Premium Content

Add

“!پیر،فقیر اور لکیر”

Print Friendly, PDF & Email

تحریر:       ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں۔

کچھ لوگ فقیر ہوتے ہیں،کچھ پیر ہوتے ہیں،کچھ پیر فقیر ہوتے ہیں توکچھ لکیر کے فقیر ہوتے ہیں جبکہ بعض فقط آخیر ہوتے ہیں۔ چند لوگ رٹی رٹائی تقریرہوتے ہیں توکچھ لوگ اپنے حالات کی زندہ تصویر ہوتے ہیں۔ بعض لوگ کسی کے اسیر تو بعض کسی کی جاگیر ہوتے ہیں۔ بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کئی لوگ کاتب تقدیرکی ایسی تحریر ہوتے ہیں جس کا ایک لفظ بھی پڑھانہیں جاسکتا۔مگر محسوس سرتاپا کیا جا سکتا ہے۔

          فانی انسان لافانی ہونے کیلئے کیاکچھ نہیں کرتا۔ کبھی ریاضتوں کے کشٹ اُٹھاتا ہے تو کبھی سازشوں کے جال بنتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتاکہ خالق کائنات کی طرف سے اُس کو ابدیت حاصل ہوچکی ہے۔ مالک ارض وسماہماری روحوں سے عہد الست لے چکا ہے۔اس عہد کی تحریر انمٹ ہے۔ روح کوجسم پر فوقیت بھی حاصل ہے اور اولیت بھی۔

          روح پہلے بنی پھر اس کو جسم کاپیرہن عطا کیاگیا۔ہرانسان کی روح اللہ پاک سے جو عہدکرچکی ہے اس کیلئے جواب دہ ہے۔ جب جسم مٹی میں مل جائے گاتو روح کی جواب دہی کامرحلہ آئے گا۔ روح اللہ کا امر ہے۔ انسان کی بدقسمتی ہے کہ وہ اللہ کے امر پر توجہ دینے کی بجائے ساری زندگی اپنے جسم کابھرم بناتا رہتا ہے۔ جسم کا بھرم جب ٹوٹتاہے تو انسان فقیر بن جاتا ہے،پیربن جاتا ہے یایہ بھرم قائم رکھنے کی خاطر لکیر کا فقیر بنا رہتاہے۔انسان کامقدریا تو خاک ہونا ہے یا جیتے جی خاک ہوکراتناپاک ہوناہے کہ دامن نچوڑ دے تو فرشتے وضوکریں۔

          پیر اور فقیر کے درمیان اصل لکیر تو تقدیر کھینچتی ہے۔کچھ لوگ لکیر کے فقیر ہوتے ہیں تو کچھ پیدائشی فقیر ساری زندگی امیرہونے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں مگرغربت کی لکیر پار نہیں کر سکتے اس سلسلے میں وہ ہرپیرفقیر کے پاس جا کر اپنی قسمت آزماتے ہیں اورعموماًجوکچھ اُن کے پاس ہوتا ہے وہ بھی گنواتے ہیں۔”اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی“ کے مصادق اکثر افراد پیشہ ور لوگوں کے ہاتھوں زندگی کی رونقوں سے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ فقیر منش ہوتے ہیں تو کچھ لوگوں کا منش دوسروں کو فقیر بنانا ہوتاہے۔بدقسمتی سے فقیر منش لوگ ختم ہوتے جارہے ہیں۔جن لوگوں کامنش او رمشن دوسروں کو فقیر بنانا ہے ان کی دن بدن تعدادبڑھتی جارہی ہے ایسے لوگوں کے اتحاد کو ملٹی نیشنل کمپنی کہا جاتا ہے۔انڈیا کو اگر ایسٹ انڈیا کمپنی کی کمپنی نہ ملتی تو ہمارے ہاں لوگ شایدپیرہوتے فقیر نہ ہوتے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

          کچھ لوگ اتنے پارسا نظر آتے ہیں کہ ساری دنیا انہیں پیر سمجھتی ہے مگر خالق کائنات کی ذات جانتی ہے کہ وہ پیر نہیں ”پیڑ“ ہوتے ہیں۔”پیڑ“کا لفظ سرائیکی زبان میں ایسے درد کیلئے استعمال ہوتا ہے جو شدید ہواوربندے کی جان عذاب میں ڈال دے۔ ان پیرنما پیڑوں کامقصدلوگوں کو بے وقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کسی مفکر نے ایسے ہی افراد کے بارے میں کہا تھا کہ جب تک دنیا میں ایک بھی سادہ دل انسان زندہ ہے اُس وقت تک کوئی مکار بھوکانہیں مرسکتا۔ سب سے بدترین انسان مذہب کی تجارت کرنے والا ہوتا ہے۔ پیر تو ایک ایسے ”پیڑ“ کی مانند ہوتا ہے جس کی چھاؤں میں ہر مذہب اور ملت کے لوگ سکون پاتے ہیں مگر یہاں کچھ لوگ پیری کے نام اپنے ہی مذہب و ملت کے لوگوں کا سب کچھ لوٹ کھاتے ہیں۔ عمر بھر یہی ڈھونگ رچاتے ہیں اور کبھی باز نہ آتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ جہنم کی آبادی بڑھاتے ہیں۔ جس کو ہم درد ہوناچاہیے اگروہی درد بن جائے توسادہ دل بندے کہاں جائیں۔ علامہ اقبال کو بھی کہنا پڑا کہ مرید کے گھر میں مٹی کا دیا تک میسرنہیں اور پیر کا گھر بجلی کے چراغوں سے روشن رہتاہے۔ بہت سے پیروں کے گھر وں کے چراغ مریدوں کے لہو سے جلتے ہیں توبہت سے پیر غریب گھرانوں کیلئے ہدایت کاچراغ بھی ہوتے ہیں اورزندگی کاسراغ بھی۔

          بعض اوقات بندہ ایک جہان کیلئے پیر ہوتا ہے مگر کسی ایسی ذات کا اسیر ہوتا ہے جس کیلئے صرف رسم ورواج کامان دل پذیرہوتا ہے۔سماج نے رسم ورواج کی ایک ایسی لکیر کھینچ رکھی ہے جوایک ایسے پتھر کی مانند ہے جس کو سرکاتے سرکاتے کئی لوگ خودپتھر ہوجاتے ہیں تو کئی لوگ پتھر کے ہوجاتے ہیں۔سماج کی بات پتھر پرلکیر ہوتی ہے کوئی اپنے آپ کو کامیابی کیلئے ہاتھ کی لکیر کامحتاج نہیں سمجھتا تو کسی کے ہاتھ پر کامیابی کی لکیر ہوتی ہی نہیں۔کسی کے ہاتھ میں کامیابی کی لکیر نہیں ہوتی تو کوئی اپنے آپ کو کامیابی کے لیے ہاتھوں کی لکیروں کا محتاج نہیں سمجھتا۔یہ لکیر بناتے بناتے جذبے مٹ جاتے ہیں پیری آجاتی ہے مگر یہ فقیری نہیں جاتی۔کچھ لوگ خود پتھر کے ہوتے ہیں تو کچھ لوگوں کی بات پتھر پر لکیر ہوتی ہے۔

          زندگی کی ہرگھڑی بہت کڑی ہے مگرفقیری کی چاہ میں اگرپیری آجائے اوربندہ نفس کی لکیرپہ اپنے اعمال سے کچھ بھی تحریر نہ کرسکے توانسان اپنی زندگی نہ جیابس لکیر کا فقیر رہا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1