بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد آخری امریکی فوجیوں کا انخلا، عراق میں جشن

[post-views]
[post-views]

امریکی قیادت میں اتحادی مشن کے اختتام پر عوامی خوشی، تاہم مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ اور داعش کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات برقرار

بغداد: عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تنازع اور امریکی فوجی موجودگی کے بعد بدھ کو باقی ماندہ امریکی فوجیوں کے انخلا پر شہریوں نے جشن منایا، جس کے ساتھ ہی ملک میں امریکی قیادت میں قائم اتحادی فوجی مشن باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔

انخلا کے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت آخری امریکی فوجی بھی عراق سے روانہ ہوگئے۔ ان میں سے زیادہ تر نیم خودمختار کرد خطے اربیل کے ایک فضائی اڈے پر تعینات تھے۔

اس موقع پر عراقی فوجیوں نے بغداد اور مقدس شہر نجف میں پریڈ کی، جبکہ شہریوں نے غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

تاہم امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد عراق کی مستقبل کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، بالخصوص ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ اور اس امکان کے بارے میں کہ داعش اتحادی افواج کی روانگی کے بعد پیدا ہونے والی کسی ممکنہ سکیورٹی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

شہریوں کا انخلا کا خیرمقدم، ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے کا مطالبہ

بغداد کے 70 سالہ رہائشی احمد صلاح نے امریکی فوجیوں کے انخلا کو خوشی کا باعث قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کنٹرول سے باہر کام کرنے والے مسلح گروہوں کو اب اپنے ہتھیار حوالے کر دینے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی برقرار رکھنے کی ذمہ داری عراقی ریاست کے پاس ہونی چاہیے۔

عراق میں امریکی فوجی موجودگی کا آغاز 2003 میں اس حملے سے ہوا تھا جس کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت ختم ہوگئی۔ امریکی فوجیوں نے 2011 میں عراق سے انخلا کیا، تاہم تین سال سے بھی کم عرصے بعد داعش کی جانب سے عراق کے وسیع علاقوں پر قبضے کے بعد امریکی افواج دوبارہ ملک میں داخل ہوئیں۔

عراق کی جنگ کے دوران 4,500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ عراق باڈی کاؤنٹ منصوبے کے مطابق دو لاکھ سے زیادہ عراقی شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

حالیہ انخلا کا معاہدہ 2024 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں طے پایا تھا، جبکہ اس کی تکمیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران ہوئی۔

ٹرمپ نے انخلا کو ’فتح‘ قرار دے دیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کو دونوں ممالک کے لیے فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش کو شکست دی جا چکی ہے اور اب امریکی افواج کے وطن واپس آنے کا وقت تھا۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے کہا کہ بین الاقوامی اتحادی مشن کے خاتمے کا مطلب عراق کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا اختتام نہیں ہے۔

انہوں نے اسے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا جس میں عراق اپنی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کی مکمل ذمہ داری خود سنبھالے گا۔

ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے حامیوں کا جشن

ایران کے حمایت یافتہ عراقی مسلح گروہوں کے سینکڑوں حامی بھی امریکی فوجیوں کے انخلا کا جشن منانے کے لیے بغداد میں جمع ہوئے۔

مظاہرین نے امریکا مخالف نعرے لگائے اور ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے بیٹے مجتبیٰ اور جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

امریکی فوجیوں کی روانگی کے ساتھ عراق کی حالیہ تاریخ کا ایک اہم باب بند ہوگیا ہے، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ امریکی قیادت میں اتحادی مشن کے بغیر عراق اپنے سکیورٹی ماحول کو کس طرح سنبھالے گا اور مختلف مسلح اور سیاسی قوتوں کی موجودگی میں ریاست کس حد تک اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]