Premium Content

Add

نیب نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف القادر ٹرسٹ ریفرنس دائر کر دیا

Print Friendly, PDF & Email

اسلام آباد : قومی احتساب بیورو (نیب) نے جمعہ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا۔

نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور تفتیشی افسر میاں عمر ندیم نے ریفرنس رجسٹرار آفس میں جمع کرایا۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر، بیرسٹر ضیاء المصطفیٰ نسیم اور زلفی بخاری سمیت دیگر 7 ملزمان نامزد ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ اور ان کی اہلیہ نے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ایک نجی لینڈ کمپنی بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور درجنوں ایکڑ مالیت کی زمین حاصل کی جسے برطانیہ کی طرف سے ضبط کر کے پاکستان کو واپس کر دیا گیا۔

بحریہ ٹاؤن کے مالک اور معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کا نام بھی ملزمان میں شامل ہے۔ مقدمے میں نامزد مزید پانچ افراد میں بشری بی بی کے قریبی دوست فرحت شہزادی، وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر اور پی ٹی آئی حکومت کے اثاثہ جات کی بحالی کے یونٹ (اے آر یو) کے قانونی ماہر زلفی بخاری، ضیاء المصطفیٰ نسیم اور احمد ریاض شامل ہیں۔

ریفرنس کا عنوان دی اسٹیٹ بمقابلہ عمران احمد خان نیازی ہے۔ مقدمے میں شریک ملزمان میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سابق چیئرمین مرزا شہزاد اکبر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب ملک ریاض حسین، بحریہ ٹاؤن کے سی ای او بیرسٹر ضیاء المصطفیٰ نسیم، بین الاقوامی فوجداری قانون اے آر یو کے سابق ماہر ذوالفقار بخاری شامل ہیں۔

ریفرنس کے مطابق، اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے مبینہ طور پر فنڈز (این سی اے سے 190 ملین پاؤنڈ) ریاست پاکستان کو واپس بھیجنے کے بجائے، بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ نیب نے اپریل 2023 میں تفتیش کا رخ موڑ دیا، شہزاد اکبر نے 2 دسمبر 2019 کو عمران خان کو ایک نوٹ دیا، نوٹ میں کہا گیا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ڈسٹرکٹ جج کی ہدایت پر ریاض خاندان کی 20 ملین پاؤنڈ کی جائیداد منجمد کرنا تھی۔ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں بعد ازاں این سی اے نے ملک ریاض اور خاندان کی 170 ملین پاؤنڈ کی جائیداد منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے۔

نیب کا یہ بھی الزام ہے کہ ملک ریاض نے القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کو عطیہ کی آڑ میں 458 کنال اراضی، 285 ملین روپے، عمارت اور فرنیچر وغیرہ دیا۔ ریفرنس میں  مزید کہا گیا  ہےکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی القادر ٹرسٹ میں ٹرسٹی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ زمین ذوالفقار بخاری کو منتقل کی گئی تھی جنہوں نے بعد میں اسے ٹرسٹ کو منتقل کر دیا۔ ذوالفقار بخاری نے عمران خان کے فرنٹ مین کا کردار ادا کیا۔ ذوالفقار بخاری 26 دسمبر 2019 سے اپریل 2020 تک القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی بھی رہے، یہ بھی الزام ہے کہ جب عمران خان کو مالیاتی فائدہ دیا گیا تو القادر ٹرسٹ اور یونیورسٹی کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

شہزاد اکبر نے عمران خان کے ساتھ حکومت پاکستان کی جانب سے این سی اے کو رازداری کا ڈیڈ جمع کرایا۔ بیرسٹر ضیاء المصطفیٰ نسیم نے حکومت کی طرف سے منظوری حاصل کرنے سے قبل غلط عزائم کے ساتھ بطور گواہ ڈیڈ پر دستخط کیے۔ نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ بیرسٹر ضیا اور شہزاد اکبر نے این سی اے کے ساتھ تصفیہ کرنے کے لیے برطانیہ کے کئی دورے کیے تھے۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی  نے غیر قانونی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ملک ریاض کی جائیداد، مالیاتی فائدہ اور دیگر قیمتی اشیاء کی وصولی کا اعتراف کیا۔ مزید برآں، بشری بی بی نے 24 مارچ 2021 کو عطیہ کے اعتراف ڈیڈ پر شریک ملزم فرحت شہزادی بحریہ ٹاؤن سے شریک ملزم احمد علی ریاض کے ذریعے دستخط کر کے جرم میں مدد کی ۔فرحت شہزادی القادر ٹرسٹ کی ٹرسٹی بھی تھیں۔

ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان عدالتی حراست میں ہیں، ان کی اہلیہ بشریٰ عمران خان ضمانت پر ہیں، اور باقی تمام شریک ملزمان اس وقت یا تو مفرور ہیں یا پاکستان سے باہر ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1