Premium Content

  ایک پلیٹ بریانی، ایک نان اور آئی ایم ایف 

Print Friendly, PDF & Email

nawazkhalid123@gmail.com کالم نگار-نواز خالدعاربی

-کالم نگارایک سنیئر سول سرونٹ ہیں

پروفیسر صاحب کے سامنے میز پررکھے اخبار کے اوراق پنکھے کی ہوا سے اُلٹ پُلٹ ہو رہے تھے۔وہ اپنی دونوں کُہنیاں میز پردھرے ہاتھوں کی مُٹھیاں بنا کرکنپٹیوں پررکھے، نظریں جُھکائے،کسی گہری سوچ میں گُم بیٹھے تھے۔کچھ دیر تو میں اُن کی توجہ پانے کامنتظررہا،لیکن اُنہیں مکمل طور پر لا تعلق دیکھ کر پوچھناپڑا۔ ”پروفیسر صاحب، آج خیریت تو ہے، اتنی گہری سوچ میں گُم ہیں“۔وہ میری بات پر چونکے،بولے،”بس یار۔ خیر ہے“میں نے کہا،”کوئی دفتری یا گھریلو الجھن تو نہیں“۔کہنے لگے، ”دفتری یا گھریلو تو نہیں، مگرالجھن بہت بڑی ہے۔روز کی طرح آج کا اخباربھی ایک طرف روز افزوں مہنگائی کے ذکرسے بھرا ہے تو دوسری طرف مہنگائی اور معاشی بدحالی سے متعلق حزبِ مخالف کی جماعتوں کے مفاد پرستانہ روّیوں کی نشاندہی کرتاہے۔سمجھ نہیں آرہی، کیا کریں؟کیا کہیں؟کس سے کہیں؟“پچھلی حکومت کے دور میں موجودہ حزبِ اقتدار حزبِ مخالف تھی۔اس وقت کے حالات کے مطابق لوگوں کے مسائل، قومی خزانے میں بد عنوانی،اقرباء پروری اور رشوت ستانی کو نقطہ ئ  اختلاف بنا کر جلسے جلوس منعقد کیے گئے اوردھرنے برپاکئے گئے۔اسی طرح پچھلی تمام حزبِ اقتدار کی جماعتیں جب جب حزبِ اختلاف رہیں،پاکستان کو سونے کی چڑیابنانے کے خواب دکھاتی رہیں۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کو پاکستان دشمن قرار دیتی رہیں،لیکن جونہی حزبِ مخالف حزبِ اقتدار میں ڈھلتی رہیں،نہ مہنگائی روک سکیں،نہ کشکول توڑ سکیں اور نہ ہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی دسترس سے باہر نکل سکیں بلکہ اپنی مجبوری، ناکامی اور نالائقی کے اسباب گزشتہ حکومتوں کے کھاتوں میں ڈالتی رہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ پچھلی دھائیوں میں یہ لوگ یہی کچھ کرتے اور کہتے آئے ہیں۔آج کا اخبار بتا رہا ہے کہ لوگ پھر ایک پلیٹ بریانی اور ایک نان کے لئے حزبِ اختلاف کے جلسے جلوسوں میں جانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں میں ڈگری یافتہ اور بے ڈگری کے، سبھی لوگ شامل ہیں۔

مجھے پروفیسر صاحب کی بات سے سو فیصد اتفّاق ہے۔ہم خواہ ڈگری یافتہ ہوں یا بے ڈگری کے ہوں، ہم نعرہ بازقوم ہیں۔ ہم نے آج تک کسی بھی حزبِ مخالف سے اس کا ساتھ دینے کے لیے،اس کے جلسے جلوسوں کا حِصّہ بننے کے لئے،بریانی یا نان کھانے سے پہلے کبھی نہیں پوچھا کہ آسمان کو چھوتی مہنگائی کو کم کرنے کا آپ کے پاس نسخہ ئ  کیمیاکیا ہے؟ملک کی رَگوں میں بدعنوانی کے فنگس کو کون سے نشترسے صاف کر پائیں گے؟آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے حاصل کیا گیا کشکول اگر توڑ نہ سکے تو کتنے عرصہ کے لئے زیرِ زمین دبا سکیں گے؟ہم ان سے ایسا کیوں پوچھیں؟۔ہم نے بریانی اور نان کھائے ہوتے ہیں۔ہم نے اُن کی خاطر اُن کے مخالفین کوان سے بڑھ چڑھ کر گالیاں دی ہوتی ہیں۔ آج ایک بار پھرجب وہ برسرِ میدان اپنے اپنے مخالفین کو گالیاں دینے نکلے ہیں توہم پر فرض ٹھہرتاہے کہ ہر طرح کی گالی کو ضرب در ضرب دے کر ”زینت ِ قلم“ اور”حُسن ِ لب و زبان“ بنائیں۔جب کبھی ہم نے ”جاہلانہ“ سوالات اُٹھانے شروع کر دیئے، تو شاید بڑے بڑے جلسوں،مظاہروں اور دھرنوں کی نوبت ہی نہ آئے۔پھر حزبِ مخالف حزبِ اقتدار کے خلاف احتجاج نہ کرنے کی توجیحات ڈھونڈتی پھرے گی۔

 

مجھ سے زیادہ آپ باخبر ہیں کہ پاکستان  1947ء میں برصغیر کے بطن میں سے تخلیق ہوا۔اس وقت کے وردی اور بے وردی محکموں میں مقتدر حیثیتوں پر براجمان افراد نے اپنے مشیروں سے مشاورت، نجومیوں سے فال اور پیروں سے دعاؤں اورپیشین گوئیوں کے تناظر میں اپنی”پیشہ ورانہ“ نشوونما،”کسب حلال“ اوراوجِ کمال کے مواقع کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو”شرفِ خودسپردگی“ بخشا۔اُن کی”حُبّ وطن“ اُن سے جو کچھ کراتی چلی گئی، اسی کا تسلسل پاکستان کے حالات کو لمحہ ئ موجود تک لے آیا ہے۔دوسری طرف بھارت ہے جہاں شخصی نشوونما اور تعبیر ِحصولِ منزل کے مواقع مقابلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کم تھے۔لہٰذا وہاں معاملات ایسے ہاتھوں میں رہے جو خود تو”اوجِ ثُریا“پر نہ پہنچ سکے،تاہم اپنے وطن کو معاشی اور دیگر میدانوں میں اس بلندی تک لے آئے،جہاں آج وہ بین الاقوامی طاقتوں کے لئے”یارِناگریز“کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ہم نے ایک ساتھ سفر کا آغاز تو کیا،لیکن اُس نے ”منزل کو جا لیا“، اور”ہم نقش ِ پائے یار دیکھتے رہے“۔ہم اتنا کچھ کھو دینے کے باوجود نعرے لگاتے، جلسے جلوس کرتے،بریانی اور نان کھاتے،کہیں بنگلہ دیش کے ٹکے سے کم پر اور کہیں افغانستان کے افغانی سے گر کر ”بُو بُو“ کر رہے ہیں۔

اپنی آج کی معاشی حالت کو ماضی سے جوڑتے ہیں،تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں ہم نے متعلقہ حالات کے مطابق مہنگائی پر احتجاج کیا۔ نیشنل پبلک فورم کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سرفراز وڑائچ نے بتایاکہ ہم نے آزادی کے تقریباً تین سال بعد 1950ء میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی رُکنیت حاصل کی۔پہلا قرض،پچیس ہزارامریکی ڈالر1958ء میں اور دوسرا قرض سینتیس ہزار امریکی ڈالر1965ء میں حاصل کیا،جس کا حجم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتاچلا گیا۔1958ء سے لے کر1997ء تک ہم کُل چھ ارب پچاس کروڑ امریکی ڈالر قرضہ حاصل کر چکے تھے۔پہلا بڑا قرضہ 2008ء میں سات ارب پچاس کروڑامریکی ڈالر اس وقت کی حکومت نے حاصل کیا۔اس کے بعدسے یہ قرض،ہر حکومت کے دور میں ہمیشہ اربوں میں لیا جاتا رہاہے۔آخری قرض ہم نے 2021ء میں پندرہ ارب بتیس کروڑامریکی ڈالرحاصل کیاہے۔آج ہمارے ذِمہ کُل واجب الادا قرض چالیس ہزار ارب روپے ہے، جس میں سے چھبیس ہزار دوسو ارب روپے اندرونی اور تیرہ ہزار چھ سو ارب روپے بیرونی قرضے ہیں۔ اگر ہم قرض کا تخمینہ اپنی مجموعی فی کس آمدنی کے حساب سے لگائیں تو آج اس کا 83.5فیصدحِصّہ قرض کی مَد میں جا رہا ہے۔ہمارے پڑوسی بھارت کا دنیا کی معیشت میں 3.28فیصد حصّہ ہے جبکہ ہمارا حِصّہ 0.38فیصدہے۔

آج کے لمحہ میں کوئی تو ہو جو دھرنے میں کھڑا ہو کے پوچھے کہ اس قرض زدہ معاشی منظر نامہ کو بدلنے کے لئے شُعلہ بیاں مقرروں کے پاس عملی نصاب کیا ہے؟اگر ہم نے ایساپوچھنے کی جسارت کر لی تو یقین جانیے،ہماری سوچ ایک پلیٹ بریانی اور ایک عدد قیمے کے نان سے آگے بھی کام کرنا شروع کر دے گی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos