سابقہ فاٹا: جہاں آئینی حقوق عوام تک پہنچنے کے منتظر ہیں

[post-views]
[post-views]

محمد توقیر

کیا آپ نے کبھی ایسی جگہ کے بارے میں سنا ہے جہاں قوانین تو موجود ہوں مگر لوگوں کو اپنے حقوق حاصل نہ ہوں؟ جہاں حفاظتی ڈھانچہ پھیلتا جائے لیکن امن دور ہوتا چلا جائے؟ جہاں قدرتی وسائل سے مالا مال سرزمین پر غربت کا راج ہو؟ جہاں ضابطے تو تحریر ہوں مگر فیصلے کا اختیار بالآخر طاقت کے ہاتھ میں ہو؟ پاکستان کے سابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے لاکھوں باشندوں کے لیے یہ محض سوالات نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقتیں ہیں۔

اس صورتِ حال کی وجوہات سمجھنے کے لیے تاریخ کی طرف دیکھنا ضروری ہے۔ برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے 1901ء میں قبائلی علاقوں میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) نافذ کیا۔ یہ قانون بنیادی قانونی تحفظات سے محرومی کے باعث بدنام ہوا اور اس کی نوعیت کو عموماً ان الفاظ میں بیان کیا جاتا تھا: ’’نہ اپیل، نہ وکیل، نہ دلیل‘‘۔ یعنی اپیل کا حق نہیں، قانونی نمائندگی کا حق نہیں اور اپنا مؤقف دلیل کے ساتھ پیش کرنے کا حق نہیں۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے باوجود یہ قانون کئی دہائیوں تک قبائلی علاقوں میں نافذ رہا۔ حکمران بدل گئے، لیکن نظام بڑی حد تک وہی رہا۔

تبدیلی کا ایک تاریخی موقع 2018ء میں آئین کی پچیسویں ترمیم کے ذریعے آیا، جب فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا اور سابق قبائلی علاقوں تک پاکستان کا آئینی اور قانونی نظام توسیع دے دیا گیا۔ توقع سادہ مگر غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی: حکمرانی کا ڈھانچہ بدلے گا تو لوگوں کی زندگی بھی بدلے گی۔

لیکن انضمام کے کئی برس بعد بھی ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا آئینی انضمام کے نتیجے میں لوگوں کو حقیقی حقوق اور بہتر زندگی میسر آ سکی ہے؟

پاکستان کا آئین تعلیم کو بنیادی حق تسلیم کرتا ہے۔ آرٹیکل 25-اے ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ اس کے باوجود سابق فاٹا میں شرحِ خواندگی کی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سابق فاٹا میں شرحِ خواندگی تقریباً 33.3 فیصد ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح تاریخی طور پر انتہائی کم رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار آئینی وعدوں اور ریاست کی انہیں عملی شکل دینے کی صلاحیت کے درمیان گہری خلیج کو ظاہر کرتے ہیں۔ آئین میں درج حق اسی وقت بامعنی بنتا ہے جب اسکول، اساتذہ، بنیادی سہولتیں اور تعلیمی مواقع عام شہریوں تک پہنچیں۔

صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں بھی یہی تضاد دکھائی دیتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 38 ریاست کو شہریوں کی معاشی اور سماجی فلاح و بہبود کے فروغ اور خوراک، لباس، رہائش اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی ہدایت دیتا ہے۔ اس کے باوجود سابق قبائلی علاقے آج بھی محرومی کی بلند سطح سے دوچار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے کثیرالجہتی غربت سے متعلق تخمینوں کے مطابق سابق فاٹا کی تقریباً 73.7 فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے۔

زچگی کے دوران صحت کی سہولتوں کی صورتِ حال اس محرومی کی ایک اور واضح مثال ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق 2014ء میں ضم شدہ اضلاع میں ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں کے مقابلے میں زچگی کے دوران اموات کی شرح 261 تھی۔ اس کے مقابلے میں عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں یہ شرح 2023ء میں کم ہو کر 155 اموات فی ایک لاکھ زندہ پیدائشیں رہ گئی۔ یہ اعداد و شمار مختلف برسوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے انہیں براہِ راست تقابل کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ تاہم یہ سابق قبائلی علاقوں میں خواتین کو درپیش صحت کے سنگین مسائل کی تاریخی شدت ضرور واضح کرتے ہیں۔

صحت کی سہولتوں کی حالت بھی کم تشویش ناک نہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی صحت سے متعلق مراکز کے ایک حالیہ جائزے میں سامنے آیا کہ جانچے گئے مراکز میں سے 66 فیصد ناقص خدمات فراہم کر رہے تھے، جبکہ صرف ایک فیصد کو اچھی خدمات فراہم کرنے والے مراکز قرار دیا گیا۔ غربت اور جغرافیائی دوری سے پہلے ہی مشکلات کا شکار آبادی کے لیے صحت کی ناکافی سہولتیں قابلِ علاج طبی پیچیدگیوں کو بھی جان لیوا بحران میں بدل سکتی ہیں۔

غذائی عدم تحفظ اس انسانی بحران کو مزید سنگین بناتا ہے۔ مربوط درجہ بندی برائے غذائی تحفظ (آئی پی سی) کے مطابق جائزے کی مدت کے دوران نئے ضم شدہ 13 اضلاع کی تقریباً 11 لاکھ 80 ہزار آبادی، یعنی مجموعی آبادی کا تقریباً 23 فیصد، غذائی عدم تحفظ کی بحرانی یا ہنگامی سطح کا سامنا کر رہی تھی۔ کئی دہائیوں کے تنازعات، نقل مکانی اور معاشی تباہی سے گزرنے والی آبادی کے لیے خوراک کی عدم دستیابی محض ایک معاشی اشاریہ نہیں بلکہ انسانی وقار اور بقا کا براہِ راست مسئلہ ہے۔

اپنے گھروں کو واپس آنے والے اندرونِ ملک بے گھر افراد کی رہائش کا مسئلہ بھی سنگین ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے انسانی آبادکاری کے وادیٔ تیراہ سے متعلق جائزے کے مطابق واپس آنے والے افراد میں سے 49 فیصد تباہ شدہ گھروں میں رہ رہے تھے۔ اس شرح کو سابق فاٹا کے تمام واپس آنے والے خاندانوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ تنازعات اور نقل مکانی کے بعد اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے والی آبادی کی مشکلات کی ایک اہم تصویر ضرور پیش کرتی ہے۔ جب بہت سے خاندان اپنے گھروں کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں تو ان سے محفوظ مستقبل کی تعمیر کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

خواتین اور بچے، جنہیں آئین کے تحت خصوصی تحفظ حاصل ہونا چاہیے، بدستور سنگین سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 25 ریاست کو خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کی اجازت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 11 غلامی، جبری مشقت اور بچوں سے خطرناک مشقت لینے کی ممانعت کرتا ہے۔ اس کے باوجود ضم شدہ اضلاع میں خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت کی شرح انتہائی کم ہے اور حالیہ اطلاعات کے مطابق تقریباً تین فیصد بتائی جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف خواتین کی معاشی خودمختاری محدود کرتی ہے بلکہ علاقے کو انسانی صلاحیت کے ایک اہم ذریعے سے بھی محروم رکھتی ہے۔

بچوں کی صورتِ حال بھی اتنی ہی تشویش ناک ہے۔ خیبر پختونخوا کے 2022ء کے سروے برائے اطفال مزدوری کے مطابق صوبے میں پانچ سے 17 برس کی عمر کے تقریباً 9 لاکھ 22 ہزار بچے کام کر رہے تھے، جو اس عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد کا 11.1 فیصد بنتے ہیں۔ اس شمار میں نئے ضم شدہ اضلاع بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار یاد دلاتے ہیں کہ غربت اور تعلیم تک محدود رسائی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ جب خاندان معاشی تحفظ سے محروم ہوں تو بچوں کو تعلیم اور نشوونما کی قیمت پر محنت مزدوری پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

آزادیٔ اظہار اور حقائق سامنے لانے والوں کا تحفظ بھی آئینی نظام کے بنیادی تقاضے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 19 آئینی حدود و قیود کے تابع اظہارِ رائے اور تقریر کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے باوجود خطے کے صحافیوں اور شہری سماج سے وابستہ افراد کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے مطابق تنازعات کے آغاز سے اب تک خیبر پختونخوا، بشمول سابق فاٹا، میں 50 سے زیادہ صحافی قتل ہو چکے ہیں۔ اس تشدد نے نہ صرف قیمتی جانیں لیں بلکہ آزادانہ صحافت اور عوامی احتساب کو بھی کمزور کیا ہے۔

یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ ضم شدہ اضلاع کا مسئلہ محض ترقیاتی منصوبوں کی کمی نہیں بلکہ بنیادی طور پر حکمرانی اور حقوق کا بحران ہے۔

اس صورتِ حال کے اثرات لازماً امن و امان پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ بے روزگار، غیر ہنر مند اور معاشی مواقع سے محروم نوجوان تشدد پسند اور انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں بھرتی ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ترقی، روزگار اور سلامتی کو الگ الگ پالیسی معاملات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ریاست نے سلامتی اور حکمرانی بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس راہ میں سب سے اہم رکاوٹوں میں مالی وسائل کی کمی بھی شامل ہے۔ انضمام کے بعد طے شدہ انتظامات کے تحت قومی مالیاتی کمیشن کے قابلِ تقسیم محاصل میں سے تین فیصد حصہ نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے مختص کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم فنڈز کے اجرا اور استعمال میں تاخیر اور اختلافات نے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ قابلِ اعتماد اور بروقت مالی وسائل کے بغیر بہترین اصلاحاتی منصوبے بھی سرکاری دستاویزات تک محدود رہ جاتے ہیں۔

انصاف کا شعبہ بھی اسی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں عوام کو تیز رفتار اور نسبتاً کم خرچ انصاف فراہم کرنے کے لیے 25 تحصیل عدالتی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ لیکن منصوبے شروع ہونے کے کئی برس بعد بھی ان کی تکمیل میں تاخیر عمل درآمد کی صلاحیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ جن آبادیوں کو تاریخی طور پر پاکستان کے مرکزی عدالتی نظام سے دور رکھا گیا، ان کے لیے فعال عدالتوں تک رسائی ترقیاتی آسائش نہیں بلکہ آئینی ضرورت ہے۔

تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے بھی تقریباً 50 لاکھ کی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ اکبر زئی میں قائم فاٹا یونیورسٹی سابق قبائلی علاقوں کے لیے مخصوص پہلی سرکاری جامعہ تھی۔ تاہم اب بھی خطے میں اعلیٰ تعلیم کی گنجائش اس کی آبادی اور ضروریات کے تناسب سے ناکافی ہے۔ اسی طرح معیاری فنی تربیت کی کمی نوجوانوں کو ابھرتے ہوئے معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے سے محروم رکھتی ہے۔

صحت کے شعبے میں بھی ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں پشاور کے بڑے تدریسی طبی اداروں کے ہم پلہ اعلیٰ درجے کی طبی سہولتیں موجود نہیں۔ نتیجتاً خصوصی علاج کے ضرورت مند مریضوں کو اکثر اپنے اضلاع سے باہر جانا پڑتا ہے، جس سے پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں پر مالی اور سفری بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

معاشی ترقی کے منصوبے بھی اس پیمانے پر تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کی توقع کی گئی تھی۔ مہمند ماربل سٹی، وزیرستان میں معدنیات کی تلاش، شمالی وزیرستان صنعتی زون اور وانا زرعی پارک جیسے منصوبوں سے مقامی صنعت کے فروغ، روزگار کی فراہمی اور آمدنی میں اضافے کی امید تھی۔ ان منصوبوں پر محدود پیش رفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ محض منصوبوں کا اعلان کافی نہیں۔ قدرتی وسائل کو پائیدار مقامی خوش حالی میں بدلنے کے لیے مؤثر عمل درآمد، شفافیت، بنیادی ڈھانچے، منڈیوں تک رسائی اور ادارہ جاتی تسلسل ناگزیر ہیں۔

ریاست نے ہنگامی اقدامات اور غیر معمولی انتظامی مداخلتوں سے متعلق آئینی دفعات، بشمول آرٹیکل 232 اور 234، کی طرف بھی رجوع کیا ہے۔ تاہم ہنگامی انتظامات اور انتظامی کنٹرول میں اضافے سے غربت، بے روزگاری، کمزور اداروں، ناقص تعلیم، ناکافی صحت کی سہولتوں اور محدود معاشی شمولیت جیسے بنیادی مسائل خودبخود حل نہیں ہو سکتے۔

سابق فاٹا کے لوگوں کو محض مزید حفاظتی ڈھانچوں کی ضرورت نہیں۔ انہیں مضبوط شہری ادارے درکار ہیں۔ انہیں فعال اسکول، اسپتال، عدالتیں، پولیس اسٹیشن، جامعات، منڈیاں اور مقامی حکومتیں چاہییں۔ سب سے بڑھ کر انہیں آئین کو محض ایک دستاویز کے بجائے اپنی روزمرہ زندگی کی حقیقت بنتے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پچیسویں آئینی ترمیم ایک تاریخی قدم تھا، لیکن آئینی انضمام کی کامیابی کو صرف انتظامی سرحدوں کی تبدیلی سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اس کی اصل کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ باجوڑ، خیبر، کرم، مہمند، شمالی وزیرستان، اورکزئی یا جنوبی وزیرستان کا ایک عام شہری بھی وہی بنیادی حقوق، عوامی سہولتیں اور مواقع حاصل کر سکے جن کا وعدہ پاکستان کی شہریت ہر شہری سے کرتی ہے۔

لہٰذا اب سوال یہ نہیں کہ سابق قبائلی علاقوں کا آئینی انضمام ہوا ہے یا نہیں۔ یہ انضمام ہو چکا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہاں کے عوام کو آئینی شہریت کے حقیقی ثمرات بھی حاصل ہوئے ہیں؟

اگر آئینی انضمام سے انتظامی ڈھانچے تو بدل جائیں لیکن لوگوں کی روزمرہ زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آئے تو پچیسویں ترمیم کا وعدہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے عوام محض رسمی شہریت نہیں چاہتے۔ وہ فعال اداروں، معاشی مواقع، عزت و وقار، انصاف اور تحفظ کے حق دار ہیں۔

پاکستان کا اصل امتحان صرف ضم شدہ اضلاع پر حکومت کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ آئین بالآخر ان لوگوں تک بھی پہنچے جن کے تحفظ کا وہ وعدہ کرتا ہے۔

مصنف سول سرونٹ ہیں۔ ان سے اس پتے پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: tauqirkhanmardan@gmail.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]