Exclusive Content

Add

جدید فلاحی ریاست کا قیام

Print Friendly, PDF & Email

مصنف:        ڈاکٹر طارق اللہ

مختلف تہذیبوں، سلطنتوں، مذاہب اور معاشروں میں غریبوں کی فلاح و بہبود کا ہمیشہ خیال رکھا گیا ہے، تاہم یہ عمل صرف خیرات، نصیحت  اور اخلاقی تعلیمات تک محدود رہا۔ 

جدید سماجی فلاحی ریاست کا تصور 1700 کے بعد شروع ہوا۔ بڑھتی ہوئی عوامی بیداری، شعور اور انقلابی تحریکوں کے بعد ریاست کے جوازکے لیے نئے تصورات اور نظریات پیش کیے گئے جس میں تھیوری آف سوشل کنٹرٹ نے ریاستی ساخت کو بہت متاثر کیا۔ اگرچہ اس عمرانی معاہدے کا مقصد ریاست کو سیاسی اور قانونی طور پر واضع کرنا تھا لیکن ایک دفعہ جب عوام کی مرضی کو بنیادی تصور مانا گیا تو پھر یہ صرف ایک سیاسی اور قانونی معاملہ نہیں رہا بلکہ  پھر  ، تعلیم، صحت، روزگار عوام کو باختیار بنانا اور ریاستی امور میں عوام کی شرکت یقینی بنانا بھی لازمی امر تھا۔ آجکل تصور کی حد تک  یہ امور  تقریباً تمام ریاستوں کے آئین میں شامل ہیں اور عملی طور پر بھی مختلف درجوں میں موجود ہیں۔

Read More: https://republicpolicy.com/kyun-na-khali-zahen-mara-jaye/

لیکن یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا اور موجودہ لیول تک پہنچنے میں بہت سے فلسفیانہ بحث ہوئیں، تحریکیں اٹھیں، لوگوں نے قربانیاں دیں۔ اس سلسلے میں آئندہ  چند روز تک گفتگو کریں گے جو کہ میں نے پی ایچ ڈی مقالے کے لیے انگریزی میں تحریر کیے ہیں۔

ایڈم سمتھ اور فلاحی ریاست

ایڈم سمتھ جدید سرمایہ دارانہ نظام کا بانی ہے ۔ آ پ کی کتاب دی ویلۃ آف نیشن سرمایہ دارانہ نظام کیلئے بائبل کی حیثیت رکھتی ہے۔  سرمایہ داری نظام دراصل جاگیرداری، تجارت اور معیشت پر ریاستی تسلط کے خلاف بغاوت تھی اور آزاد تجارت، کھلی منڈی، نجی ملکیت کا مطالبہ کرتی تھی۔  ایڈم سمتھ کسی فلاحی ریاست، فلاحی معاشیات، سیاسی اور سماجی انصاف کے علمبردار نہیں تھے لیکن انہیں یقین تھا کہ آزاد تجارت، سرمایہ کی فراہمی، ذاتی ملکیت کے نتیجے میں معاشرے میں خوشحالی آئیگی،  فلاح و بہبود پیدا ہو گی اور ہر کوئی غربت سے باہر آئے گا۔ اگرچہ اس معاشی نظریے میں فلاحی ریاست یا غربت کے خاتمے کیلئے کوئی واضح پلان،طریقہ کار، نہیں تھا لیکن سمتھ کا خیال تھا کہ انسانی فطرت میں اخلاقی جذبہ کے باعث ،آزاد سرمایہ اور آزادانہ تجارت سے فوائد  خود بخود نچلے طبقے تک پہنچ جائیں گے۔

فلاحی ریاست کا مفید نظریہ  (یوٹیلی ٹیرین تھیوری آف ویلفیئر اسٹیٹ)

  سرمایہ دارانہ نظام میں یوٹیلی ٹیرین تھیوری  شاید سب سے زیادہ پر اثر نظریہ ہے جس نے ریاست کی نوعیت، حکومت کا مقصد ، قانون سازی کے عمل اور حکومتی ترجیحات کو بہت  متاثر کیا ہے۔  یہ سرمایہ دارانہ نظام ہی کا تسلسل ہے اور سرمایہ دارانہ دنیا ابھی مقبول عام  ہے۔ جرمی بن تھم اس تھیوری کا بانی ہے اور  جان اسٹورٹ ملزنے اسکو منطقی انجام تک پہنچا دیا ہے۔

اس تھیوری کےمطابق کسی بھی قانون ، حکومتی پروگرام کا مقصد زیادہ سے زیادہ  لوگوں کی خوشی ہے۔ یہ اس تھیوری کا نعرہ ہے اور یہی خوشی کسی بھی قانون یا حکومتی پروگرام کی بنیاد ہے۔

  اس تھیوری نے قانون سازی،  ریاست کی  بہبود اور فلاحی سمت پر ترقی میں بہت  کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ تھیوری  آج تک مغربی دنیا خصوصاً امریکہ، برطانیہ اور  انگلوسکسن دنیا میں ابھی بھی مقبول اور قابل عمل ہے۔

اسکی افادیت اپنی جگہ لیکن مسلسل اسکو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے

ایک تنقید یہ ہے  کہ اس کا  بنیادی مقصد  صرف اور صرف لوگوں کی خوشی ہے۔ خوشی ایک نفسیاتی عمل ہے اور ضروری نہیں کہ صرف خوشی انسان کی فلاح اور بہبود کیلئے واحد پیمانہ ہو۔

شاید غربت کے  شکار لوگ زیادہ خوش ہوں کیونکہ  یا  تو انہوں نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو  اس صورتحال کیلیے تیار کیا ہوا ہو یا ان کو  اچھی طرز زندگی کا کوئی تصور ہی نہ ہو اور نہ ہی اچھی طرز زندگی کا کوئی شعور ۔  ذاتی یا نفسیاتی خوشی کیساتھ روزگار، تعلیم، صحت اور لوگوں کی فلاح و بہبود بھی ضروری ہے۔

Read More: https://republicpolicy.com/ghurbat-kya-hai-aur-taraqi-kya-ha/

اس تھیوری سے بننے والے نظام میں  صرف اکثریت کی خوشی کا خیال رکھا جاتاہے ہے اور  اقلیتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے حالانکہ اقلیت کو زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Read More: https://republicpolicy.com/pakistan-me-insani-haqooq-ka-nifaz/

یہ انسانی مسائل  کا ایک سادہ تصور پیش  کرتاہے اور پھر سادہ حل تجویز کرتاہے۔ حالانکہ غربت، پسماندگی ایک گھمبیر  عمل ہے جو فرد سے لیکر معاشرے ، ریاست اور گلوبل لیول تک محیط ہے۔

اسمیں ایک فرد بطور انسان اسکا محور نہیں  ہے بلکہ اکثر فرد یا تو نظر انداز کیے جاتے ہیں اور یا بطور آلہ کار انسٹرومنٹ استعمال کیا جاتے ہیں۔   جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1