پاکستان کا عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) انیس سو پچاس کی دہائی سے ملکی مالیاتی نظام کا حصہ چلا آ رہا ہے۔ اس کی مسلسل بقا خود ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے۔ یہ پروگرام ایسے دور میں تشکیل دیا گیا تھا جب نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی اور ریاستی سرمایہ کاری کو قومی ترقی کا بنیادی ذریعہ تصور کیا جاتا تھا۔ اس کا مقصد شاہراہیں، جامعات، سرکاری عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرکے معاشی ترقی کی بنیاد رکھنا تھا۔ تاہم سات دہائیوں کے بعد یہ سوال اپنی پوری اہمیت کے ساتھ موجود ہے کہ کیا پی ایس ڈی پی واقعی پاکستان کی معاشی ترقی کا مؤثر محرک ثابت ہوا ہے؟ دستیاب شواہد اس دعوے کی واضح تائید نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، ترقیاتی منصوبوں کا ایک بڑا حصہ سیاسی مفادات، حلقہ جاتی ترجیحات اور وسائل کی غیر مؤثر تقسیم کی علامت بن چکا ہے۔
ملک بھر میں ہزاروں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے۔ کھیلوں کے میدان، ہوائی اڈے، جامعات، سرکاری عمارتیں اور متعدد دیگر منصوبے تعمیر ہوئے، مگر ان میں سے بڑی تعداد یا تو اپنی حقیقی استعداد سے بہت کم استعمال ہو رہی ہے یا مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ منصوبوں کی تکمیل کے بعد ان کی معاشی افادیت، پیداواری نتائج، سماجی اثرات اور دیکھ بھال کا باقاعدہ جائزہ لینے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ ترقیاتی بجٹ کا بیشتر حصہ نئی تعمیرات پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ موجودہ اثاثوں کی نگہداشت، معیار میں بہتری اور کارکردگی کے جائزے کو ثانوی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ یوں ترقی کا تصور محض تعمیراتی سرگرمیوں تک محدود ہو جاتا ہے، حالانکہ حقیقی ترقی کا تعلق معاشی پیداوار، انسانی فلاح اور ادارہ جاتی مضبوطی سے ہوتا ہے۔
سیاسی نظام میں پی ایس ڈی پی کو اکثر حلقہ جاتی ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ترقیاتی اسکیمیں عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی ترجیحات کے مطابق شامل کی جاتی ہیں، جبکہ مختلف مشاورتی ادارے اور مفاداتی گروہ نئی اسکیموں، نئی اتھارٹیز اور نئے منصوبوں کی حمایت کرتے رہتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں وسائل کی تقسیم کارکردگی اور قومی ترجیحات کے بجائے سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر ہونے لگتی ہے، جس سے مالیاتی نظم و ضبط اور ترقیاتی منصوبہ بندی دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
جدید معاشی نظریات اس سے مختلف سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اکیسویں صدی کی کامیاب معیشتوں نے صرف عمارتوں اور سڑکوں پر انحصار نہیں کیا بلکہ انسانی سرمایہ، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، اختراع، ڈیجیٹل معیشت اور مضبوط اداروں میں سرمایہ کاری کو اپنی ترقی کی بنیاد بنایا۔ ایسے ممالک نے ایسے نظام تشکیل دیے جنہوں نے مسلسل پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا، نئی صنعتوں کو فروغ دیا اور علم پر مبنی معیشت کو مستحکم کیا۔ اس کے مقابلے میں صرف تعمیراتی منصوبے، اگر وہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہ کریں، تو قومی وسائل پر ایک مسلسل بوجھ بن جاتے ہیں۔
پاکستان کو اب یہ بنیادی سوال سنجیدگی سے زیرِ غور لانا ہوگا کہ کیا ترقی کا معیار اب بھی صرف نئی عمارتوں، سڑکوں اور منصوبوں کے افتتاح سے وابستہ رہے گا، یا اسے معاشی پیداوار، انسانی ترقی، ادارہ جاتی اصلاحات اور قومی مسابقت سے جوڑا جائے گا؟ اگر ترقیاتی منصوبہ بندی کا موجودہ ماڈل اپنی معاشی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے تو اس پر نظرِ ثانی ناگزیر ہے۔ حقیقی ترقی کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست وسائل کو ایسی سرمایہ کاری کی طرف منتقل کرے جو دیرپا معاشی نمو، انسانی استعداد میں اضافہ اور قومی خوشحالی کو یقینی بنا سکے۔ بصورتِ دیگر پی ایس ڈی پی ایک ایسے نوآبادیاتی ورثے کی صورت میں برقرار رہے گا جو تعمیر تو بہت کرتا ہے، مگر ترقی کم پیدا کرتا ہے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب “دی بیوروکریٹک کو” سمیت تمام معروف کتابیں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر نمایاں کتاب فروشوں کے پاس دستیاب ہیں۔
گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542









