Premium Content

Add

انتخابی عمل کے دوران استعمال ہونے والے فارمز اور ان کا مقصد

Print Friendly, PDF & Email

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) انتخابی عمل کے دوران مختلف فارمز استعمال کرتا ہے جو بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ فارمز انتخابی عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ ان فارمز کے ذریعے، تمام متعلقہ معلومات کو ریکارڈ کیا جاتا ہے اور عوام کے لیے دستیاب کرایا جاتا ہے۔ اس سے انتخابی عمل میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ان کے ووٹوں کو درست طریقے سے گنا اور ریکارڈ کیا گیا ہے۔

فارم 45

فارم 45 الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ایک سرکاری دستاویز ہے جسے ہر پولنگ اسٹیشن پر ووٹوں کی گنتی کے نتائج کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر ”نتائج کا بیان“ کہا جاتا ہے۔

فارم 45 میں درج ذیل معلومات شامل ہوتی ہیں:۔

پولنگ اسٹیشن کا نمبر
حلقے کا نام
رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد
ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد
ہر امیدوار کے حصول کردہ ووٹوں کی تعداد
مسترد شدہ بیلٹ پیپرز کی تعداد

فارم 45 پر پریذائیڈنگ افسراور پولنگ ایجنٹس کے دستخط ہوتے ہیں۔فارم 45 کی ایک کاپی ہر پولنگ ایجنٹ کو دی جاتی ہے اور ایک کاپی الیکشن کمیشن کو بھیجی جاتی ہے۔

فارم 46

فارم 46 الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ایک سرکاری دستاویز ہے جسے ہر پولنگ اسٹیشن پر ووٹوں کی گنتی کے نتائج کے حتمی بیان کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر ”انتخابی نتائج کا حتمی بیان“ کہا جاتا ہے۔

فارم 46 میں مندرجہ ذیل معلومت شامل ہوتی ہیں:۔

پولنگ اسٹیشن کا نمبر
حلقے کا نام
رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد
ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد
ہر امیدوار کے حصول کردہ ووٹوں کی تعداد
مسترد شدہ بیلٹ پیپرز کی تعداد

فارم 46 پر ریٹرننگ افسراور امیدواروں یا ان کے پولنگ ایجنٹس کے دستخط ہوتے ہیں۔ فارم 46 کی ایک کاپی ہر امیدوار یا اس کے پولنگ ایجنٹ کو دی جاتی ہے اور ایک کاپی الیکشن کمیشن کو بھیجی جاتی ہے۔

فارم 45 اور فارم 46 کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ فارم 45 پولنگ اسٹیشن کی سطح پر نتائج کا ایک ابتدائی بیان ہے، جبکہ فارم 46 حلقہ انتخاب کی سطح پر نتائج کا حتمی بیان ہے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

فارم 47

فارم 47 ہر حلقہ انتخاب میں ریٹرننگ افسر نتائج کے حتمی اعلان کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسے عام طور پر ”انتخابی نتائج کا اعلان“ کہا جاتا ہے۔

فارم 47 میں درج ذیل معلومات شامل ہوتی ہیں:۔

حلقہ انتخاب کا نام
رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد
ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد
ہر امیدوار کے حصول کردہ ووٹوں کی تعداد
مسترد شدہ بیلٹ پیپرز کی تعداد
کامیاب امیدوار کا نام

فارم 47 پر ریٹرننگ افسر دستخط کرتا ہے اور اس کی ایک کاپی ہر امیدوار یا اس کے پولنگ ایجنٹ کو دی جاتی ہے اور ایک کاپی الیکشن کمیشن کو بھیجی جاتی ہے۔

فارم 47 کے اعلان کے بعد، کوئی بھی امیدوار جو نتائج سے مطمئن نہیں وہ الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔

فارم 48

فارم 48 ہر حلقہ انتخاب میں ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کے نتائج کے اعلان کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسے عام طور پر ”دوبارہ گنتی کے نتائج کا اعلان“ کہا جاتا ہے۔

فارم 48 میں درج ذیل معلومات شامل ہوتی ہیں:۔

حلقہ انتخاب کا نام
رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد
ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد
ہر امیدوار کے حصول کردہ ووٹوں کی تعداد
مسترد شدہ بیلٹ پیپرز کی تعداد
کامیاب امیدوار کا نام

فارم 48 پر ریٹرننگ افسردستخط کرتا ہے۔ اس فارم کی ایک کاپی ہر امیدوار یا اس کے پولنگ ایجنٹ کو دی جاتی ہے اور ایک کاپی الیکشن کمیشن کو بھیج دی جاتی ہے۔

فارم 48 کے اعلان کے بعد، کوئی بھی امیدوار جو نتائج سے مطمئن نہیں ہے وہ الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔

فارم 49

فارم 49 ہر حلقہ انتخاب میں ریٹرننگ افسر انتخابی نتائج کی تصدیق کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسے عام طور پر ”انتخابی نتائج کی تصدیق“ کہا جاتا ہے۔

فارم 48 میں درج ذیل معلومات شامل ہوتی ہیں:۔

حلقہ انتخاب کا نام
رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد
ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد
ہر امیدوار کے حصول کردہ ووٹوں کی تعداد
مسترد شدہ بیلٹ پیپرز کی تعداد
کامیاب امیدوار کا نام

فارم 49 پر ریٹرننگ افسردستخط کرتا ہے۔اس فارم کی ایک کاپی ہر امیدوار یا اس کے پولنگ ایجنٹ کو دی جاتی ہے اور ایک کاپی الیکشن کمیشن کو بھیج دی جاتی ہے۔

فارم 49 کے اعلان کے بعد، کوئی بھی امیدوار جو نتائج سے مطمئن نہیں ہے وہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔

فارم 45، فارم 46، فارم 47، اور فارم 48 ایک دوسرے سے اس طرح متعلق ہیں:۔

فارم 45 پولنگ اسٹیشن کی سطح پر نتائج کا ایک ابتدائی بیان ہے۔
فارم 46 حلقہ انتخاب کی سطح پر نتائج کا حتمی بیان ہے۔
فارم 47 انتخابی نتائج کا حتمی اعلان ہے۔
فارم 48 دوبارہ گنتی کے نتائج کا اعلان ہے۔
فارم 49 انتخابی نتائج کی تصدیق ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1