Premium Content

Add

پولیس فورس میں جرائم کی شرح

Print Friendly, PDF & Email

اگرچہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بدانتظامی پاکستان کے لیے انوکھی نہیں ہے، لیکن یہ بتانا بعید از قیاس نہیں ہوگا کہ ہماری پولیس فورس میں جرائم کی شرح ریکارڈ سطح پر ہے۔ نتیجے کے طور پر، لوگ  پولیس کو اپنا محافظ نہیں سمجھتے  بلکہ پولیس فورس سے خوفزدہ دکھائی دیتےہیں۔ پریشان کن رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ حفاظتی اقدام – بغیر لائسنس ڈرائیوروں کے خلاف مہم – کو بھی پنجاب پولیس نے ہتھیار بنا دیا ہے۔ لاہور کے ٹریفک وارڈنز روزانہ 50 سے 100 نوجوان سواروں اور ڈرائیوروں کو سلاخوں کے پیچھے بھیج رہے ہیں، جن میں طالب علم موٹر سائیکل سوار بھی شامل ہیں ۔ اگرچہ یہ عمل ملک بھر میں جانا پہچانا ہے، لیکن نوجوان اور کم عمر سواروں کو سخت مجرموں کے ساتھ حراست میں لینا، انہیں جرم اور بدسلوکی کا شکار بنا کر رکھنا، ایک متضاد پہلو ہے۔ متاثرین اور ان کے والدین کا یہ بھی الزام ہے کہ ٹریفک پولیس تھانوں اور وکلاء کی ملی بھگت سے ’سفر کے اخراجات‘ کی فیس کے طور پر بھاری رقم لیتی ہے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

واضح طور پر، وہ دن گئے جب رشوت دینا روز کا معمول تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس کی زیادتیاں اب منظر عام پر آجاتی ہیں ،جو کہ پولیس میں احتساب کی کمی کا بتاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اس طرح کی سرگرمیاں قانون نافذ کرنے والوں اور حکومت سے بڑے پیمانے پر مایوسی کو فروغ دیتی ہیں کیونکہ طاقت کے غلط استعمال سے بچنے کے لیے چیک اینڈ بیلنس ہونا ضروری ہے۔ پولیس کے درجہ بندی میں بھی ایک ایسی فورس بنانے کی ضرورت ہے جونہ صرف شہریوں کی خدمت اور حفاظت کرتی ہو بلکہ پولیس کی ناانصافیوں کی مخالفت کرتی ہو۔ دوسرا، سڑکوں پر حفاظت کو جرمانے، وارننگ، چالان، گاڑیوں کو ضبط کرنے اور بغیر لائسنس ڈرائیوروں کی رہائش گاہوں کو نوٹس جاری کرنے سے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ تیسرا، ان اقدامات کے ساتھ ساتھ، فورس کے اندر جانچ پڑتال اور مجرم افسران کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہونی چاہیے۔ مزید برآں، پولیس کی بدعنوانی اور بے حسی کے خلاف شکایات کے اندراج کے لیے ہیلپ لائن  ہونی چاہیے تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ آخر میں، ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پولیس اہلکار جرائم کے ارتکاب کے لیے اختیار ات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کیوں کرتے ہیں ۔ ایسے افسران جو اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں  ، اُن کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے ورنہ ایماندار افسران پر کالی بھیڑیں چھائی رہیں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1