Premium Content

Add

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا

Print Friendly, PDF & Email

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نواز شریف کو بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا۔

عدالت نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے فلیگ شپ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی بریت کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو بھی خارج کر دیا۔

یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سنایا۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میں نے العزیزیہ ریفرنس میں بھی معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔

بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے دو گھنٹے تک فریقین کے دلائل سنے اور بعد ازاں سابق وزیراعظم نواز شریف کو بری کر دیا۔

سماعت کے آغاز پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں شریک ملزمان مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو رواں سال کے اوائل میں بری کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، ان پر لگائے گئے الزامات میں جرم میں مدد کرنا بھی شامل تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے شریک ملزمان کی بریت حتمی ہے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل نے متعلقہ حکام کو اپنے اثاثے ظاہر کرتے وقت اثاثوں کی قیمت بتانی تھی یا نہیں؟

وکیل نے یہ بھی بتایا کہ ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں اثاثوں کی مالیت تو معلوم تھی، لیکن آمدن نہیں، اور عدالت نے ایسے مقدمات میں قرار دیا تھا کہ آمدن معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کیس نہیں بن سکتا۔

جسٹس اورنگزیب نے وکیل سے پوچھا کہ استغاثہ کو کیس بناتے وقت سب سے پہلے کیا ثابت کرنا چاہیے تو وکیل نے جواب دیا کہ استغاثہ پہلے ثابت کرے کہ ملزم آفس ہولڈر ہے ۔

نواز شریف کے وکیل نے ریمارکس دیئے کہ احتساب کا نگراں ادارہ کچھ ثابت نہیں کر سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو پاناما فیصلے، جے آئی ٹی اور نہ ہی نیب کی تحقیقاتی رپورٹس میں نواز شریف کا جائیداد سے تعلق ثابت ہو سکا۔

ایف آئی اے کے سابق ڈی جی واجد ضیاء کے وکیل نے بھی اعتراف کیا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے نواز شریف کا جائیدادوں سے تعلق ثابت ہو۔

جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ یہ ثابت کرنا نیب کی ذمہ داری ہے ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے پوچھا کہ کیا یہ سب استغاثہ کا کام ہے؟ نواز شریف کے وکیل نے اثبات میں جواب دیا۔بعد ازاں عدالت نے نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا۔

جولائی 2018 میں ٹرائل کورٹ نے نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے جرم میں سزا سنائی۔ انہیں 1.3 ارب روپے جرمانے کے ساتھ 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1