے فوائد، بچوں کے درمیان مناسب وقفہ اور ماں اور بچے کی صحت سے متعلق شعور معاشرتی رویوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں بہتر بنیادی صحت کی سہولتیں بھی اہم ہیں۔ جب خاندانوں کو یقین ہو کہ ان کے بچوں کو بہتر طبی نگہداشت میسر ہوگی اور بچوں کی بقا کے امکانات زیادہ ہوں گے تو زیادہ بچوں کو مستقبل کی معاشی ضمانت سمجھنے کا رجحان کم ہو سکتا ہے۔
اسی طرح مانع حمل ذرائع اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں تک آسان، سستی اور باعزت رسائی بھی ضروری ہے۔ بہت سے خاندان اپنی خواہش کے مطابق بچوں کی تعداد محدود کرنا چاہتے ہیں، مگر انہیں مناسب معلومات یا سہولت میسر نہیں ہوتی۔
لیکن اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
کیا پاکستان کا آبادی کا مسئلہ صرف عوام کے رویوں کا مسئلہ ہے؟ کیا اسے صرف صحت کے محکموں، آگاہی مہمات اور خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے؟ میرے خیال میں ایسا سوچنا اصل مسئلے سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ حکمرانی کا بحران ہے۔
ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، لیکن ہم مستقل بنیادوں پر کرتے نہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے۔ آبادی کے مسئلے کو کبھی قومی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ توانائی، دفاع، ٹیکس، قرضے اور سیاسی بحران تو مسلسل قومی مباحث کا حصہ رہتے ہیں، مگر آبادی کا سوال اکثر کسی نئی رپورٹ، سیمینار یا سرکاری اعلان تک محدود ہو جاتا ہے۔
نئی حکومت آتی ہے، مسئلے کی سنگینی بیان کرتی ہے، کوئی کمیٹی یا کونسل بنانے کا اعلان ہوتا ہے، چند اجلاس منعقد ہوتے ہیں، کچھ بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر معاملہ دوبارہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اگلی حکومت آتی ہے تو وہی مسئلہ نئے نام اور نئے منصوبے کے ساتھ دوبارہ سامنے آتا ہے۔ یوں کئی دہائیاں گزر جاتی ہیں لیکن آبادی کا بنیادی رجحان تبدیل نہیں ہوتا۔
حالیہ دنوں میں آبادی کے حوالے سے ایک نئی قومی کونسل بنانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ ایسی کونسل یقیناً مفید ثابت ہو سکتی ہے، لیکن صرف ادارہ بنا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان میں پہلے بھی کمیٹیاں، کمیشن، ٹاسک فورسز اور ادارے بنتے رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے ادارے کو واضح اختیارات، مناسب وسائل اور نتائج کی ذمہ داری بھی دی جائے گی؟
اگر نئی کونسل بھی محض اجلاسوں، سفارشات اور پریس ریلیز تک محدود رہی تو اس کا حشر بھی ماضی کے کئی منصوبوں جیسا ہوگا۔
آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت کو محض دعووں کے بجائے واضح قومی اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔ مثال کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں تک رسائی کتنی بڑھے گی، خواتین کی تعلیم میں کیا بہتری آئے گی، زچہ و بچہ کی صحت کے اشاریے کس حد تک بہتر ہوں گے، بچوں کی غذائی حالت میں کیا تبدیلی آئے گی اور آبادی میں اضافے کی شرح کو کس سطح تک لایا جائے گا۔
پھر ان اہداف کی باقاعدہ نگرانی بھی ضروری ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہر سال عوام کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کرنی چاہیے۔ اعداد و شمار کسی حکومتی دفتر کی فائلوں میں چھپے نہیں رہنے چاہئیں بلکہ عوامی سطح پر دستیاب ہونے چاہئیں۔ آزاد اداروں کو یہ اختیار دیا جانا چاہیے کہ وہ حکومتی دعووں کی تصدیق کریں اور یہ دیکھیں کہ زمین پر واقعی تبدیلی آ رہی ہے یا صرف کاغذوں میں ترقی ہو رہی ہے۔
کیونکہ پاکستان کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر کارکردگی کو سرگرمی سمجھ لیتے ہیں۔ اجلاس ہو گیا، مہم شروع ہو گئی، اشتہار نشر ہو گیا، کمیٹی بن گئی اور رپورٹ تیار ہو گئی تو ہمیں لگتا ہے کہ کام مکمل ہو گیا۔ حالانکہ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب آبادی میں اضافے کی شرح کم ہو، خواتین کی تعلیم بڑھے، بچوں کی صحت بہتر ہو، خاندان اپنی مرضی سے بچوں کی تعداد اور وقفہ طے کر سکیں اور ریاست ان فیصلوں کے لیے عملی سہولت فراہم کرے۔
آبادی کا بڑھتا ہوا حجم پاکستان کے لیے ایک اور بڑے سوال کو بھی جنم دے رہا ہے: روزگار کہاں سے آئے گا؟
اگر لاکھوں نوجوان ہر سال روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے رہیں اور معیشت اتنی ملازمتیں پیدا نہ کر سکے تو نوجوان آبادی ملک کے لیے معاشی قوت بننے کے بجائے معاشی دباؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آبادی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
اسی طرح صحت، تعلیم، پانی، رہائش، ٹرانسپورٹ، خوراک اور شہری منصوبہ بندی کے تمام مسائل آبادی کے سوال سے منسلک ہیں۔ اس لیے آبادی کو صرف وزارتِ صحت یا خاندانی منصوبہ بندی کا موضوع سمجھنا بنیادی غلطی ہوگی۔ یہ منصوبہ بندی، خزانہ، تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، روزگار اور معاشی پالیسی سمیت پوری ریاستی مشینری کا مسئلہ ہے۔
اگر پاکستان کی آبادی آنے والی دہائیوں میں چار سو ملین کے قریب پہنچتی ہے تو یہ صرف مردم شماری کا ایک عدد نہیں ہوگا۔ یہ چار سو ملین انسانوں کے لیے اسکول، اسپتال، پانی، بجلی، خوراک، رہائش اور روزگار کا سوال ہوگا۔
اور اگر ریاست نے آج سے تیاری شروع نہ کی تو کل اس کی قیمت کہیں زیادہ ہوگی۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آبادی خود مسئلہ نہیں۔ غیر منصوبہ بند آبادی اور کمزور حکمرانی مسئلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، ہنرمند، صحت مند اور بااختیار آبادی کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں، تعلیم اور روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت پیدا نہ کرے تو یہی آبادی ایک بڑے معاشی اور سماجی بوجھ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے اب وقت صرف آبادی گننے کا نہیں، آبادی کو سمجھنے اور اس کے مطابق ریاست کو منظم کرنے کا ہے۔
یہ مسئلہ آنے والی حکومتوں کے لیے چھوڑنے کا وقت گزر چکا ہے۔ بحران ہمارے سامنے موجود ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کی آبادی کتنی ہوگی؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ریاست اتنی بڑی آبادی کو عزت، سہولت، روزگار اور بہتر زندگی دے سکے گی؟
اگر اس سوال کا جواب آج تلاش نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہم سے ضرور پوچھیں گی کہ جب خطرہ واضح تھا تو ریاست خاموش کیوں رہی؟
The best-selling books of Republic Policy Think Tank, including the landmark book The Bureaucratic Coup, are available at Vanguard Books, Liberty Books, Readings, Kitab Sarai, Sang-e-Meel, Saeed Book Bank Islamabad, National Book Foundation, and others across Pakistan. Contact for home delivery: 0300 9552542.









