ریکارڈ ترسیلاتِ زر خوش آئند، مگر مضبوط معیشت کا متبادل نہیں

[post-views]
[post-views]

Zafar Iqbal

پاکستان کے بیرونِ ملک مقیم شہریوں نے ایک مرتبہ پھر قومی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً نو فیصد زیادہ ہیں۔ یہ کامیابی محض ایک عددی ریکارڈ نہیں بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی محنت، قربانی اور وطن سے وابستگی کی عکاس ہے جو اپنے خاندانوں کی کفالت اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

گزشتہ سات برسوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ترسیلاتِ زر تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں، جبکہ پاکستان کی اشیائی برآمدات محدود دائرے سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ یہی حقیقت ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں موجود ایک گہری کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک مضبوط معیشت اپنی صنعت، تجارت اور برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرتی ہے، لیکن پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن بتدریج بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی آمدنی پر منحصر ہوتی جا رہی ہے۔

ترسیلاتِ زر نے پاکستان کی معیشت میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ ان رقوم نے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا، درآمدات کی مالی معاونت کی، روپے پر دباؤ کم کیا اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کروڑوں پاکستانی خاندانوں کی روزمرہ زندگی انہی رقوم سے وابستہ ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، گھریلو اخراجات، رہائش اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا بڑا حصہ انہی ترسیلات کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔ یہ رقوم زیادہ تر گھریلو استعمال میں صرف ہوتی ہیں، سرمایہ کاری میں نہیں، اور یہی حقیقت پالیسی سازی کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

اس کامیابی میں حکومتی اقدامات کا بھی ایک نمایاں کردار ہے۔ غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی کے نظام کے خلاف کارروائی، بینکاری ذرائع کی سہولت، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ اور قانونی ذرائع سے رقوم بھیجنے کی حوصلہ افزائی نے ترسیلاتِ زر کو باضابطہ نظام میں منتقل کرنے میں مدد دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سال لاکھوں پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک جا رہے ہیں، جس سے قدرتی طور پر ترسیلات کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم اس کامیابی کو ملکی معیشت کی مجموعی مضبوطی یا سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ترسیلاتِ زر سرمایہ کاری نہیں بلکہ بیرونِ ملک محنت کرنے والے پاکستانیوں کی کمائی ہے، جو وہ اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وطن بھیجتے ہیں۔ اس لیے ان رقوم کو براہِ راست معاشی ترقی یا صنعتی مسابقت کی علامت سمجھنا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں ہوگا۔

اس سے بھی اہم مسئلہ پاکستان کی کمزور برآمدی کارکردگی ہے۔ کئی دہائیوں سے حکومتیں برآمدات بڑھانے کے لیے مراعات، رعایتی قرضے، توانائی پر سبسڈی اور مختلف پالیسی اقدامات متعارف کراتی رہی ہیں، لیکن اشیائی برآمدات مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ صنعتی پیداوار محدود رہی، نئی برآمدی مصنوعات سامنے نہ آسکیں اور کاروباری لاگت، توانائی کے مسائل، غیر یقینی پالیسیوں اور کمزور بنیادی ڈھانچے نے برآمدی شعبے کی مسابقت کو متاثر کیا۔

یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اب اشیا سے زیادہ اپنی افرادی قوت کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کر رہا ہے۔ اگرچہ بیرونِ ملک روزگار لاکھوں خاندانوں کے لیے معاشی سہارا ہے، لیکن کسی بھی ملک کی ترقی کا پائیدار ماڈل صرف افرادی قوت کی برآمد پر قائم نہیں رہ سکتا۔ حقیقی معاشی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ملک کے اندر صنعتیں ترقی کریں، روزگار پیدا ہو، پیداوار میں اضافہ ہو اور برآمدات مسلسل وسعت اختیار کریں۔

ایک اور تشویش ترسیلاتِ زر کے جغرافیائی ارتکاز سے متعلق ہے۔ پاکستان کو آنے والی بڑی مقدار خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر ان ممالک میں معاشی سست روی، روزگار کی پالیسیوں میں تبدیلی، خودکار ٹیکنالوجی کا فروغ یا علاقائی سیاسی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو پاکستان کی ترسیلاتِ زر براہِ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی نے واضح کیا ہے کہ غیر معمولی حالات وقتی طور پر ترسیلات میں اضافہ تو کر سکتے ہیں، مگر انہیں مستقل رجحان تصور نہیں کیا جا سکتا۔

اس لیے قومی پالیسی کا تقاضا یہ ہے کہ ترسیلاتِ زر کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ معیشت کی بنیادوں کو بھی مضبوط بنایا جائے۔ بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانے، قانونی ذرائع سے رقوم کی ترسیل آسان بنانے اور اخراجات کم کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ برآمدات کے فروغ کو قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔

برآمدی شعبے کی بحالی کے لیے صنعتی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت، سستی توانائی، مؤثر نقل و حمل، مستحکم ٹیکس نظام، آسان کاروباری ضوابط اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی ناگزیر ہے۔ صرف سبسڈی یا وقتی مراعات برآمدات میں پائیدار اضافہ نہیں کر سکتیں؛ اس کے لیے ایک ایسا معاشی ماحول درکار ہے جو سرمایہ کاری، اختراع اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دے۔

مالی سال 2025-26 کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر یقیناً قومی کامیابی ہیں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی حب الوطنی، محنت اور قربانی کا روشن ثبوت بھی۔ لیکن ان کامیابیوں کو معاشی اصلاحات کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان کی حقیقی اقتصادی طاقت اس وقت سامنے آئے گی جب ملکی صنعتیں عالمی منڈیوں میں مسابقت حاصل کریں، برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو، اور زرمبادلہ کمانے کا انحصار صرف بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں پر نہ رہے۔ ترسیلاتِ زر نے ملک کو قیمتی مہلت ضرور دی ہے، مگر پائیدار معاشی استحکام کا راستہ برآمدات، صنعتی ترقی اور جامع اقتصادی اصلاحات سے ہی گزر کر جاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]