Premium Content

Add

“چیل،وکیل، دلیل اورنکیل”

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں۔

ایک صاحب فجر کی نماز کے بعد اپنی زوجہ کے ساتھ سیرکیلئے جاتے تھے۔ اردِگرد کے مناظر پر گفتگو کاسلسلہ بھی جاری رہتاتھا۔ ایک دن زوجہ محترمہ نے اُن کو آسمان کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا۔ وہ ویسے بھی بیگم کے اشاروں پر چلتے تھے۔ اشاروں کی زبان میں مہارت حاصل کرچکے تھے۔ چیل اور کوے میں لڑائی ہورہی تھی۔ خاتون بغور مشاہدہ کرتی رہیں۔ کچھ دیر بعد شوہر سے پوچھنے لگیں ”یہ کیا ماجرا ہے؟“۔ صاحب نہایت ہی معصومانہ لہجے میں کہنے لگے”جناب لڑائی ہورہی ہے۔ آپ کا شعبہ ہے۔ آپ ہی اس پر بہترروشنی ڈال سکتی ہیں۔ میں تو غریب آدمی ہوں میری کیا بساط کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی اپنی رائے رکھوں“۔ خاتون اُن کے جواب سے مطمئن نہ ہوئیں۔ کافی دیر لڑتی رہیں۔ چیل اوربیگم کی دلیل کے سامنے ہرکوئی بے بس ہوتا ہے۔ بیگم کی دلیل کے سامنے توکوئی وکیل بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ وہ صاحب چیل اور وکیل کوبھول گئے۔ بیگم کی دلیل اُن کو ایک ایسی نکیل لگی جس سے بزرگ خود بھی نہیں بچ سکے تھے اور اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ آنے والی نسلوں میں سے کوئی محفوظ نہ رہنے پائے۔

         ایک صاحب لودھراں سے بہاول پورشفٹ ہوگئے۔ نیا گھر بنایا۔ جب اُس میں شفٹ ہونے لگے تو ایک دوست نے خوشی کااظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا ”جب نئے گھر میں جائیں تو ”السی“ کی پنیاں بنائیں۔ بلکہ زوجہ کوکہیں وہ خود بنائیں۔ اس سے گھر میں بیماری نہیں آتی“۔ وہ صاحب کہنے لگے ”جی آپ بالکل بجا کہہ رہے ہیں بیگم کو ایسا کام کہنے سے گھر میں بیماری نہیں آتی، طوفان آتاہے۔بندہ کئی دن خود بھی گھر نہیں آتا“۔

         ایک صاحب کی دو بیویاں تھیں۔ ایک زوجہ محترمہ لیکچرر اوردوسری وکیل تھیں۔ وہ صاحب خود کیاتھے۔ وہ تو بھول چکے تھے، لوگ مگر اُن کو صوفی سمجھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ اُن کی داڑھی تھی جوپچھلے کئی سال سے مسلسل بڑھ رہی تھی۔ دوسری وجہ چال چلن تھا۔ چال میں شدید درجے کی عاجزی آچکی تھی۔ چلن مثالی تھا۔ گفتگو کمال تھی۔ ہروقت گھر کے باہر بنے تھڑے پر بیٹھے ایک ہی جملہ دہراتے رہتے تھے:۔

“کی جانا میں کون”

         ایک صاحب کھیلنے کودنے کے بہت شوقین تھے۔ اُن کی شادی ایک ڈاکٹر صاحبہ سے ہوگئی۔ ڈاکٹرصاحبہ دن میں سرکاری ہسپتال میں ملازمت کرتی تھیں۔ شام کو اپنا ذاتی کلینک چلاتی تھیں۔ پریکٹس بہت اچھی تھی۔ وہ صاحب بہت خوش تھے۔ اُن کا کھیلنے کودنے کاشوق پورا ہورہا تھا۔ بس اتنا فرق پڑا تھا کہ پہلے وہ اکیلے کھیلتے تھے۔ اب ہر وقت بچوں کو بھی ساتھ کھلاتے تھے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

         ایک صاحب کاتعلق زمیندار گھرانے سے تھا۔ تعلیم میں شروع سے ہی بہت اچھے تھے۔ پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگئے۔ شریک حیات مگر چٹی ان پڑھ تھیں۔ قریبی عزیزتھیں۔ دوست حیران ہوتے تھے۔ ایک دن ایک دوست نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے ”ہمارے خاندان میں دو رواج عرصہ درازسے چلے آرہے ہیں۔ دونوں آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں بندہ ایف۔اے میں انگریزی کی سپ لی سے نہیں بچ سکتا اور اگر انگریزی کی سپ لی سے بچ جائے تو خاندان میں شادی سے نہیں بچ سکتا۔ میری انگریزی شروع سے ہی اچھی تھی۔ اچھی انگریزی کے فائدے تو سب جانتے ہیں۔ نقصانات سے مگر کوئی کوئی آگاہ ہے“۔

         ایک صاحب کی عمر پچاس سال ہوچکی تھی۔ عرصہ دراز سے شادی کی کوشش کررہے تھے مگر تاحال کنوارے تھے۔ ایک دن ایک نوجوان دوردراز سے اُن کو ملنے آئے۔ اُن کے ہاتھ چومنے لگے۔  صاحب کو شدید حیرت ہوئی۔ وجہ پوچھی مگر نوجوان خاموش رہے۔ بس ہاتھ چومتے رہے اور درخواست کرتے رہے کہ اُن کیلئے دعا کی جائے۔ صاحب کو شدید الجھن ہونے لگی۔ پھر وجہ پوچھی۔ آخرکارآنے والے نوجوان گویا ہوئے ”میں آپ کے پاس اپنے والد صاحب کے حکم سے آیا ہوں۔ والد صاحب بتا رہے تھے کہ ایک نیک انسان ایسا بھی ہے جو عرصہ دراز سے خود کو مصیبت میں ڈالنا چاہتا ہے۔ بار بار کہتا ہے ”آ بیل مجھے مار“ مگر تقدیر اُس کی حفاظت کرتی ہے۔ لگتا ہے کہ ماں باپ کی دعاؤں کااثر ہے۔خاص آدمی ہے۔ جاؤ اور اُس سے اپنے لیئے دعا کر وا  لو“۔

         ایک صاحب تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھے۔ طلبہ کے ہردل عزیز استادتھے۔ لیکچربہت اچھادیتے تھے۔ اُن کی زوجہ محترمہ خاتونِ خانہ تھیں وہ مگر اُن کو ”استاد جی“ کہتے تھے۔ وجہ پوچھنے پر بتاتے تھے ”ہیرے کی قدر جوہری ہی جانتاہے“۔ تربیت کے سارے اسرارورموزانہی ’کی معرفت سیکھے۔ ابھی بھی لیکچردینے کاڈھنگ ان جیسا نہیں ہے بس گزاراہے۔تارے  کو خاک کیسے چھو سکتی ہے،  اصل ”استادجی“ تو یہی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1