اداریہ | ریپبلک پالیسی
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث نے ایک بار پھر ہماری سیاسی اور انتظامی سوچ کے بنیادی ابہام کو نمایاں کر دیا ہے۔ ہم وفاقیت کے بحران اور طرزِ حکمرانی کے بحران میں فرق کرنے سے قاصر ہیں، حالاں کہ یہ دو الگ مسائل ہیں اور ان کے حل بھی الگ ہیں۔
چند روز قبل وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پیش رفت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں سیاسی بے یقینی، گورنر راج کے نفاذ اور صوبائی حکومت کے مستقبل سے متعلق سوالات کے تناظر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا منصوبہ بھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ محسن نقوی نے جواب دیا کہ اس معاملے پر پیش رفت ہو رہی ہے، دستاویزات اور دیگر ضروری کارروائی مکمل کی جا رہی ہے اور نئے انتظامی یونٹس ہر صورت قائم کیے جائیں گے۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں مزید انتظامی یونٹس بننے چاہییں یا نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمیں کس نوعیت کی اکائیاں درکار ہیں اور ان سے کون سے مسائل حل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے؟
پاکستان کو دو الگ نوعیت کے ادارہ جاتی بحرانوں کا سامنا ہے۔ پہلا وفاقیت کا بحران ہے اور دوسرا طرزِ حکمرانی کا بحران۔ ان دونوں کو ایک ہی مسئلہ سمجھنا اور یہ توقع رکھنا کہ انتظامی حدود میں ردوبدل سے دونوں کا حل نکل آئے گا، ایک بنیادی پالیسی غلطی ہے۔
وفاقیت کا بحران دراصل وفاق اور اس کی اکائیوں کے درمیان آئینی اختیارات کی تقسیم سے متعلق ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مرکزی نوعیت کے انتظامی ڈھانچے اور وفاقی نظام کے اصولوں کے درمیان پایا جانے والا عدم توازن ہے۔ پاکستان کے صوبوں کو آئینی حیثیت اور اختیارات حاصل ہیں، لیکن ان کے انتظامی نظام پر طویل عرصے سے ایک مرکزی اور وحدانی بیوروکریٹک سوچ کے اثرات غالب رہے ہیں۔
اس بحران کا حل محض نئی حدود کھینچنے میں نہیں۔ اس کے لیے سول سروس کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنا، ایک معتبر اور آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا اور وفاقی و صوبائی اداروں کو ان کے اپنے دائرۂ اختیار میں مؤثر بنانا ضروری ہے۔ کوئی وفاق اس وقت تک مؤثر طور پر کام نہیں کر سکتا جب تک اس کا انتظامی ڈھانچہ اختیارات کو مسلسل مرکز کی طرف منتقل کرتا رہے۔
اس کے برعکس، طرزِ حکمرانی کا بحران ایک الگ مسئلہ ہے۔ اس کا تعلق شہریوں اور ان اداروں کے درمیان فاصلے سے ہے جو انہیں بنیادی خدمات فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس کا حل سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کو حکومت کے نچلے ترین مؤثر درجے تک منتقل کرنے میں ہے۔
یہیں بلدیاتی حکومت کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی حکومتیں بارہا منتخب بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کو جمہوری اور آئینی نظام کا لازمی درجہ سمجھنے کے بجائے اکثر ماتحت انتظامی بندوبست تصور کیا جاتا ہے۔ انتخابات میں تاخیر کی جاتی ہے، اداروں کو کمزور رکھا جاتا ہے اور مالی اختیارات صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رہتے ہیں۔ نتیجتاً شہری ان فیصلوں پر بھی مؤثر اختیار نہیں رکھتے جو براہِ راست ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
بلدیاتی حکومت کو مضبوط کیے بغیر مزید انتظامی یونٹس بنانا اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ہر نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے لیے اپنا ادارہ جاتی ڈھانچہ درکار ہوگا، لیکن اصل سوال وہیں رہے گا کہ کیا اختیارات واقعی عوام تک پہنچیں گے؟ مزید انتظامی مراکز قائم کرنے سے خودبخود بہتر طرزِ حکمرانی وجود میں نہیں آتا۔
اس بحث میں ایک اور بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے: نئی وفاقی اکائیاں اور نئی انتظامی اکائیاں ایک چیز نہیں ہیں۔
نئی وفاقی اکائی ایک آئینی اور سیاسی عمل کے ذریعے وجود میں آنی چاہیے، جس کے نتیجے میں اسے وفاق کے اندر اختیارات اور آئینی حیثیت حاصل ہو۔ اس کے برعکس، انتظامی اکائی بنیادی طور پر ریاست کے علاقائی انتظام کی تنظیمِ نو ہوتی ہے۔ دونوں کے آئینی مضمرات الگ ہیں اور ان کے مقاصد بھی مختلف ہیں۔
لہٰذا پاکستان میں جاری بحث کو اس مفروضے سے آگے بڑھنا ہوگا کہ موجودہ صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے سے وفاقیت کا عدم توازن ختم ہو جائے گا۔ اگر مقصد وفاق کو مضبوط بنانا ہے تو گفتگو نئی وفاقی اکائیوں کے قیام پر ہونی چاہیے، نہ کہ موجودہ مرکزی انتظامی ڈھانچے کے تحت محض انتظامی تقسیم پر۔
اسی طرح نئی وفاقی اکائیوں کا قیام بلدیاتی اصلاحات کو مؤخر کرنے کا جواز بھی نہیں بننا چاہیے۔ ہر وفاقی اکائی میں بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کیے جائیں، جنہیں قابلِ پیش گوئی مالی وسائل، حقیقی انتظامی اختیارات اور جمہوری جواب دہی کا نظام میسر ہو۔ بصورتِ دیگر اختیارات اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومتوں اور موجودہ صوبائی دارالحکومتوں سے نئے دارالحکومتوں تک تو منتقل ہو سکتے ہیں، لیکن عوام تک نہیں پہنچیں گے۔
اصلاحات کا راستہ واضح ہے: وفاقیت کے بحران سے نمٹنے کے لیے سول سروس کی تشکیلِ نو اور پیشہ ورانہ اصلاحات کی جائیں؛ طرزِ حکمرانی کے بحران کے حل کے لیے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات بلدیاتی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں؛ اور جہاں اس کی آئینی و سیاسی ضرورت موجود ہو، وہاں نئی وفاقی اکائیاں قائم کی جائیں۔
ریپبلک پالیسی اپنی کتاب Beyond Four Provinces: Why Pakistan Needs Federal Units, Not Administrative Units میں اسی فرق کو مسلسل اجاگر کرتی رہی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کو محض انتظامی حدود کی نئی تقسیم نہیں بلکہ اپنے وفاقی ڈھانچے پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہے، تاکہ اختیارات کے ارتکاز کا بنیادی مسئلہ برقرار نہ رہے۔
ملک کو اس بحث کی ضرورت ہے جو آئینی ڈھانچے، ادارہ جاتی صلاحیت اور جمہوری جواب دہی کی بنیاد پر آگے بڑھے، نہ کہ محض سیاسی اعلانات اور نقشوں پر نئی لکیریں کھینچنے تک محدود رہے۔
پاکستان کو مرکزیت کے نئے مراکز نہیں، ایک مضبوط وفاق، پیشہ ور سول سروس اور بااختیار بلدیاتی حکومتیں درکار ہیں۔ وفاقیت اور طرزِ حکمرانی کے بحران میں فرق کو سمجھنا ہی بامعنی اصلاحات کی پہلی شرط ہے۔
کتاب حاصل کرنے کے لیے: Beyond Four Provinces: Why Pakistan Needs Federal Units, Not Administrative Units
واٹس ایپ: 0341-4222501
سلائیڈ شو
سلائیڈ 1 — دو بحران، دو حل
پاکستان کو وفاقیت اور طرزِ حکمرانی کے دو الگ بحرانوں کا سامنا ہے، جن کے حل بھی الگ ہیں۔
سلائیڈ 2 — وفاقیت کا بحران
مرکزی نوعیت کا بیوروکریٹک ڈھانچہ وفاق اور اس کی اکائیوں کے درمیان اختیارات کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔
سلائیڈ 3 — طرزِ حکمرانی کا بحران
سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کا ارتکاز مقامی سطح پر جمہوری حکومت کو کمزور کرتا ہے۔
سلائیڈ 4 — بلدیاتی حکومت کی اہمیت
نئی انتظامی حدود بااختیار بلدیاتی اداروں اور حقیقی اختیارات کی منتقلی کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔
سلائیڈ 5 — وفاقی اکائیاں، انتظامی اکائیاں نہیں
نئی وفاقی اکائیوں کا قیام آئینی معاملہ ہے، محض انتظامی تنظیمِ نو نہیں۔
سلائیڈ 6 — اصلاحات کا عملی راستہ
سول سروس کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کریں، وفاق کو مضبوط بنائیں اور اختیارات و وسائل بلدیاتی حکومتوں تک منتقل کریں۔
سلائیڈ 7 — ریپبلک پالیسی کا مؤقف
Beyond Four Provinces: Why Pakistan Needs Federal Units, Not Administrative Units — پاکستان کے وفاقی ڈھانچے پر ایک اہم بحث۔
ریپبلک پالیسی | طرزِ حکمرانی، ادارے، عوامی پالیسی









