پاکستان کا معاشی بحران، وجوہات اور اصلاح کی سمت

[post-views]
[post-views]

نوشین رشید

پاکستان کی معیشت اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی اور روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ یہ کئی دہائیوں سے جاری غلط پالیسیوں، بدانتظامی اور سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ معیشت کی بگڑتی ہوئی حالت نہ صرف عوام کے معیارِ زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ ریاستی خودمختاری اور پالیسی آزادی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

پاکستان کی معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ ساختی مسائل ہیں۔ ہماری معیشت پیداوار پر مبنی نہیں بلکہ درآمدات پر انحصار کرتی ہے۔ زراعت اور صنعت — دونوں شعبے جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں — بدحالی کا شکار ہیں۔ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان، پانی کی قلت، غیر منصفانہ منڈی نظام اور زمین کی غیر مساوی تقسیم کسانوں کو کمزور کر رہی ہے۔ دوسری طرف، صنعت کو توانائی بحران، ٹیکس بوجھ اور غیر یقینی پالیسیوں نے غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔ نتیجتاً، برآمدات گھٹتی جا رہی ہیں جبکہ درآمدات بڑھتی جا رہی ہیں۔

ویب سائٹ

اسی کے ساتھ ساتھ مالیاتی نظم و ضبط کی کمی نے صورتحال کو مزید بگاڑا ہے۔ حکومت کے اخراجات آمدن سے کہیں زیادہ ہیں۔ قرضوں پر انحصار اب خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ہر آنے والی حکومت پرانی حکومت کے قرضے اتارنے کے لیے نئے قرضے لیتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر بن چکا ہے جو معیشت کو ترقی کے بجائے مزید غلامی کی طرف لے جا رہا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے کٹوتیاں عوامی فلاحی منصوبوں سے کی جاتی ہیں، جس سے تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان کی ٹیکس پالیسی بھی انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ امیر طبقہ، جاگیردار، اور بڑے تاجران نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹے کاروباری افراد پر بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ ٹیکس نیٹ محدود ہے، اور ٹیکس چوری عام ہے۔ جب تک ٹیکس اصلاحات شفاف انداز میں نہیں کی جاتیں، حکومت کے پاس ترقیاتی اخراجات کے لیے وسائل دستیاب نہیں ہو سکتے۔

یوٹیوب

ایک اور بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ ہر حکومت اپنی سیاسی بقا میں مصروف رہتی ہے، جبکہ معاشی پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا۔ ایک حکومت کوئی پالیسی بناتی ہے تو اگلی حکومت اسے منسوخ کر دیتی ہے۔ اس غیر یقینی ماحول میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔ سرمایہ کار کو استحکام اور اعتماد چاہیے، جو بدقسمتی سے پاکستان میں ناپید ہے۔

پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف کے سامنے جھکنا پڑتا ہے کیونکہ ہماری داخلی پالیسی ناکام رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط وقتی سہولت تو دیتی ہیں، لیکن وہ خود انحصاری کے عمل کو ختم کر دیتی ہیں۔ ان پروگراموں میں عام طور پر سب سے زیادہ نقصان غریب طبقہ برداشت کرتا ہے، کیونکہ قیمتوں میں اضافہ، سبسڈیوں کا خاتمہ، اور سرکاری خدمات کی نجکاری عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔

ٹوئٹر

پاکستان کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ طویل المدتی اصلاحات پر عمل کرے۔ سب سے پہلے، معیشت کو پیداواری بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ زراعت میں جدید تحقیق، پانی کے مؤثر استعمال، اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات پر توجہ دی جائے۔ صنعتی شعبے کو توانائی کے سستے ذرائع اور کاروباری آسانیوں کی فراہمی کے ذریعے مضبوط بنایا جائے۔

دوسرا، مالیاتی نظم قائم کرنے کے لیے حکومتی اخراجات کو محدود اور غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ سرکاری اداروں میں کارکردگی اور شفافیت بڑھانے کے لیے سخت احتسابی نظام ناگزیر ہے۔

تیسرا، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ تعلیم اور صحت کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہیں۔ اگر پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرے تو یہی آبادی اس کے لیے طاقت بن سکتی ہے۔

آخر میں، سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی معاشی اصلاح ممکن نہیں۔ تمام سیاسی قوتوں کو معیشت کو سیاست سے الگ رکھنا ہوگا۔ قومی ایجنڈا صرف ایک ہونا چاہیے — پائیدار ترقی، خود انحصاری، اور عوامی خوشحالی۔

پاکستان کے پاس صلاحیت، وسائل، اور انسانی سرمایہ سب کچھ موجود ہے۔ ضرورت صرف نیت، نظم و ضبط، اور مشترکہ وژن کی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی سمت درست نہ کی تو معیشت کا بحران قومی سلامتی کے بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔

فیس بک

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos