Premium Content

ایک خط جو پوسٹ ہونے سے رہ گیا   (حصہ اول)

Print Friendly, PDF & Email

مصنف:   ڈاکٹر محمدنصراللہ

تم نہیں ہو،پھر بھی ہو۔ جہاں بھی ہو، جس حال میں بھی ہو، تمھیں بھول نہیں پایا۔حقیقت کا سامنا کرنا بعض اوقات کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حقیقتوں کو برداشت کرنے والوں نے سچ کہا ہے یہ خوب صورت نہیں ہوتیں؛مگرخواب و خیال پرتو پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے نا۔

سنا تھا دل سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہوتی۔ قرات کا موقع ملا تو صفحے صفحے نے اپنے اندر جذب کر لیا۔نیم مردہ زندگی کو جیسے زندہ کر دیا۔ بکھری توجہ کو سمیٹ کر ایک نکتے پر مرکوزکر دیا۔یہ توجہ کا ارتکاز بھی عجب شے ہے۔ بیک وقت اضطراری بھی ہوتا ہے اور سکون کا باعث بھی۔اضطراری یوں کہ دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ وجود میں خفیف سی لرزش پیدا ہو جاتی ہے۔ قلم انگلیوں میں ہو تو کانپنے لگتا ہے۔ شاید اس خوف سے کہ یہ لمحے کہیں ڈھل نہ جائیں۔ جی چاہتا ہے اندر سے طلوع ہونے والا آفتاب یونہی روشن رہے؛مگر فطرت کا قانون ہے کہ روشنی عارضی ہوتی ہے۔

Read More: https://republicpolicy.com/adab-ma-zulmat-ka-ar-ki-type/

خود کو کتاب، قلم، کاغذ، تصویریا کائنات کے کسی ایک ذرے کے سپرد کرنے پر بھی کیا کچھ نہیں ملتا۔اس دوران ملنے والے خزانوں کی اہمیت اپنی جگہ، اس عمل کا انجام کس قدر راحت بخش ہوتا ہے یہ وہی جانتے ہیں جنھیں کسی سے جڑنا نصیب ہوتا ہے۔جب بھی تم سے جڑتا ہوں خود کو جڑا محسوس کرتا ہوں۔یہی لمحے ہوتے ہیں جب زمان و مکان میں ہوتے ہوئے بھی ان میں ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ میں وقت میں رہ کر بھی اسے یاد نہیں کرتاکہ اس کی لامتناہیوں کا سراغ پاتے پاتے ذہن ڈوبنے لگتا ہے۔ کتنی دیر سے ہے، پھربھی تھکا نہیں۔بوڑھا ہونا تو دور کی بات، اس کے ماتھے پر ذرا بھی جھریاں نہیں پڑیں۔ مکان کا آج تک کون سا علم ہو سکا۔ جہاں رہ رہے ہیں وہ ہے یا جہاں مستقل رہنا ہے وہ؟ وہاں بھی مستقل رہنا ہے یا فضاؤں میں بکھر جانا ہے۔ کہاں جانا، کدھر جانا ہے، کچھ خبر نہیں ہے۔

Read More: https://republicpolicy.com/adab-ma-zulmat-ka-r-ki-type/

تمھیں معلوم ہے تمھی سے کیوں بات کر رہا ہوں؟ کیونکہ تم سے بہت سی باتیں کر چکا ہوں۔ تمھیں علم ہے جن سے بہت سی باتیں ہوتی ہیں، یوں ہی نہیں ہوتیں۔ بات خود ہونا چاہتی ہے۔ بات اپنے آپ ہونا چاہے تو اس میں کوئی بات ہوتی ہے۔وہ یقین کے ساتھ اپنا سفر طے کرتی ہے۔ کوئی بھی اس کا راستہ روک نہیں پاتا۔جیسے میرے اور تمھارے درمیان یوں تو کتنا ہی فاصلہ ہے؛پھر بھی نہیں ہے۔

میرا ٹھکانہ تمھارا ہی دل ٹھہراتو اس لیے کہ تم نے زینہ زینہ اس میں اترنے دیا۔دل کے سنگھاسن پہ بٹھا لیا۔ مہمان پروری کرنے لگی۔ یہاں رک نہیں گئی،اس سے آگے بڑھ کر مسافر سے جڑ جانے والی یادوں کو گود میں لے لیا۔ ان کی پرورش کرنے لگی۔ پال پوس کر، جوان کرکے ان کاکھلا ہوا چہرہ اپنے پناہ گیرکودکھایا تو حیران رہ گیاوہ جسے بات اور یاد میں فرق پہلی بار دکھائی دیا۔ بے جانوں میں جا ن ڈالنے کا ہنر تم نے کیسے اور کس سے سیکھا؟ میں نہیں جانتا۔ اتنا جانتا ہوں کہ حال میں رہ کر ماضی کو سینچنا میں نے تمھی سے سیکھا۔تم نے میرے ماضی کی آبیاری کی۔ اس وجود کو اعتبار بخشا۔میری صورت، خیال۔۔۔مجھے اپنے نصیب سے گلہ ہے۔۔۔یہ سوچ کر نہیں بھی ہے کہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی، مل تو چکا ہوں اس سے جو یہاں رہنے کا جواز بنا۔ جس کے پاس بیٹھ کر میں نے جانا کہ سکون کیا ہوتا ہے، جس سے دور ہوکر جانا کہ اضطراب کیا ہوتا ہے۔

میں ایک مدت سے کہیں نہیں بیٹھ سکا۔ دل کہیں لگاہی نہیں ہے۔ صبحیں دیر تک سوتے، پہریں پنچھیوں کی جوڑیوں کو تکتے، شامیں ڈاروں کوگھونسلوں میں لوٹتے اور راتیں تاروں میں سے وہ تارہ ڈھونڈتے ہوئے گزر رہی ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے دور ہو گیا۔ میں آج تک پرندوں اور اپنے آپ میں فرق نہیں ڈھونڈسکا۔ بس وہ اکیلے نہیں ہیں؛مگر مقدر ان کا بھی۔۔۔ آندھیاں ان کا بھی راستہ روک لیتی ہیں۔ طوفانوں کا مقابلہ وہ بھی نہیں کر پاتے۔ جھکڑوں میں ہچکولے کھاتے ہیں۔ ناحق مارے جاتے ہیں۔ جنگل کے جنگل جل جاتے،کٹ جاتے ہیں۔ کبھی سورج کی تپش سے، کبھی آدم زاد کے ہاتھوں سے۔آسمانوں پہ ستارے روشن ہوکر بجھ جاتے ہیں۔بجھ کر جل اٹھتے ہیں کہ اندھیرے اور روشنی کا سفر یونہی جاری و ساری رہے۔آخر کیوں رہے؟ 

 تمھارے بعد زیادہ وقت بوڑھے پیڑوں کی چھاؤں میں گزرا۔تم سے باتیں کرتے ہوئے یا پھر اس سے جسے تم اور میں خدا کہتے ہیں۔ تم سے اور اس سے ساری باتیں میں نے ہی کیں۔ اسے یاد کرتا ہوں تو دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔ مگر وہ اس ذہن کی حدود میں آ نہیں سکا۔ شاید یہاں آتاہی نہیں ہے۔ دل وجان سے بھی کئی بار پکارا کہ بس ایک بار آکے مل جائے مگر نہیں آتا ہے۔ شاید اسی کے پاس جانا پڑتا ہے۔

Read More: https://republicpolicy.com/adab-ma-zulmat-ka-ar-key-type-2/

حواس بیدار ہوں،وجدان کے دروازوں کو بھی تالے نہ لگے ہوں۔ سب دریچے کھلے ہوں۔ پھر بھی کہیں کوئی دستک نہ ہو توکتنی بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ وہ تو گہرے سمندروں سے گہرا ہے ہی۔ تم نے تو اپنی حدود کاخیال کیا ہوتا۔

مجھے کسی دانش مند نے بتایاتھا کہ خود کو صحیح جوڑنے کے لیے ایک بار خود کو توڑنا پڑتاہے۔میں نے اس کی بات پر شک کیا؛ مگروقت نے اس کی بات کی توثیق کر دی۔ اور کوئی نہیں، تم تو جانتی ہو نا دوبارہ جڑاہوا انسان جڑتا نہیں، بکھرتاچلا جاتا ہے۔ایک محبت ہے جو اس کی عمر میں کچھ اضافہ کر سکتی ہے؛مگر کبھی کبھار وہ بھی کہاں کرتی ہے۔اگر کرتی تو میں اتنی جلدی بوڑھا ہو جاتا؟انا اورجفا کی مشکل گھاٹیوں کو عبور کرکے محبت اور وفا کی چوٹیوں پر پہنچنے والے رشتوں سے بڑھ کے مضبوط رشتے اور کون سے ہو سکتے تھے؛مگر حقیقت کا چہرہ دیکھ لو کہ میرا تم سے کیا رشتہ رہ گیا ہے؟وہی ناجو میں نے خود سے بن لیا۔ جس نے مجھے زندگی بخشی۔ دوسری زندگی۔ یہ اور طرح کی زندگی ہے۔ اس میں انسان ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی۔جیسے تم۔

میں نے لکھنا کیوں شروع کیا تھا؟ ایک بار تم نے مجھ سے پوچھا تھا۔ میں اکیلارہ گیا تھا۔ بنجر تنہائیوں میں ایسے تپتے دن تھے کہ میرا گلا خشک ہو کے رہ گیاتھا۔آس پا س کہیں کوئی دریا نہیں تھا۔شدید پیاس اور دم بستگی سے دم نکل رہا تھا کہ زبان کا چشمہ اندرسے پھوٹ بہا۔وہی چشمہ جسے میں نے بھلے زمانوں میں قطرہ قطرہ کرکے اپنے اندر ذخیرہ کر لیا تھا۔ انھی لفظوں کے راستے میں نے سانس لینا سیکھا۔ تخیل میری پناہ گاہ بنا۔پہلی بھی اور آخری بھی۔

میں نے شادی نہیں کی؛اس لیے کہ تمھیں بھول نہیں پایا۔ کسی کو نہ بھول کر کسی کو یاد رکھنے کی کوشش کرنا، یاد رکھے جانے والے کے ساتھ زیادتی تھی۔ میں یہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ صرف تمھیں یاد رکھنا چاہتا تھا کہ تم بنا یاد کرنے کے یاد ہو گئی تھی۔ خون کی بوند بوند میں سرایت کرگئی تھی۔ تمھارا نکالا جانا ممکن نہیں تھا۔ کئی مشورے تھے جو تم سے کیے جاتے تھے۔ کئی باتیں تھیں جوتمھی سے کہی جاتی تھیں۔جب جی کرتا  کتاب کھول کے بیٹھ جاتا تھا۔جو کچھ اس پہ زندگی نے لکھا ہوتا، پڑھ کے سناتا تھا۔ تم نے اسے جس تڑپ، شوق اور محبت سے سنا، سمجھا،  سراہا،خوشی میں خوشی، غم میں غم کا اظہار کیا۔ تمھارے سامنے نہ کھولتا تواور کس کے؟  

اس پہ کیا کچھ نہیں لکھا جا چکا؛مگر یہ ایک عرصے سے بند پڑی تھی۔آج کھولے بنا رہا نہیں گیا۔ نہ جانے تم نے اپنی کتاب کیسے۔۔۔ میں نے تو کچھ عرصہ ہی رکھی تھی کہ۔۔۔ چند لفظ بچے ہیں۔آج کل میں نہ کھولتا تو شاید وہ بھی۔۔۔کئی باتیں تھیں تمھارے بارے، جو تم سے چھپائیں۔ کہتا تو تمھیں خوشی ہوتی۔ تب جھجھک محسوس کرتا تھا، اب پچھتاوا۔شاید یہ خط اس لیے بھی لکھ رہا ہوں کہ وہ باتیں کہہ سکوں جن کو ہمیشہ دل میں رکھا۔ تم سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ بہت کچھ دل میں رکھنے سے اس کا وزن کتنا بڑھ جاتا ہے۔  جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos