اسلام آباد کا 22 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ، افغان طالبان حکام کے مطابق 9 شہری جاں بحق اور 11 زخمی
پاکستان نے افغانستان کے اندر ایک بار پھر فضائی حملے کیے ہیں، تاہم اسلام آباد اور افغان طالبان نے حملوں کے اہداف اور جانی نقصان کے حوالے سے مختلف دعوے کیے ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی میں 22 عسکریت پسند مارے گئے۔ اسلام آباد کے مطابق یہ حملے مکمل منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ کیے گئے اور ان میں ایسے مبینہ دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود تھا۔
وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران دیگر جانی نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
دوسری جانب افغان طالبان حکام نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں پاکستان کی سرحد سے متصل صوبوں کنڑ اور ہلمند کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق فضائی حملوں میں 9 شہری جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جارحیت اور تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
عینی شاہد نے رات گئے حملوں کی تفصیلات بتا دیں
گرمسیر سے تعلق رکھنے والے ایک عینی شاہد قدرت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ فضائی حملے مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ساڑھے تین بجے شروع ہوئے اور تقریباً نصف گھنٹے تک جاری رہے۔
ان کے مطابق لوگ سو رہے تھے جب طیارے پہنچے اور پہلے دھماکے سے ان کی آنکھ کھلی۔ انہوں نے بتایا کہ مزید حملوں کے بعد خاندانوں نے علاقہ چھوڑنا شروع کر دیا، جبکہ ایک اور بم پڑوسی کے گھر پر گرا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے۔
اسلام آباد اور کابل کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں اس حوالے سے واضح اختلاف موجود ہے کہ کارروائی کے دوران شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں یا نہیں۔
پاکستان کا دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنانے کا مؤقف
پاکستان مسلسل افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ عسکریت پسند تنظیموں کو افغان سرزمین پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
تازہ فضائی حملے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان افغانستان میں موجود اور وہاں سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے معاملے پر جاری سکیورٹی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی میں خاص طور پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ افغان طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ فضائی حملوں کی زد میں شہریوں کے گھر آئے۔
اہداف اور جانی نقصان کے حوالے سے دونوں جانب کے متضاد دعووں نے اسلام آباد اور کابل میں طالبان حکومت کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔









