Premium Content

Add

کیا ہم دین سے دور ہیں

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ڈاکٹر محمد کلیم

جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے اس وقت سے یہ بات سنتے آئے ہیں کہ آج ہماری ابتری کی وجہ دین سے دوری ہے۔ ہم نے سوچا کیوں نہ اس بات پر غور کیا جائے کہ ہم واقعی دین سے دور ہیں یا نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ دین ہماری نس نس میں ہے۔ سب سے پہلے آپ ہمیں اس بات کا جواب دیں اگر آپ مسلمان مرد ہیں تو آپ نے ختنے تو ضرور کروائے ہوں گے ۔ ختنے کرانا ہمارا دینی فرض ہے اور سب نے بخوبی اس کو انجام دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے دین اس وقت سے اپنا عمل شروع کرتا ہے جب ہم اس دنیا میں وارد ہوتے ہیں اور ہمارے کان میں اذان دی جاتی ہے تاکہ ہم سب سے پہلے پاک اور معتبر نام سنیں۔

اس کے بعد ہمیں ایک نام دیا جاتا ہے جس میں محمد ﷺ ، اللہ اور علی کو اکثر شامل کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی بچی پیدا ہوتی ہے تو فاطمہ زینب خدیجہ کلثوم یا عائشہ رکھا جاتا ہے یہ نام نہ بھی ہوں تو نام کا قرعہ فال قرآن مجید سے نکالا جاتا ہے اور اسلامی نام رکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ہمارے ہاں کوئی فینسی نام رکھنے کا رواج نہیں اور ہم اسلامی نام رکھنے پر قائم ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دین کی گھٹی ہمیں پیدا ہوتے ہی چٹا دی جاتی ہے۔

اب ہم دینی تعلیم کی طرف توجہ دیتے ہیں کہ اس وقت ہمارے ملک میں تقریباً سوا لاکھ دینی مدارس موجود ہیں جو صرف اور صرف دینی تعلیم دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری سکولوں میں کچی سے لے کر بی اے تک دین کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہمارے جدید ترین سکولوں میں بھی اسلامیات کی تعلیم فرض ہے مثال کے طور پر اگر آپ ”او“ لیول کی اسلامیات اٹھائیں تو اس میں قرآن کی آیات، حدیث، حدیث کی تشریح، سیرت نبی ﷺ ، ارکان اسلام، خلفائے راشدین اور اسلام کی تاریخ شامل ہے۔ کیا یہ کورس دین کو سمجھنے کے لیے کم ہیں؟ آج کل موجودہ حکومت نے ناظرہ کی تعلیم کا بھی بندوبست کر دیا ہے اور ان ناظرہ بھی اسکولوں میں پڑھایا جا رہا ہے۔ جو لوگ کوئی بھی تعلیم حاصل نہیں کرتے وہ بھی قرآن مجید ضرور پڑھتے ہیں اور اسلام کی بنیادی تعلیم سے واقف ہوتے ہیں۔

کیا ہم اسلام کے بنیادی عقیدہ، توحید، نبوت اور آخرت سے واقف نہیں۔ یہاں پر ہر شخص کو جنت اور دوزخ کا خوب علم ہے اور اسے معلوم ہے کہ آخرت کے دن ”حساب“ ہو گا جب ہمارے اعمال پرکھے جائیں گے۔ ہم اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور اگر اس پر کوئی شخص کوئی بات کرے تو ہم اس کو مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اسلام کے بنیادی عقیدہ کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں اور لڑنے اور مرنے کو بھی تیار ہیں۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

اب ذرا بات کر لیتے ہیں ارکان اسلام کے بارے میں۔ پاکستان کے ہر کونے میں مسجد موجود ہے۔ ہر مسافر خانے، دفتر میں مساجد موجود ہیں اور کثیر تعداد میں لوگ نماز پڑھتے ہیں اور اس کو قائم رکھتے ہے ہماری عورتیں زیادہ تر نمازی ہیں اس کی پابندی کرتی ہیں۔ پاکستان پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر صدقات، خیرات کرنے والا ملک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی زکٰوۃ باقاعدگی سے نکالتے ہیں اور غریبوں کی مدد کرتے ہیں روزہ کا بھی یہی معمول ہے زیادہ تر لوگ روزے رکھتے ہیں اور پورے ماہ صیام میں اس کی پابندی کی جاتی ہے بلکہ ریاست نے قانون بنا رکھا ہے کہ مسافر خانے اور ہسپتال کے علاوہ کہیں بھی کھانے پینے کی اشیاء دستیاب / فروخت نہیں کی جا سکتی۔ ہم حج پر جانے والے بھی دوسرے سب سے بڑا ملک ہیں حالانکہ ہم غریب لوگ ہیں لیکن تمام عمر کی پونجی سے ہم حج کرتے ہیں اس طرح ہمارے ہاں قربانی بھی بے شمار کی جاتی ہے۔

ہم سنت نبوی ﷺ کو اپناتے ہیں زیادہ تر لوگوں نے داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں۔ عورتیں پردہ کرتی ہیں ابھی بھی آپ کسی سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر غور کریں تو آپ کو پردہ دار خاتون زیادہ نظر آئیں گی۔ ٹی وی پر قرآن کی ترویج کرنے کے لیے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ جس سے ہمیں سیدھی راہ پر لگایا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنے تمام قانون اسلام کے مطابق کر لیے ہیں اور کوئی بھی قانون منافی اسلام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر جگہ اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کروایا جاتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کے آخری رسول پر حلف اٹھانے کا کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کئی دینی تنظیمیں اسلام کی ترویج کے لیے کام کر رہی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ افغانستان کی جنگ میں کئی لوگ پاکستان سے جہاد میں شریک ہونے گئے۔ اکثر لوگ غزوہ ہند کی بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہمارا معاشی اور معاشرتی نظام میں دین کی چھاپ بہت گہری ہے۔ جب کچھ لوگ فرماتے ہیں کہ ہم دین سے دور ہو گئے ہیں تو یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ ہم ان ممالک میں سے ہیں جہاں دین کی خاطر دوسرے کی جان لینا معمول کی بات ہے۔ اس لیے ہماری ابتری کی وجہ دین سے دوری نہیں کچھ اور ہوگی اور کچھ اور کو ہمیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1