Premium Content

Add

دو قسم کے لوگ

Print Friendly, PDF & Email

مصنف: ڈاکٹر محمد کلیم

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو نظام کو مان لیتے ہیں اور اس کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو نظام سے انحراف کرتے ہیں اور اس کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو آپ کئی نام سے جانتے ہیں، باغی، غدار کافر وغیرہ وغیرہ۔

اگر ہم غور کریں تو دنیا کے ہر کسی شخص میں کچھ باغیانہ خیالات ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر ان کو اپنے اندر رکھتے ہیں اور لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ اس لیے یہ لوگ ماننے والوں میں شمار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جو کچھ باغی لوگ ہوتے ہیں وہ بھی ہر شے سے بغاوت یا انکار نہیں کر رہے ہوتے۔ وہ نظام کی بہت سی باتیں مانتے ہیں لیکن کچھ باتوں پر ان کو انکار ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس کا کھل کر اظہار کرتے ہیں اور ان کو بدلنے کی کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں۔ اس لیے وہ نمایاں ہو جاتے ہیں اور لوگوں کی نظر میں آ جاتے ہیں۔

معاشرے میں ایک ہی وقت میں رسہ کشی چل رہی ہوتی ہے۔ جو لوگ نظام کو مانتے ہیں یا اس سے گہرے طریقہ سے وابستہ ہوتے ہیں وہ نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کام کرتے ہیں۔ نظام اپنے طور پر کئی ایسے ادارے قائم کرتا ہے جو تبدیلی کو روکتے ہیں اس ”اسٹیٹس کو“ قائم رکھتے ہیں۔ ایسے تمام لوگ بھی ان اداروں سے وابستہ ہوتے ہیں یا ان کی خوب حمایت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں آپ کو ملک کے تمام قائدین، مذہبی رہنما، اداروں میں کام کرنے والے لوگ اور وہ تمام لوگ جو اپنے عقائد پر سختی سے کاربند رہتے ہیں شامل ہیں۔ معاشرہ میں زیادہ تر انہی لوگوں کو ہی پسند کیا جاتا ہے جو نظام کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ چند ایک ادیب بھی بعض مرتبہ اس گروپ کا حصہ بن جاتے ہیں اور قصیدہ لکھتے نظر آتے ہیں۔

دوسری طرف چند سر پھرے جو کہ تعداد میں کم ہوتے ہیں وہ نظام یا ثقافت یا عقیدہ یا کسی قسم کے بھی جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اب کچھ لوگ نہ صرف آواز اٹھاتے ہیں بلکہ اس کے لیے عملی کام بھی کرتے ہیں۔ اکثر ادیب، دانشور جبر کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں پیش پیش ہوتے ہیں، وہ معاشرے میں مساوات، آزادی اور برابری کی بات کرتے نظر آتے ہیں اور ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں جو معاشرہ میں کمزور ہوتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے اکثر لوگ شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کو دیوانہ سمجھتے ہیں اور ان کی کہی ہوئی بات کو ”دیوانہ کی بھڑ“ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی ایک یوٹوپیا دنیا میں جیتے ہیں۔ جس کا حاصل نہ ممکن ہے کیونکہ معاشرہ بنیادی طور پر درجہ بندی پر قائم ہوتا ہے اور درجہ بندی میں کبھی بھی مساوات ممکن نہیں۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں تو انسان کو خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
[الطاف حسین حالی]

بعض لوگ اس کے لیے عملی کوشش کرتے ہیں جن کو آپ انسانی حقوق کے علمبردار اور کارکن کہتے ہیں۔ انسانی تاریخ پر اگر آپ نظر ڈالیں تو آپ کو معاشرتی جبر کے خلاف کئی لوگ کام کرتے نظر آئیں گے جس میں آپ ارسطو کو رکھ سکتے ہیں جس نے معاشرتی جبر پر سرنگوں کرنے کی بجائے زہر کا پیالا پینا پسند کیا اور مزاحمت کی ایک نئی مثال قائم کی۔ تمام انبیاء جبر کے خلاف کھڑے ہوئے نہ صرف نظریات دیے بلکہ آنے والے وقت کے لیے ایک نیا نظام بھی بنایا۔ آپ بلیک رائز پر مارٹھن لوتھر کنگ کو کیسے بھول سکتے ہیں اس طرح وومن موومنٹ نے عورتوں کو حقوق دینے کے لیے بہت کام کیا۔ یہ تمام وہ لوگ ہیں جنہوں نے وقت کے موجودہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی اور کئی کام کر ڈالے۔

اس میں کوئی شک نہیں جو بھی لوگ مزاحمت کو اپناتے ہیں ان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی ذاتی زندگی مشکل میں رہتی ہے وہ معاشرے کی دی ہوئی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں اس تمام کوشش میں اکثر اپنی جان سے بھی چلاے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے اصول اہم ہوتے ہیں اس لیے زندگی کو کھو دینا وہ قبول کر لیتے ہیں لیکن اپنا موقف نہیں چھوڑتے۔

یہ بات جاننا اہم ہے کہ جب تک دنیا رہے گی اس وقت تک دونوں قسم کے لوگ موجود رہیں گے کچھ نظام کے حق میں اور دوسرے اس کے خلاف۔ ہم اگر امریکہ کی بھی مثال لیں تو ہم جان پائیں گے کہ وہاں بھی کچھ لوگ لبرل ہیں اور کچھ کنزرویٹو۔ جو بھی معاشرہ وجود میں آئے گا دونوں قسم کے لوگ اس میں موجود ہوں گے ۔ اب فرق اتنا ہے کہ جو معاشرے تنگ نظر ہوتے ہیں وہ انکار کرنے والوں پر یا مزاحمت کرنے والوں پر جینا تنگ کر دیتے ہیں۔ کچھ معاشرے ایسے بھی ہیں جو دونوں کو جینے دیتے ہیں جس کی وجہ سے ترقی / تبدیلی / بہتری ایک خود کار عمل کے تحت ان کے نظام کا حصہ بنتی جاتی ہے۔

اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم نے دوسری سمت کے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے لیکن یہ ایک بہت بڑا سچ ہے آج انسانیت اپنے جس عروج پر پہنچی ہے اس میں زیادہ کوشش انکار کرنے والوں کی تھی جنہوں نے موجودہ نظام کو بہتر کرنے کے لیے مزاحمت کی اگر ایسا نہ ہوتا تو آج بھی انسان جنگلوں میں ”ہوں ہاں“ ”ہوں ہاں“ کرتا نظر آتا۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1